خارجہ پالیسی میں پاکستان اہمیت کا حامل ہے ،چینی وزیر خارجہ
08 ستمبر 2018 (17:33) 2018-09-08

اسلام آباد:پاکستان اور چین نے دفاعی تعاون مزید بڑھانے ، دہشت گردی کےخلاف مشترکہ میکینزم بنانے،سی پیک منصوبوں اور خصوصی اکنامک زون جلد مکمل کرنے پرپراتفاق کیا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے ہفتہ کو دفتر خارجہ کا دورہ کیا، جہاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر دونوں وزرا خارجہ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ون آن ون ملاقات کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہوا۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جبکہ چینی وفد کی قیادت وزیر خارجہ وانگ ژی کر رہے تھے۔ ملاقات میں چینی وزیرخارجہ نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے حمایت کا اظہار کیا اور پاک،چین اقتصادی راہداری (سی پیک)منصوبے، ثقافتی تعاون اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔چین کی طرف سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لئے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور خصوصی اکنامک زون جلد مکمل کرنے پر بھی بات کی گئی اور علاقائی صورتحال خاص طور پر افغانستان بھی ان مذاکرات کا اہم موضوع رہا، دو طرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور اور افغان امن عمل پر بات چیت کی گئی،بھارت اور امریکہ کے درمیان "ٹو پلس ٹو" مذاکرات کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سی پیک حکومت کی اولین ترجیح اور پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔

واضح رہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی گزشتہ روز تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔نئی حکومت کے قیام کے بعد چینی قیادت کا یہ پہلا اعلی سطح کا دورہ پاکستان ہے۔وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد چینی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاک ۔ چین دوستی کو عوامی اور حکومتی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہے اور وانگ ژی پاکستان کے دیرینہ دوست ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج کے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر بات چیت ہوئی، چینی وزیر خارجہ سے غربت کے خاتمے، تجارتی تعاون بڑھانے اور برآمدات کے فروغ سمیت اہم امور پر بات کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکینزم بنانے اور چین کے ساتھ برآمدات پر سبسڈیز پر بھی بات ہوئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور چین نے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا، پاکستان پرعزم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ چینی صدر کے 'ون بیلٹ، ون روڈ' وژن کا عکاس ہے، چینی شہریوں کا تحفظ اور سی پیک کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے جبکہ پاکستان، چین کے ساتھ عالمی فورمز پر بھی مل کر کام کرتا رہے گا۔ چینی شہریوں کا تحفظ اور سی پیک کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال ہے، جبکہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات بہت مثبت رہی۔

پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں،دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط مزید بہتر بنائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کی خارجہ پالیسی میں پاکستان اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات مزید مضبوط بنانا اور باہمی تجارتی حجم میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی تعاون کا مقصد پاکستان میں تعلیم اور دیگر شعبوں کو بہتر بنانا ہے، غربت کے خاتمے اور پاکستان کی ترقی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا دونوں ممالک کے تعاون سے بیروزگاری میں کمی ہوگی، عوامی رابطوں اور دوروں سے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھےگا۔

وانگ ژی نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں، چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ عالمی معاملات پر بھی پاکستان کی مکمل حمایت کرتے رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی تعاون، باہمی اشتراک پر مبنی ہیں، چین اپنی خارجہ پالیسی کے مطابق پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا، افغانستان میں امن و استحکام کیلئے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے نومبر میں وزیر اعظم عمران خان کو دورہ چین کی دعوت دی ہے۔


ای پیپر