انڈیا میں ہر 16 ویں منٹ ریپ کی نئی کہانی
08 اکتوبر 2020 (21:22) 2020-10-08

نئی دہلی:بھارتی حکومت نے بتایا ہے کہ اس وقت ملک میں ہر 16 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ریپ کا شکار بن رہی ہے، جب ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔

بھارتی  نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی)کی جانب سے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد جاری کیے گئے سال 2019 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایک سال میں بھارت میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں تقریبا 8 فیصد اضافہ ہوا۔ 2019 میں بھی دارالحکومت نئی دہلی میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے سب سے زیادہ واقعات 12 ہزار 902 ریکارڈز کیے گئے۔ممبئی خواتین کے استحصال، ریپ اور تشدد کے واقعات میں 6 ہزار 519 رجسٹرڈ کیسز کیساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

 سال 2019 میں نئی دہلی میں 1213، ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں 517 جب کہ ممبئی میں 394 ریپ واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔بھارت کے 19 میٹروپولیٹن شہروں میں سب سے کم ریپ واقعات ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتا میں ریکارڈ ہوئے۔سال 2019 میں کلکتہ میں صرف 14 ریپ واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔

بھارت بھر میں ہر 16 ویں منٹ میں ایک خاتون یا لڑکی کا ریپ ہوتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت بھر میں یومیہ 88 ریپ واقعات ہوتے ہیں اور متاثرہ خواتین میں عمر رسیدہ، ادھیڑ عمر، نابالغ لڑکیاں اور انتہائی کم سن بچیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں نہ صرف ریپ واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ خواتین کے خلاف دیگر تشدد اور استحصال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

خواتین کے ریپ، تشدد اور استحصال کے حوالے سے سب سے خطرناک ریاست اتر پردیش قرار دی گئی، جہاں سال 2019 میں 59 ہزار 853 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 5 ہزار 997 کیسز ریپ کے تھے۔دوسرے نمبر پر خطرناک ترین ریاست راجستھان قرار دی گئی، جہاں سال 2019 میں 14 ہزار 550 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 3 ہزار 65 کیسز ریپ کے تھے۔


ای پیپر