عاطف میاں کے ’حامیوں‘ کے نام
08 ستمبر 2018 2018-09-08

وہ دانائے سُبل ، ختم الرسل ، مولائے کُل ، خاتم النبین، ہادیءِ مساکین ،رحمت اللعالمین ، سرور دوجہاں ، تاجدارِ کون ومکاں،امام الابنیا، وارثِ شہدائے کربلا ، وارثِ امت المسلمین ،ہادی ء برحق ، وہ آمنہ بی بی کے بطن سے ارض وسماء کو خوشبووں سے معطر کرنیوالا ، وہ کافرومسلم کے دلوں میں اپنی دیانت سے گھر کرنے والا ، دشمنوں کو شفقت سے شیروشکر کرنے والا ، وہ جس کے آنے سے قیصروکسریٰ کے محلوں کے درودیوار ہل گئے ، وہ جس کے جانے سے نبوت کے در ہمیشہ کے لئے سِل گئے ،وہ دُرِیتیم ، حامیءِ مسکین ، غریبوں کا والی ، غلاموں کا مولا ، محبوبِ خدا ، محمدمصطفےٰ ، نبی آخرالزماں ، سردارِ دو جہاںؐ، وہ جن کے ہونے سے ہم اور جن کے ہونے سے یہ کُل کائنات ہے ان پہ لاکھوں ، کروڑوں درود وسلام! ورنہ ہماری اوقات کیا کہ ہم دنیا و آخرت میں کسی درجے میں گنے تک بھی جا سکیں۔بعدازسلام !ناچیز براہ راست عاطف میاں کے حامیوں سے مخاطب ہونے سے پہلے قادیانیت کی تاریخ اور آئین پاکستان کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہے کیونکہ بات دلیل سے ہو تو ہی بات بنتی ہے۔ذرا ایک لمحے کومنظر کشی کیجئے ، اُنیسویں صدی کا ہندوستان،برطانوی استعمار کا آسیب کی مانند چارسُو پھیلاو ، اور مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی مچلتی ہوئی خواہش ، لیکن المیہ یہ ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی میں سب شامل ہونے کے باجود۔۔ خراج صرف اداکیا توبس مسلمانوں نے ادا کیا ،علمائے کرام کا سرعام قتل کیا گیا ،انہیں درختوں کے ساتھ الٹا لٹکا کر زندہ جلا یا گیا۔لیکن کوئی انہیں جہاد سے نہ روک سکا ۔ ایسے میں برطانوی محقق ولیم ولسن ہنٹر(William Wilson Hunter)یہ کہتا رہا کہ اسلام کا تصورِ جہادبرطانوی راج کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وقت گزرتا رہا اور اسلامی نظریاتی اساس پر حملے شروع ہوتے چلے گئے ، ان حالات میں برطانوی سامراج کا سب سے بڑا ہتھیارایک ایسا شخص بنا جس کا تعلق ’قادیان‘ سے تھا۔ اس شخص کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا اور یہ 1839ء میں پیدا ہوا ۔اس شخص نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز ایک مناظر کے طور پر کیا ،’ دعوی ءِ مجدد‘ اور’ دعوی ء مہدیءِ منتظر‘ سے ہوتے ہوئے اس نے یہ دعوی کر دیا کہ وہ ’مسیحِ موعود‘ ہے۔ بعدازاں موصوف نے نبوت کا دعوی بھی داغ دیا ۔اس شخص کی خام خیالی تھی کہ موصوف کی نبوت نعوذوباللہ نبی آخرلزماںؐ سے افضل اور بہتر ہے۔موصوف کے تشکیل کردہ دین کے مطابق ہر مسلمان کافرہے تاوقتِ کہ وہ قادیانیت میں داخل نہ ہوجائے ۔ یہ انیسویں صدی کے نصف کا دور تھا ، تحریک آزادی کے ساتھ ساتھ تحریک ختم نبوت بھی زور پکڑنے لگی ، مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی تو جیدعلماء نے قادیانیوں کو دین اسلام کے نقب زن قراردیا ۔اب بات پاکستان بننے کے بعد کی ہے ، تحریک پاکستان کی کامیابی کے بعد 1949 ء میں قراداد پاکستان کی متفقہ منظوری کے ساتھ لفظ’ مسلمان‘ کی Definition بھی واضح کردی گئی جس کے مطابق عقیدہِ ختم نبوت پر ایمان مسلمانیت کے لئے شرطِ اول قرارپائی۔اس کے باوجود پاکستان کے بااثر قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ فتنہ روز بروز جڑ پکڑتا گیاجس کے سدباب کے لئے 1953ء میں پاکستان میں بالخصوص اور عالمی سطح پر بالعموم ’مجلس تحفظ ختم نبوت ‘ کا قیام عمل میں لایا گیا اس مجلس کے پہلے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے، اس تحریک کا ایک ہی مقصد تھا کہ مذہبِ قادیانیت اور اس کے ماننے والوں کو آئینی سطح پر دائرہ اسلام سے خارج قراردیا جائے، یہ تحریک کوئی معمولی تحریک نہ تھی ، اس تحریک کے دوران سینکڑوں مسلمانوں نے ناموس رسالت پر اپنی جانیں نچھاور کیں ، ابتدائی دنوں میں پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ خان کو کامیابی ملی لیکن لوگ مایوس نہ ہوئے اور تحریک کی روانی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا چلاگیا ،یہاں تک کہ 7ستمبر1974 ء کوقادیانی مرزا ناصر محمود پاکستانی پارلیمنٹ میں تیس گھنٹے تک جاری رہنے والے مباحثے میں شیخ مفتی محمود کے دلائل کے سامنے چاروں شانے چت ہوگئے اور پارلیمان نے باضابطہ طور پر قرارداد منظور کی کہ قادیانی غیرمسلم اقلیت اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔26اپریل1984ء کوایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مرزائیوں کو مسلمان کہلانے ،آذان دینے ،اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے اور شعائر اسلامی کے استعمال سے روک دیا گیا ، لانبی بعدی ولا امت بعدکم۔ یعنی میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی امت نے آنا ہے ۔نبی علیہ الصلواتہ والسلام کے فرمان پر ایمان اور ختم نبوت پر یقین امت مسلمہ کاچودہ سو سالہ عقیدہ ہے، اس بات کا اندازہ اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادتوں کی تعداد سے لگا لیجئے ، پورے اسلام کے دفاع کے لئے شہادتوں کی تعداد259جبکہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ایک ہی جنگ میں بارہ سو صحابہ کرام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔یہ کوئی معمولی تحریک نہیں۔یہ تحریک تحفظِ ناموس رسالت ہے ، جو کل بھی زندہ باد تھی اور آج بھی زندہ باد ہے ، قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ۔

’محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبراور نبیوں کی مُہر ہیں ۔ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ القرآن

ایک حدیث پاک کے مطابق حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیا ء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ۔لوگ اس کے گرد گھومنے اور عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی ! آپ نے فرمایا ، میں وہی اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا یعنی خاتم النبین ہوں ۔ (صحیح بخاری)

جس تحریک کو عالمی تحریک بننے اور جس تحریک کے ثمر کے ذریعے قادیانیوں کے خلاف قانون پاس ہونے میں اتنی جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے ہوں اس معاملے پر مسلمان کیسے سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ تحفظ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور عاطف میاں کی بطور ماہر معاشیات و اقتصادیات تقرری اور بعدازاں برطرفی سے تمام پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔یہ مغرب کا ایجنڈا ہے کہ وہ آئین ِ پاکستان کے منکرین کو اس ملک پر مسلط کرکے ہم اور ہمارے ایٹمی اثاثوں سمیت ہمارے دینی خزانوں کو تہہ تیغ کرنا چاہتاہے۔ وہ تمام احباب جو عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے علیحدگی پر’ آئین اسٹائین ‘کی طرح اپنی ’بے پر‘کی توجیہات پیش کر رہے ہیں ۔ ان سے محض اتنا کہنا ہے کہ اگر آپ کو دین کاعلم نہیں تو دینی معاملات پر طبع آزمائی کے بجائے خاموشی اختیا ر کیجئے ، اسی میں آپ کی بہتری ہے ورنہ ناں تو دنیا کے رہیں گے اور نہ دین کے ۔اب ذرا دلیل ملاحظہ کیجئے۔ آئین ِ پاکستان کے مطابق پاکستان ’اسلامی جمہوریہ ‘ہے ۔یہ وطن دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ۔ اور دو قومی نظریے کی روشنی میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن ناگزیر ہو چکا تھا۔قرارداد پاکستان کے ساتھ مسلمان کی پیش کی جانے والی تعریف یعنی Definitionکے مطابق ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ جو دائرہ اسلام سے خارج ہے وہ آئین پاکستان کے مطابق غیرمسلم ہے۔اور وہ جوختم نبوت کا منکرہے وہ آئین پاکستان کا بھی منکر ہے اور اس کا برملا اظہار قادیانی پیشوا کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔ تو منکرِ آئین پاکستان کو آپ پاکستانی اور پاکستان کا ہمدرد کیسے کہہ سکتے ہیں ۔یہ سچ ہے کہ پاکستان میں غیرمسلموں اور اقلیتیوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا مسلمانوں کا ۔ لیکن صرف اُس صورت میں ،جب وہ اپنے آپ کو اقلیت یا غیرمسلم تسلیم کریں ۔ قادیانیوں کے معاملے میں حقیقت یکسر مختلف ہے۔ یہ لوگ وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان

پڑھتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اقلیت نہیں بلکہ مسلمان کہلواتے ہیں، یہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا برتر فرقہ ظاہر کرتے ہیں ۔جبکہ شعائر اسلام سے وابستہ تمام مکاتب فکر اگر کسی ایک بات پر متفق ہیں تو وہ معاملہ’ تحفظ ختم نبوت‘ ہے ۔جب قادیانی اپنے آپ کو اقلیت یاغیر مسلم کہلوانے کی جسارت نہیں کرتے تو آپ کو بطور مسلمان ان سے کیسے ہمدردی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے ختم نبوت کے معاملے پر مسلمانوں کے دین پر نقب زنی کی ہے۔ اور سب سے بڑھ کریہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مطابق ’ جو مسلمان ختم نبوت کا نعوذوباللہ انکار کرتے ہوئے قادیانیت میں داخل نہیں ہوجاتا اسے مسلمان نہ سمجھا جائے ‘ ۔ مسلمانو ! کیا تم ایسے شخص کو اپنے اوپر مسلط ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہو جو تمہارے نبی کو آخری نبی نہ مانتا ہو ۔ اور اپنے عقیدے پر عدم پیروی کی صورت میں تم کو بھی مسلمان نہ مانتا ہو ۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں پارسی ، ہندو ، عیسائی اور کسی بھی مذہب یا اقلیت سے وابستہ شخص تو قابل قبول ہے لیکن دین ابراہیمی پر نقب لگا کر اپنی دکان چمکانے والے کو چاہے وہ کتنا قابل ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ قوم تسلیم نہیں کر سکتی۔ ہمیں دین اسلام کا کاونٹرفیٹ

(Counterfiet)نہیں چاہیے ۔اب جو لوگ ان موصوف کی حمایت کا دم بھر رہے ہیں ۔ ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے عقیدے کا لٹمس ٹیسٹ کرالیں ۔دین اتنا آسان ہوتا تو مرتد کے قتل کا حکم نہ دیا جاتا ۔جسے مرزائیت ورثے میں ملی ہو اس پر تو رحم کیا جا سکتا ہے لیکن عاطف میاں صاحب نے کچھ عرصہ قبل تمام تر ہوش و حواس میں مرزائیت کو بطور مذہب اختیا رکیا تھا۔اور وہ مرزائی سے زیادہ مرتد کے زمرے میں آتے ہیں ۔اور مرتد کے لئے کیا حکم ہے اس سے تمام مسلمان واقف ہیں۔ اس ضمن میں لوگ حضرت عمرؓ کے مشیر خزانہ کا حوالہ دیتے ہیں جوکہ پارسی تھا۔یہ حوالہ دینے والوں سے گذارش ہے کہ نبی اکرمؐ کی حیات طیبہ یا اصحاب کرام کی زندگی سے وابستہ کوئی ایک ایسی مثال دے دیجئے جس میں کسی مرتد یا جھوٹے نبی کے پیروکار کو اپنا ساتھی یا مشیر بنایا گیا ہو۔ایسا کسی تاریخ یا تفسیر میں نہیں ملتا۔ اس لئے اس معاملے کو اتنا آسان مت جانئے۔ عقل کے ناخن لیجئے اور اپنی عاقبت کو بچایئے۔ وزیر اعظم پاکستان کی غلطی کے بعد عاطف میاں کو ہٹانے کی خبر کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔اور ترجمان پاکستان تحریک انصاف کو بھی سوچ سمجھ کر ایسی تقرری کا دفاع کرنا چاہیے ۔ کیونکہ یہ چنگاری اگر بھڑکی تو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔ اللہ تحفظ ناموس رسالت کے سپاہیوں کا حامی و ناصر ہو ، اور یاربِ پاک! تجھ سے یہی دعا ہے کہ اے الہی العالمین ، روزمحشر ہمیں اپنے حبیب پاکؐ کی شفاعت سے بہرہ مند فرما۔ امین یارب العلمین


ای پیپر