Source : Yahoo

غیر ملکی قوتیں وزیراعظم عمران خان کےخلاف سازشوں میں مصروف
08 ستمبر 2018 (21:50) 2018-09-08

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنتے اور عمران خان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کے بعد سے ہی عمران خان پر خطرے کے سائے منڈلانے لگے۔ نیکٹا نے بھی عمران خان کو بارہا تھریٹ الرٹ جاری کیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو عہدے کا حلف لینے کے 22 دن کے اندر تین مخصوص تھریٹ ایڈوائزریز (Specific Threat Advisory) جاری کی گئیں۔

وزیراعظم عمران خان کو ان تھریٹ ایڈوائزریز کے بعد ہائی سکیورٹی اقدامات لینے کا مشورہ دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم کا حلف لینے کے 22 دن کے اندر پاکستان دشمن قوتوں کی افغانستان سے آپریٹ کرنے والی پراکسیزکے پاک افغان بارڈر پر کمیونیکیشن انٹرسپٹ اور ہیومن انٹیلی جنس ذرائع سے ایسی معلومات موصول ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ انٹرنیشنل پلیئرز وزیر اعظم عمران خان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ان رپورٹس کی روشنی میں تین مخصوص تھریٹ ایڈوائزریز بھی بنیں جن میں وزیراعظم کی سکیورٹی کے حوالے سے ہائی سکیورٹی اقدامات کا مشورہ دیا گیا لیکن وزیر اعظم اپنی اعلان کردہ کفایت شعاری مہم کے تحت زیادہ سکیورٹی اخراجات سے گریزاں ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے وی وی آئی پیز سے متعلق ایک درجن سے زائد تھریٹ ایڈوائزریزبنیں لیکن ان میں تین مخصوص تھریٹ ایڈوائزریز ہیں جن کا تعلق صرف وزیر اعظم عمران خان سے ہے ،، وزیراعظم کو زمینی سفر کم سے کم کرنے کا مشورہ دیا گیا اور ملک کے اندر قلیل سفر کے لئے بھی ان کو ہوائی ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشتگرد گروپس کے کمیونیکشن انٹرسپٹس کو ڈی کوڈ کرنے اور ہیومن انٹیلی جنس ذرائع کی انفارمیشن کے بعد ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ انٹرنیشنل پلیئرز نئے وزیر اعظم پاکستان کوخطے میں اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور کوئی ایسی کارروائی کر سکتے ہیں جس سے وزیر اعظم عمران خان کی جان کو نقصان پہنچ سکے۔

ان رپورٹس کی اسسمنٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بعض مغربی قوتیں ، جن کے جنوبی ایشیاءمیں بڑے مفادات ہیں، اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان خارجہ امور کے فرنٹ پر جارحانہ اقدامات اور خطے میں پاکستان سے چائنہ اور روس کا بڑھتا ہوا تعاون ،جس سے ان کی بلیک میلنگ کی سیاست کی گنجائش ختم ہو گئی ہے ایسی صورتحال میں ان کو کسی انتہائی اقدام کی تیاری رکھنی چاہئیے۔ذرائع نے بتایا ملک کے ٹاپ انٹیلی جنس ادارے وزیر اعظم کی سکیورٹی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بڑے کاونٹر انٹیلی جنس آپریشنز پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ وزیراعظم کے حوالے سے تھریٹس حقیقی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نیشنل کاونٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اب تک چھ تھریٹ الرٹ جاری ہوچکے ہیں، آخری تھریٹ الرٹ تقریب حلف برداری سے دوروز قبل جاری ہوا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کوبلیو بک کے مطابق سکیورٹی فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کو سکیورٹی لینے پر قائل کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ماہ کے دوران 25 سے زائد سرچ آپریشن کئے گئے ہیں۔ بنی گالہ، بری امام، بارہ کہو، سہالہ اور ترنول میں دوسو سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے اضافی سکیورٹی نہ لی تو یہ ان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کم سے کم سکیورٹی رکھنے اور پروٹوکول نہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن عمران خان کو جاری ہونے والے تھریٹ الرٹس نے ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں سمیت ان کے چاہنے والوں کو بھی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔


ای پیپر