08 ستمبر 2018 2018-09-08

میرے عزیز ہم وطنو! دس کروڑ پاکستانیو کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔ آج صبح ہندوستانی فوج نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کیا ہے اور بھارتی ہوائی بیڑے نے وزیرآباد اسٹیشن پر مسافر گاڑی کو اپنے بزدلانہ حملے سے نشانہ بنایا ہے۔ بھارتی حکمران شروع سے ہی پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے رہے ہیں اور پاکستان کی آزاد مملکت کو بھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ پچھلے اٹھارہ سال سے وہ پاکستان کے خلاف جنگی تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صدا گونج رہی ہے۔ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہندوستان کی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ ہوجائیں۔ ہندوستان کے حکمران شاید ابھی یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایمان اور یقین محکم ہے اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ملک میں آج ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے۔ جنگ شروع ہوچکی ہے۔ دشمن کو فنا کرنے کے لیے ہمارے بہادر فوجیوں کی پیش قدمی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح افواج کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کیا ہے۔ میرے ہم وطنو آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان پائندہ باد۔
یہ الفاظ 53 برس قبل ریڈیو پاکستان سے صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کے تھے۔ یہ وہ الفاظ تھے جس نے 18 برس بعد ہجوم کی صورت چلتے ہوئی قوم کو قافلے کا روپ دھارنے کا موقع دیا۔ بلا شبہ قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو تمام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔ یہ دن فرزندان وطن سے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔
ماو¿ں سے ان کے جگر گوشے اور باپ سے اس کی زندگی کا آخری سہارا قربان کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں سروں پر کفن باندھ کر سرفروشانِ وطن رزمگاہ حق و باطل کا رخ کرتے ہیں۔ وطن کی سلامتی کو اپنی سلامتی پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں۔
کچھ جامِ شہادت نوش کر کے امر ہوجاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو، تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
یہی وہ ایام ہوتے ہیں جب قربانی کا حق ادا نہ کیا جائے جان و مال کو وطن پر ترجیح دی جائے ماں کی مامتا اپنے جگر گوشوں کو قربان کرنے سے گریزاں نظر آئے، بوڑھے باپ اپنا اور خاندان کا سہارا کھونے کے لیے تیار نہ ہوں تو وطن اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ قومیں تاریک قسم کی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
اللہ رب العزت کی بے پناہ نعمتوں میں ایک بیش قیمت نعمت آزادی ہے بولنے کی، سوچنے کی، حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی، لیکن یہ نعمت ایسے نہیں ملتی اس کے لیے بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ 14 اگست 1947 کو جو آزادی ہم نے حاصل کی اس کی کامیابی کی پہلی قیمت ہم نے 18 سال بعد 6 ستمبر 1965 کو ادا کی۔
یہ ہمیشہ یاد رکھنے والا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم زندہ ہو تو کوئی طاقت اس قوم سے اس کی آزادی کا حق نہیں چھین سکتی۔ اس دن کو تجدید عہد وفا کے طور پر منانے کا مقصد اس دشمن کے منہ پر طمانچہ ہے جو یہ سمجھتا تھا کہ وطن عزیز پاکستان زیادہ دیر تک دنیا کے نقشے پر قائم نہیں رہ پائے گا۔ لیکن پاک فوج کے پیچھے کھڑی اس قوم نے بتا دیا کہ شیر سویا ہوا بھی شیر ہی ہوتا ہے۔
اس قوم کے ہر فرد نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی بڑی فوجوں اور جدید اسلحے سے نہیں جیتی جاسکتیں بلکہ حوصلوں، پاک جذبوں سے، ایمان کی طاقت اور جواں مردی سے جیتی جاسکتی ہیں۔
دشمن کو یہ گمان تھا اور ہے بھی کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے نہیں رہے تو پاکستان بھی نہیں رہے گا۔ لیکن اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ اس وطن کی حفاظت ماو¿ں کے وہ لعل کررہے ہیں جن کو ماو¿ں نے دودھ میں جذبہ شہادت پلایا ہے۔
یہی وجہ ہے پاکستان 53 سال بعد بھی قائم و دائم ہے۔ کیونکہ جو زمین شہدا کے لہو سے سیراب ہوتی ہے بڑی زرخیز اور شاداب ہوتی ہے۔
بلاشبہ لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں لیکن اگر آپ کے وجود اور قومی سلامتی پر کوئی حملہ آور ہو تو یہ فریضے کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔
ہم نے یوم دفاع، یوم شہدا منایا۔ ہر سال کی طرح وطن عزیز کے لیے دعائیں بھی ہوئیں۔ سرکاری اور نجی سطح پر تقاریر بھی سنی گئیں۔ توپوں اور جہازوں کی سلامی سے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ دفاع وطن کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے وعدے بھی لیے گئے۔ میری نظر میں یہ یوم عہد بھی ہے۔ آج بھی پاکستان کو نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دشمن اب ایک نہیں انیک ہو چکے ہیں۔ اب جنگ کا معاملہ سرحدوں سے زیادہ داخلی نظر آتا ہے۔عالمی سامراج سے مدد لیے دہشت گرد گروہ اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ اب محاذ معاشی میدان میں لگا ہوا ہے جہاں سرخرو ہونا باقی ہے۔ جہالت کو تعلیم سے ضرب لگانے کی ضرورت ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ لسانیت، عقائد اور فرقہ واریت سے ہٹ کر پھر سے یکجان ہونا ضروری ہے۔
دشمن سے ہماری فوج غافل نہیں تو دوسری طرف اس پاک سرزمین کو اندر سے مضبوط کرنے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ کیونکہ دشمن کے پاس سب کچھ ہوسکتا ہے مگر نعرہ تکبیر کی للکار، نعرہ رسالت کی رومانیت اور نعرہ حیدری کا خمار نہیں ہوسکتا۔
پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد


ای پیپر