بننا پاکستان کے صدر PTI کے عارف علوی کا
08 ستمبر 2018 2018-09-08






لیجئے 4ستمبر 2018کو عارف علوی صاحب صدر مملکت کے انتخاب کے بعد جو خلائی مخلوق نے پلان بنایا تھا اس کا بڑا حصہ مکمل ہو گیا ہے۔آپ نے دیکھا اور سنا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے امریکی حکام کے نمائندوں کے جانے کے فوراً بعد جو پریس کانفرنس کی اس میں کہا کہ فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں۔ہر پاکستانی کو دعا کرنی چاہئے کہ خلائی مخلوق نے جو کھیل کھیلنا شروع کیا ہے یعنی عمران خان نیازی اور عارف علوی کو وزیر اعظم اور صدر بنوا نے کا جس کا آغاز بلوچستان سے ہوا تھا وہ اس میں کامیاب ہوں اور اس میں ملک کی بہتری ہو(گو میں ذاتی طور پر اس سے اتفاق نہیں کرتا اور سمجھتا ہوں کہ اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا)۔ عارف علوی ملک کے تیرہویں صدر بن گئے ہیں مگر بقول چوہدری اعتزاز احسن نویں صدر کیونکہ وہ چار فوجی سربراہوں کو صدر نہیں مانتے۔ موجودہ حالات کو سمجھنے کے لئے آئیے ذرا ملک کے سربراہوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں۔
پاکستان بنا تو اس کے پہلے گورنر جنرل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بنے اور نوابزادہ لیاقت علی خان وزیر اعظم بنے(یہاں یہ بات بھی نئی نسل کو بتانا ضروری ہے کہ لیاقت علی خان آئین ساز اسمبلی کے ممبر نہیں تھے اس لئے انہیں مشرقی پاکستان کے کوٹے سے آئین ساز اسمبلی کا ممبر بنایا گیا)۔
کیونکہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی کی قیادت میں پاکستان بنا تھا اور ان کی اتنی بڑی شخصیت تھی کہ ہر شخص ان کا حکم مانتا تھا اور اور ان کی دل سے عزت کرتا تھا۔دراصل یہ 1935 ا یکٹ کا تسلسل تھا ہندوستان میں انگریز جب گیا اور پاکستان اور ہندوستان کو ایک ساتھ آزادی دی تو برصغیر میں گورنر جنرل اور وزیر اعظم کا پارلیمانی نظام تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ قائد اعظم وزیر اعظم کیوں نہیں بنے گو پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم سب سے طاقتور ہوتا ہے یا وزیر اعظم لیاقت علی خان اور گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان کیسے تعلقات تھے؟بہرحال قائد اعظم جلد فوت ہو جانے کی وجہ سے اپنی زندگی میں پاکستان کو ایک آئین نہ دے سکے گو انہوں نے اپنی گیارہ اگست 1947کی تقریر میں اس کے خدو خال واضع طور پر بیان کر دئے تھے۔ بانی پاکستان قائد اعظم کی بے وقت موت کے بعد خواجہ ناظم الدین جن کا تعلق مشرقی پاکستان کے ساتھ تھا کو وزیر اعظم بنا دیا گیا اور طاقت کا مرکز وزیر اعظم لیاقت علی خان بن گئے۔نوکر شاہی کے مذموم عزائم میں لیاقت علی خان ایک رکاوٹ تھے لہذا ان کو 16اکتوبر 1951کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں قتل کردیا گیا ۔اس کی انکوائری آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔
نوابزادہ لیاقت علی کی ناگہانی موت کے بعد نوکر شاہی جو کہ اب اقتدار پر قابض ہو چکی تھی نے یہ چال چلی کہ خواجہ ناظم الدین کو وزیر اعظم بنا دیا اور ایک بیووکریٹ ملک غلام محمد جن کا تعلق پنجاب سے تھا کو گورنر جنرل بنا دیا۔اس طرح اصل اقتدار یا طاقت کا سرچشمہ ایک دفعہ پھر گورنر جنرل بن گیا۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد کابینہ کے لئے وزیر بھی نامزد کرتا تھا۔ اس نے خواجہ ناظم الدین کی وزارت کو ڈسمس کردیا اور آئین ساز اسمبلی بھی توڑ دی۔تمیز الدین جو اس وقت آئین ساز اسمبلی کے سپیکر تھے وہ عدالت میں چلے گئے اور فیصلہ آخر کار گورنر جنرل کے حق میں چیف جسٹس منیر نے دیا۔
