نئے ڈیموں کی تعمیرآج کی قومی ضرورت
08 ستمبر 2018 2018-09-08



کسی بھی ملک کی معیشت کی مضبوطی و استحکام کیلئے وافر توانائی کی طرح وافر پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔زراعت کیلئے پانی کی اہمیت ہر کسی کو معلوم ہے ۔ہر محاذ پر شکست کھانے کے بعد بھارت پاکستان کیخلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ اس نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی ڈیم بنائے۔ پاکستان بھارت کی ایسی مکروہ سکیموں کیخلاف متعلقہ عالمی فورمز پر معاملات اٹھا چکا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ پاکستان میں آبی قلت پر قابو پانے کی کوششوں میں تیزی لانے کی نہایت ضرورت ہے۔
پاکستان کے پانچ بڑے دریاؤں میں سے تین کا پانی بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں سے گزر کر آتا ہے ۔ جن پر بھارت نے بند باندھ کر بارھا پاکستان کو پانی کی قلت سے دوچار کیا ہے۔ پاکستان کے پاس دریائی پانی کی بڑی قلت ہے۔ متعدد دریاؤں پر بند باندھ کر پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جو کہ بوقت ضرورت کام میں لایا جاتاہے۔ 1960 ء میں ہمارا ملک مشرق وسطی کے لئے اناج کا گھر کہلاتا تھا۔ مگر آج وہ خود اناج کیلئے دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ اس میں جہاں ایک طرف بڑھتی ہوئی آبادی کا محرک ہے وہاں پانی کی قلت بھی بڑا سبب ہے۔
حکومت نے زرعی خود کفالت اور روزگار پیدا کرنے کیلئے مزید نئے ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے جہاں ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ دور ہوگا وہاں صنعتی شعبے کیلئے بجلی کی فراوانی اور خاص طورپر نئی صنعتیں لگانے اور زراعت کیلئے زیادہ زمین مہیا کرنے سے بے روز گاری میں کمی ہوگی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے پانی کی کمی کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم ڈیم فنڈ کو چیف جسٹس ڈیم فنڈ کے ساتھ ملانے اور تمام پاکستانیوں بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں سے اس فنڈ میں رقم جمع کرانے کی اپیل کی ہے۔
بیرون ملک تقریبا 80 سے 90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور اگر سب یہ سوچ لیں کہ ہر پاکستانی ایک ہزار ڈالرز بھیجے تو ہمارے پاس یہ ڈیم بنانے کیلئے بھی پیسہ ہو گا اور ڈالرز بھی آ جائیں گے کسی سے قرض نہ مانگنا پڑے گا۔ پیسے آ گئے تو 5سال میں ڈیم کی تعمیر مکمل کر لیں گے۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ہر پاکستانی کے حصے میں 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی آتا تھا اور آج ایک ہزار کیوبک میٹر پانی رہ گیا ہے۔ ہمارے پاس پانی جمع کرنے کی صلاحیت کم ہے۔
وزیراعظم نے واضح طورپر کہا کہ ڈیم بنانا ہمارے لیے ناگزیر ہے اگر ہم ڈیم نہیں بناتے تو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک مسئلہ چھوڑ کر جا رہے ہوں گے۔ماہرین کے مطابق اگر ہم نے ڈیم نہیں بنائے تو پاکستان میں 7 برسوں میں یعنی 2025ء میں خشک سالی شروع ہوجائے گی۔ ہمارے پاس اناج اگانے کے لیے پانی نہیں ہوگا تو اپنے لوگوں کے لیے اناج نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں خدانخواستہ یہاں قحط پڑسکتا ہے۔ پانی کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے دیگر ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت صرف 30دن کی ، ہندوستان کی 190 اور مصر میں ایک ہزار دن کی ہے جبکہ محفوظ سطح 120دن ہے۔
سب سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیموں کی کمیابی اور پانی کی قلت کی طرف توجہ دلائی اور مزید ڈیمز بنانے کے لئے ایک فنڈ بھی قائم کیا جس میں اب تک اربوں روپے جمع ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیک کام شروع ہو چکا ہے اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'میں چیف جسٹس کو داد دیتا ہوں کیونکہ چیف جسٹس کا کام نہیں تھا، بلکہ یہ سیاسی قیادت اور حکومت کا کام تھا یہ مسئلہ گزشتہ 30سال سے تھا۔اب سی جے اور پرائم منسٹر فنڈ کو اکٹھا کر دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فنڈ میں اب تک 180 کروڑ روپے جمع ہوچکے ہیں۔
ملک کو ڈیم بنانے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے اور اس وقت ملک میں ڈالرز کی کمی ہے۔ یہ ڈیم پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ ساری چیزیں ایک طرف ڈیم ایک طرف ہے۔ تمام پاکستانی پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے جہاد شروع کر دیں۔
سردیوں کے موسم میں جب کہ بارشوں کی کمی ہوتی ہے تو بجلی کی پیداوار کیلئے ڈیم سے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹربائن سے گزرنے کے بعد پانی کو زرعی استعمال میں لایا جاتا ہے مگر چونکہ سردیوں میں پانی کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ضروری ہے کہ منگلااور تربیلہ سے آگے مزید ڈیم بنائے جائیں تاکہ ان ڈیموں سے آنے والا فالتو پانی یہاں پر سٹور کیا جاسکے۔
نئے ڈیموں کے علاوہ پرانے ڈیموں کی توسیع کا پروگرام بھی تکمیل تک جلد پہنچانا چاہیے۔ منگلا کی جھیل کی استعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ اس میں مٹی بھر رہی ہے جس کی صفائی بہت مشکل ہے اس لیے جھیل کی توسیع سے جہاں اس کی صفائی ہوجائے گی وہاں اس کی مجموعی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ حال ہی میں تربیلا ڈیم میں جمع ریت کو نکالنے کیلئے چین نے دنیا کا سب سے بڑا آلہ نصب کر دیا ہے۔آسٹرا نامی آلے کی لمبائی 120 میٹر ہے ،جس کی مدد سے تربیلا ڈیم میں جمع ریت کو اسٹیل پائپ سے کھینچ کر نکلا جائے گا۔ریت نکالنے میں مدد گار آلے کی تربیلا ڈیم میں تنصیب سے بجلی کی پیداوار میں 1اعشاریہ14 ملین کلوواٹ اضافہ ہو گا۔
ہمیں حقائق سے نظریں نہیں پھیرنی چاہئیں۔ بھارت نے پاکستان کے باقی ماندہ دریاؤں پر ڈیم بنانے، بیراج تعمیر کرنے، انڈر گراؤنڈ گیٹس لگا کر پانی روکنے اور دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبوں پر دن رات کام جاری رکھا ہوا ہے اور ہم جان بوجھ کر اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ پانی کی کمی کے مستقل حل کی طرف فی الفور توجہ نہ دی گئی تو دریائے بیاس، ستلج اور راوی کی طرح دریائے جہلم اور چناب میں ایک بوند پانی بھی پاکستان کی طرف نہیں آئے گا اور یہاں صومالیہ اور اتھوپیا جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جلد از جلد ان ڈیمز کے بارے عوام کے ابہام کو دور کرے اور پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیئے جتنی جلد ممکن ہو سکے ان کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔ تاکہ ملک میں پانی کی قلت کا خاتمہ ہو۔ بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور زرعی شعبہ پروان چڑھے۔


ای پیپر