کوّے
08 ستمبر 2018 2018-09-08








کہتے ہیں جب ہلاکو خان شہید بغداد کی فصیلوں پر کھڑا چنگھاڑ رہا تھا اور تاتاری فوج کالی آندھی کی طرح اہل بغداد کی ہوا اکھیڑنے کو سر پر آن پہنچی تھی تو اس وقت معتصم باللہ کے دربار میں یہ بحث چل رہی تھی ’’کوا حرام ہے یا حلال‘‘۔ مختلف علماء اور اہل الرائے اس بحث میں شامل تھے اور اس کے حق و مخالفت میں اپنے اپنے دلائل پر زور انداز میں پیش کر رہے تھے اور خلیفہ اس لا یعنی بحث مباحثے میں یہ سننے کو تیار ہی نہ تھا کہ تباہی سر پر آن کھڑی ہے اور کوئی دیر میں شہر بغداد میں خون کی ندیاں بہنے والی ہیں۔۔۔ اور بے رحم تاریخ اس ضمن میں آخری جملے لکھتے ہوئے کہتی ہے ’’معتصم باللہ کو اپنے ہی دربار کے قیمتی قالین میں لپیٹ کر وحشی گھوڑوں کے سموں سے روند دیا گیا، دجلہ خون سے بھر گیا اور شہر بھر کو آگ لگا دی گئی تو اس وقت جلے ہوئے خاکستروں پر کوے کائیں کائیں کر رہے تھے۔ آگ کے شعلوں اور دھوئیں کے کڑوے بادلوں میں گدھوں اور کوؤں کے علاوہ اگر کچھ دکھائی دیتا تھا تو وہ وحشی منگول تھے جن کے گھوڑوں کے سموں نے شہر کو روند ڈالا تھا۔۔۔!
یہ کوے اسلامی تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں ، جنہیں ہم چاہیں بھی تو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ دور کیوں جائیں برصغیر کی تاریخ کے پچھلے تین سو برس پر ہی نگاہ ڈالیں تو ایسٹ انڈیا کو دربار جہانگیری سے حاصل ہونے والے درد کش دوا کے پہلے پرمٹ سے لے کر تقسیم ہند اور قیام پاکستان تک، ان کوؤں کی کائیں کائیں اک پکی اور مستند شدہ نحوس کی طرح ہمیں ہر مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ کبھی یہ فورٹ ولیم کی دیواروں پر پرے باندھ کر کائیں کائیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی پلاسی کے میدان میں ان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ کبھی یہ میسور کی دیواروں پر اپنی نحوست کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں اور کبھی اجڑی ہوئی دلی کے در و دیوار پر ان کے سیاہ پروں کی شائیں شائیں نظر آتی ہے۔۔۔ اور رہی قیام پاکستان کی تاریخ تو اس پر بھی جا بجا ان کے کردار کی نحوست، کائیں کائیں کی بازگشت کے کے ساتھ ہمیں یوں جا بجا دکھائی دیتی ہے کہ اقبالؒ کہہ اٹھتے ہیں :
خودی کی موت سے نیندیں شکستہ بالوں پر
قفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جزام
اور قائداعظمؒ اس کیفیت کا اظہار اس تاریخی جملے سے کرتے ہیں ’’میری جیب میں سارے کھوٹے سکے ہیں‘‘ انہی کھوٹے سکوں کو لے کر قائداعظمؒ نے قوم کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر کنارے تک پہنچایا اور انہی کھوٹے سکوں نے اپنے محسن کو اس حال میں آخری منزل تک پہنچایا کہ جس ایمبولینس میں قوم کے باپ کو ایئرپورٹ سے لایا جا رہا تھا اس کا پٹرول ختم ہو گیا اور سڑک کنارے
ایک ٹوٹی ہوئی ایمبولینس میں پڑا قائدؒ زندگی کی آخری سانسیں گنتا رہا اور کوے کائیں کائیں کرتے اس ایمبولینس پر منڈلاتے رہے۔
یہی کوئے ہماری اکہتر سالہ تاریخ کے صفحات پر اپنے سیاہ پروں کے گھمبیر سایوں کے ساتھ کائیں کائیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کوؤں نے اس ملک کا تیا پانچا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھائی، سقوط ڈھاکہ ہو یا بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریکیں، چھوٹے صوبوں کا استحصال ہو یا انہیں محرومیوں سے دو چار کرنے کی مکروہ سازشیں، مسلکی اور فرقہ وارانہ جھگڑے ہوں یا عصبیت ، اقلیتوں پر جبر ہو یا ملکی وسائل کی لوٹ مار، یہی کوے ہمیں اس ملک کے در و دیوار پر کائیں کائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی سنجیدہ مسائل کو پس پشت ڈال کر فروعات کو اس درجہ پر لے آتے ہیں کہ عوام الناس فروعات کو ہی اصل مسئلہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ٹاک شوز میں کسی فروعی معاملے پر آپس میں دست و گریباں مخالف سیاسی جماعتوں کے شرکاء جو آف کیمرہ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہوئے فاتحانہ انداز میں کہتے ہیں ’’دیکھا ہم نے کیسے انہیں بے وقوف بنایا‘‘۔ اسی روش کو لے کر میڈیا فروعات یعنی نان ایشوز کو سنجیدہ مسائل کی جگہ دیتا ہے اور کسی ایسے معاملے کو سنسنی خیزی اور ہیجان انگیزی سے آمیز کر کے اسے اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں حقیقی مسائل پس پردہ چلے جاتے ہیں اور فروعات کو ان کی جگہ پر لا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اگر اس رویے کو حالیہ حکومت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس وقت چاہے پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا یہی طرز عمل ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔۔۔ نئے وزیراعظم کے راست اقدامات کی توصیف کے بجائے کبھی ہیلی کاپٹر کو میڈیا پر سنجیدہ ایشو کی جگہ پر رکھ کر دنوں ڈسکس کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی سادگی مہم کے خلاف بودے دلائل پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نہ تو یہاں کچھ بدلا ہے اور نہ ہی بدلنے کا کوئی امکان ہے، یعنی وہی زرداری ، نواز شریف کا چورن ہے، جسے عمران خان نئے ریپر میں لپیٹ کر قوم کو پیش کر رہے ہیں اور ’’احمقوں‘‘ کو مزید ’’احمق‘‘ بنا رہے ہیں۔ نئی حکومت کے وزیروں، مشیروں کو ترازو کے پلڑے میں رتیوں، ماشوں سے تول کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کا وزن پرویز رشید، اسحق ڈار، سعد رفیق وغیرہم سے قدرے کم ہی نکل رہا ہے جبکہ دوسری جانب یہی لوگ ہیں جو زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ سے سو پرسنٹ کے قالب میں علی الاعلان بدلتا دیکھتے ہیں۔ سندھ میں چائنا کٹنگ کی بیماری ہو یا لیاری گینگ کی ایجاد، سندھی ہاریوں اور گنے کے کسانوں کا استحصال ہو، یا اداروں کی خرید و فروخت سے لے کر سینیٹ کی خرید و فروخت ، یہ کوے جیسے جرائم کے ان پہاڑوں کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔۔۔ اسی طرح نواز شریف کی وہ حکومت جس نے ملک کو قرضوں کے بوجھ سے لاد کر اسے کنگال کر دیا ہے اور اپنی مدت اقتدار میں جاتی امراء کے محلات اور وزیراعظم ہاؤس کے شاہانہ طرز زندگی / جو مغلیہ دور کی عکاسی ہے کو فروغ دیا ہے۔ جس کے وزیروں، مشیروں اور بیورو کریٹس کے کھاتے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایسٹ انڈیا کے ان لٹیرے سوداگروں سے کسی درجہ کم نہیں۔ جو برصغیر کے زر خیز میدانوں کی جانب اس لیے لپکے آتے ہیں کہ ان کے بل بوتے پر برٹش ایمپائر کے ایسے ستون کھڑے کر دیئے جائیں ، جہاں سورج بھی ڈوبنا بھول جائے۔ انہی گورے آقاؤں کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے سامنے پرچیاں پڑھ کر اپنی غلامانہ ذہنیت کا اظہار کرنے والے نواز شریف اور ان کے برادر خورد کے سیاہ کارنامے اگر کسی سے ’’ڈھکے چھپے‘‘ ہیں تو یہی فروعات پسند ہیں جنہیں کائیں کائیں کر کے منڈیر منڈیر گھومنے کی عادت ہے کہ یہ منڈیریں انہیں چونچ بھر خوراکیں مہیا کرتی ہیں جبکہ نئی حکومت کے تیور ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان بھوکی چونچوں کو تر کرنے کے موڈ میں نہیں، اسے حقیقی مسائل کے ان پہاڑوں کو دیکھنا ہے، جو قوم کے سابقہ ’’محسنوں‘‘ کی مہربانی سے اسے ورثے میں ملے ہیں۔ چنانچہ اس غرض سے نئی حکومت نے سو دن میں کچھ کر کے دکھانے کا وعدہ کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقی مسائل کو ملک و قوم کے حال و مستقبل کے تناظر میں دیکھ کر انہیں موقع دیا جاتا اور تنقید برائے تنقید کے بجائے، صحت مند تنقید کر کے یہ ثابت کیا جاتا کہ تعمیری عمل میں میڈیا، ادارے اور سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ ہیں اور اسے کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کر کے اپنا مثبت کردار پیش کر رہی ہیں۔ مگر افسوس ذاتی مفادات نے ہمیں اس قدر دیوانہ بنا دکھا ہے کہ سوائے اپنی چونچ، اپنے نوالے، اپنے پوٹے کے اور کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا۔۔۔ یہی وجہ منڈیروں پر کوے کے پرے لگے ہوئے ہیں۔ کبھی زخمی اناؤں اور برہم اداؤں پر مشتمل اپوزیشن کی شکل میں (جس کی مثال بھان متی کے کنبے جیسی ہے) کبھی ہزیمت زدہ سیاسیوں اور نیب زدہ ایلیٹیوں کی شکل میں، کبھی حکومتی خفیہ و ظاہر فنڈز سے اپنی چونچیں بھرنے والے میڈیا کی شکل میں اور کبھی سرکاری اداروں میں بیٹھ کر، سرکار کی خدمت کے نام پر لاکھوں کی تنخواہیں اور اربوں کی کرپشن سے کبھی نہ بھرنے والا پیٹ ، بھرنے کی کوشش کرنے والی بیورو کریسی کی شکل میں جو نئی حکومت کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہی ہے، اس بھوکی بلی کی طرح جس کے منہ سے موٹا تازہ چوہا چھین لیا جائے اور وہ دیواروں پر غراتی ہوئی پنجے مارنا شروع کر دے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بلیاں اور کوے آگے چل کر توانا ہوتے ہیں یا نیم جان؟ اور نئی حکومت ان سے کیسے نمٹتی ہے؟؟؟


ای پیپر