پاکستان میں غربت میں مزید اضافہ ہو گا
08 اکتوبر 2020 (23:16) 2020-10-08

نیویارک:عالمی بینک نے جنوبی ایشیا میں بدترین کساد بازاری کی پیش گوئی کرتے ہوئے کووڈ19کے منفی اثرات کی وجہ سے سست اور غیر یقینی معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ آئندہ دو سالوں میں پاکستان میں غربت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ اس سے قبل مالی سال 2019 تک تین سال کے دوران سالانہ اوسط 4فیصد رہی۔اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021 اور 2022 میں اوسطا 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اندازہ انتہائی غیریقینی ہے اور اس کی پیش گوئی انفیکشن میں اضافہ نہ ہونے یا وائرس کی مزید لہروں کے نہ آنے کے حساب سے کی گئی ہے کیوں کہ دوسری صورت میں مزید وسیع پیمانے پر لاک ڈائون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض پر قابو پانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے پاکستان کی معیشت شدید متاثر ہوئی، اقتصادی سرگرمیاں سکڑ گئیں اور غربت میں مالی سال 20 میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ رواں برس کے آغاز میں مالیاتی اور مالی پالیسیوں میں سختی کی گئی اور اس کے بعد لاک ڈائون نافذ کردیا گیا۔

 جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 19 کی 1.9فیصد سے کم ہو کر 2020 میں 1.5فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے جو کورونا کے پھیلا کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور وائرس سے قبل سخت مانیٹری اور مالیاتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔مقامی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ کورونا کے فعال کیسز میں کمی کے بعد لاک ڈان میں نرمی کی گئی لیکن پاکستان کی جلد معاشی بہتری کے امکانات دب کر رہ گئے ہیں، وبائی مرض کے دوبارہ پھیلا اور ویکسین کی دستیابی پر چھائی غیر یقینی صورتحال، غیر عدم توازن کو روکنے کے لیے مانگ میں کمی کے ساتھ ساتھ غیرموزوں بیرونی حالات صورتحال کی مںظر کشی کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ مالی سال 21 اور مالی سال 22 میں جی ڈی پی کا اوسطا 1.5 فیصد ہوجائے گا، مقامی سطح پر طلب اور عالمی حالات میں بہتری آنے کے ساتھ درآمدات اور برآمدات میں نتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ مالی سال 22 میں مالی استحکام کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور سنجیدہ ساختی اصلاحات کی مدد سے مضبوط آمدنی کو دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ملک کا مالی خسارہ 7.4 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔


ای پیپر