”جہاں زندگی ہے فقط خورو نوش“
08 اکتوبر 2020 (12:49) 2020-10-08

پاکستانی معاشرے سے مڈل کلاس کے تقریباً خاتمے کے بعد معاشرہ دو واضح طبقوں میں تقسیم ہو چکا ہے جس میں ایک مراعات یافتہ طبقہ ہے اور دوسرا محروم اور محکوم طبقہ۔ یہ دونوں طبقے اجزائے ترکیبی کے لحاظ سے ایک دوسرے کا الٹ ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے اندر طبقاتی کشمکش کا عنصر مفقود ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک میں کب کا انقلاب آ چکا ہوتا۔ محکوم طبقہ ذہنی طور پر مراعات یافتہ طبقے کو حاکم مان چکا ہے اور یوں دونوں طبقے ایک دوسرے کے ساتھ سیٹل ہو چکے ہیں۔ لڑائی اور عناد کی کیفیت صرف اعلیٰ طبقے میں پائی جاتی ہے جو اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے باہم دست و گریبان ہیں جہاں تک نچلے طبقے کی بات ہے تو وہ غلام ابن غلام بن چکے ہیں، اسی لیے ہر الیکشن کے موقع پر بریانی کی پلیٹیں نئی قیادت کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ 

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقتدر طبقے نے یہ سوچ رکھا ہے کہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عوام کو دال روٹی اور فکر معاش میں اس طرح سے جکڑ دیا جائے کہ وہ سیاست اور حکومت کو بھول جائیں اور چپ چاپ ہر الیکشن میں انہی میں سے ایک طبقے کو اقتدار حوالے کر دیں اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے۔ ہمارے ہاں پہلے یہ کام دو پارٹی نظام کے تحت ن لیگ اور پیپلزپارٹی کیا کرتی تھیں اب ان کی اجارہ داری توڑتے ہوئے ایک تیسری طاقت پاکستان تحریک انصاف میدان میں آ چکی ہے۔ یہ پارٹی بظاہر تو عوامی گراس روٹس سے اٹھی ہے مگر درحقیقت یہ بھی مراعات یافتہ طبقے کا ایک مفاد پرست گروپ تھا جس نے اپنا حصہ طلب کیا اور چند سال کی جدوجہد کے بعد اپنی سودا بازی قوت اتنی بڑھا لی کہ انہیں بھی ا قتدار کے اندرونی دائرے کا حصہ بنا لیا گیا نمک کی کان میں سب نمک بن جاتا ہے۔ا قتدار میں آنے کے بعد اس پارٹی نے عوامی مفاد سے متصادم ہر وہ کام کیا ہے جس پر اس پارٹی کو اعتراض ہوا کرتا تھا اور جس کے بل بوتے پر یہ عوام میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ 

البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی غیر مقبولیت کے گراف کے برعکس جتنی تیزی سے تحریک انصاف عوام میں غیر مقبول ہوتی دکھائی دے رہی ہے پرانی دوپارٹیاں اتنی عجلت میں نیچے نہیں آئی تھیں۔ اس وقت تحریک انصاف کو سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جس رفتار سے عوام کے اندر پارٹی سے Social Distancing بڑھ رہی ہے، اگر اس حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملا تو اس کا انجام کیا ہو گا۔ اس کیفیت کا فائدہ دوسری پارٹیوں کو ہو رہا ہے ن لیگ کی مقبولیت برقرار ہی نہیں بلکہ بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی میں بلاول بھٹو کی وجہ سے ناراض طبقے واپس آ رہے ہیں اور ان کے نووارد ہونے کی وجہ سے اور داغدار ماضی نہ ہونے کی 