محمد علی بوگرہ کو امریکہ سے بلا کر وزیر اعظم بنا دیا گیا ۔فیڈرل کورٹ نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ گورنر جنرل کے فیصلوں کی توثیق آئین ساز اسمبلی سے ضروری ہے لہذا راتوں رات مری میں ایک نئی آئین ساز اسمبلی بنائی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد علی بوگرہ کی وزارت میں جنرل محمد ایوب خان جو کہ فوج کے سربراہ تھے کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا(جنرل سکندر مرزاکے اصرار پر)۔گورنر جنرل ملک غلام محمد ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے تھے اور لوگوں کو گالیاں بھی دیتے تھے ہر کوئی اس سے تنگ تھا مگر کسی کو اس سے استعفیٰ لینے کی ہمت نہیں تھی آخر کار جنرل سکندر مرزا نے ان سے استعفیٰ لیا اور خود گورنر جنرل بن گیا۔1956ء کے آئین میں گورنر جنرل کی جگہ صدر کا عہدہ رکھ دیا گیا لہذا جنرل سکندر مرزا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کے گورنر جنرل اور پھر پہلے صدر بنے۔7۔اکتوبر 1958ء کو انہوں نے اپنا ہی بنایا ہوا 1956ء کا آئین ختم کردیا اور ملک میں ماشل لا لگا دیا۔ 27۔ اکتوبر 1958ء کو فوج کے سربراہ جنرل محمد ایوب خان نے سکندر مرزا کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر براہ راست قبضہ کر لیا۔27۔اکوبر 1958ء سے لیکر 25مارچ 1969ء تک فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ملک کے صدر رہے۔اس کے بعد ان ہی کے فوج کے سربراہ جنرل یحیےٰ خان نے ان کا تختہ الٹ دیا اور خود صدر بن گئے۔ان کے دور میں پاکستان دو لخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان میں فوجی شکست کے بعد انہیں فوج کے اندر سے ہی لوگوں نے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا اور اس طرح نئے پاکستان یا موجودہ پاکستان کے مرحوم ذولفقار علی بھٹو چیف مارشل ایڈمنسڑیٹر اور صدر بن گئے۔بھٹو نے ملک کو 1973ء کا آئین دیا جو کہ ایک پارلیمانی نظام حکومت تھا۔جس کے تحت وہ خود وزیر اعظم بن گئے اور چوہدری فضل الٰہی کو صدر بنا دیا(اس زمانے میں کسی من چلے نے ایوان صدر کی دیوار پر یہ لکھ دیا’ صدر کو رہا کرو‘)پھر 5جولائی 1977کو فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیا الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا لگا دیا اور بعد میں ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی۔1985ء کے انتخابات سے پہلے اس نے ایک مجلس شوریٰ بنائی۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد اس نے سندھ کے محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنا دیا ۔جس نے مارشل لا اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔ضیا نے مارشل لا تو اٹھا لیا مگر اس نے وردی نہیں اتاری اور پھر آئین میں 58/2/Bکا اضافہ کر دیا جس کے تحت صدر جب چاہئے وزیر اعظم کو ڈسمس اور اسمبلیاں توڑ سکتا تھا۔جنرل ضیا آخر کار اپنے ہی وزیر اعظم سے تنگ آگیا اور 1988ء میں محمد خان جونیجو کی حکومت کو فارغ کرکے اسمبلیاں توڑ دیں۔17۔اگست 1988ء کو جنرل ضیا الحق ایک فضائی حادثہ میں اپنے کئی رفقا کار کے ساتھ ہلاک ہو گئے اور سینٹ کے چیرمین غلام اسحاق خان ملک کے صدر بن گئے۔ 1988ء الیکشن کے بعد بے نظیر کو وزیر اعظم اور صدر اسحاق کو صدر چن لیا گیا۔جس نے پہلے بے نظیر اور بعد میں نواز شریف کی حکومتوں کو 58/2/B کے تحت ڈسمس کردیا۔پیپلٖز پارٹی کے صدر فارق لغاری نے اسی شق کے تحت بے نظیر کی حکومت کو ختم کردیا۔نواز شریف نے برسراقتدار آکر آئین سے 58/2/Bکا خاتمہ کردیا۔اس طرح وزیر اعظم بہت مضبوط ہو گیا۔نواز شریف نے آخر جسٹس رفیق تاڑر کو صدر منتخب کروا لیا۔12۔اکتوبر 1999کو فوج کے سربراہ جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا۔کچھ دیر تو اس نے تاڑر کو صدر رہنے دیا پھر بعد میں خود صدر بن گیا۔جنرل مشرف کے استعفیٰ کے بعد آصف زرداری صدر بن گئے۔جس کے زمانے میں 18ویں ترمیم پاس ہوئی۔جس سے وزیر اعظم طاقت کا مرکز بن گیا۔
اس کے بعد نواز شریف دور میں ممنون حسین صدر بن گئے اور اب پی ٹی آئی کے عارف علوی 4سمتبر2018کو ملک کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے۔صدارتی انتخاب میں ان کا مقابلہ متحدہ اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کے ساتھ تھا۔ان حالات میں عارف علوی کی فتح یقینی تھی۔
صاحب علم لوگوں کا کہنا ہے کہ سب ایک سکریپٹ کے تحت ہو رہا ہے اور ہر ایکٹر مناسب وقت پر سٹیج پر آکر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے بارے میں تو صرف اتنا کہا جاسکتا ہے There was method in madness



ای پیپر