وجہ سے بھی وہ ایک سٹیک ہولڈر بن چکے ہیں۔ 

اس وقت یوں لگتاہے کہ حکمران جماعت کے سارے وعدے پورے ہو چکے ہیں اور آج کا سب سے بڑا مسئلہ میاں نوازشریف کو وطن واپس لانا ہے یہ قومی امور سے مجرمانہ چشم پوشی کی بدترین مثال ہے۔ حکومت کے پاس اس وقت سوائے نواز شریف کے اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ اصل حقائق سے توجہ ہٹانے کا ہتھکنڈا ہے جو سیاسی طور پر ناقابل معافی ہے جو پارٹی کو مزید تنہا کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران پارٹی نے اپنی رضاو رغبت سے میاں نواز شریف کو باہر بھجوایا تھا۔ 

دونوں طرف سیاسی کرتب گری جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے PDM کے نام سے جو اتحاد بنایا تھا اس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن جیسے عقاب صفت سیاستدان کے ہاتھ آ گئی ہے جس سے سے معاملات میں مزید شدت آنے کا احتمال ہے۔ یہ سارا طوفان میاں نواز شریف کی اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ سے خطاب کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اسی تقریر کے ردعمل کے طور پر شہباز شریف ایک بار پھر نیب کی تحویل میں پابند سلاسل ہیں۔ اگلے تین سال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی دوسری اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی مدت پوری کرنی ہے۔ اس کے بعد ملک کے سیاسی منظر نامے پر تبدیلی کے امکانات ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا دوبارہ الیکشن جیتنا کشمیر کی آزادی سے زیادہ بڑا سوالیہ نشان ہے۔ عوام کی حالت دن بہ دن بدتر ہو رہی ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اپنی اپنی بندر بانٹ میں مشغول ہے۔ 

اپوزیشن اتحاد نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ جنوری میں اسلام آباد کا رخ کریں گے اپوزیشن حکومت کے استعفیٰ اور نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اگر اپوزیشن حکومت پر عوامی پریشر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر سب سے بڑی پارٹی ن لیگ کو اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ اور نواز شریف کے خلاف حکومتی یلغار میں کمی آجائے گی۔ ن لیگ حکومت کومحض ایک مہرہ سمجھتی ہے اور ملک میں سیاسی بالادستی کی بات کرتی ہے۔ 

اس موقع پر پیپلزپارٹی سندھ خصوصاً کراچی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کے بدظن ووٹرز کو ساتھ ملانے کی کوشش میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے لیے یہ بہت اہم وقت ہے کہ وہ خود کو عوام کے سامنے کیسے قابل قبول بناتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں انہیں دھوکے اور دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ترجیحات میں عوام کا درجہ آخری نمبر پر ہے۔ ہر کوئی اپنی ذاتی اناء کی تسکین کے لیے مصروف عمل ہے۔ عوام پھر بھی ان کے ساتھ ہیں آج لانگ مارچ ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ پنجاب سے کس طرح عوام نوازشریف کے حق میں ا ور سندھ سے پیپلزپارٹی پر قربان ہونے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں۔ 

اسی اثناء میں کیپٹن صفدر کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کے اندراج اور مریم نواز اور اس کے بھائیوں کے انڈین شخصیات سے رابطوں کی خبروں کو منظم طریقے سے پھیلایا جا رہا ہے۔ اس مہم میں جتنی تیزی آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ جیسے یہ ایک سوچے سمجھے طریقے سے campaign چلائی جارہی ہے۔ تحریک انصاف اپنی کارکردگی کی بناء پر نہیں بلکہ مخالفین کو ملک دشمن ثابت کر کے اقتدار میں رہنے کا جواز پیش کر رہی ہے جبکہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ماضی کے سارے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ حکومت کی معاشی تجربہ گاہیں ناکام نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف نیب کی کرپشن کے خلاف مہم واضح طور پر حکومت کے مخالفین کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ 

ایک وقت تھا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں اپنے اپنے دورِ اقتدار میں ایک دوسرے کو سکیورٹی رسک قرار دیتے تھے۔ ماضی واپس آ چکا ہے موجودہ حکومت کی سیاسی پالیسی 40 سال پرانے دور والی ڈگر پر ہے جو کہ قوم کے ساتھ زیادتی اور مذاق ہے۔ ہماری سیاسی روایات میں گزشتہ نصف صدی سے کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔


ای پیپر