جس بات کے بارے میں پتہ نہ ہو... بولے متی!
08 اکتوبر 2020 (12:34) 2020-10-08

قوم، قومیت، لسان اور عصبیت پر لکھنا اور گفتگوکرنا انتہائی مشکل اور حساس معاملہ ہے بالعموم پاکستان کے تناظر میں اور بالخصوص سندھ کے حوالہ سے کیونکہ یہاں کی تاریخ ایسے لسانی معاملات، فسادات اور علاقائی عصبیت کی ستائی ہوئی ہے۔ کون اس کے ذمہ دار ہیں اس پر بحث بیکار لیکن اس معاملہ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرنا اور اپنے مذموم سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا نقصان دہ ہے۔ یہ واحد صوبہ ہے جہاں آئینی طور پر دیہی اور شہری کی تفریق ڈالی گئی، پھر اس کو justify کرنے کیلئے لسانی سیاست کا آغاز کیا گیا، کس نے پہل کی اور کون ردعمل میں سامنے آیا فضول بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھی بولنے والے اور اردو بولنے والے 1970 سے پہلے وفاق کے حامی اور قومی سیاست پر یقین رکھتے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ 23 جولائی 1948 کو قانون سازی کے ذریعے کراچی کو Federal Capital Territory بنا دیا گیا، پھر یکم جولائی 1961 سے یکم جولائی 1970 تک کراچی ون یونٹ کے زیر انتظام مغربی پاکستان صوبہ کا حصہ رہا جس کے بعد یکم جولائی 1970 کو اسے دوبارہ سندھ کا حصہ بنا دیاگیا۔ اب یہ طے ہے کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے، پاکستان کا تجارتی مرکز اور معاشی شہ رگ ہونے کے ساتھ ساتھ ”منی پاکستان“ کہلاتاہے۔ 

کراچی شہر کی ایک اور پہچان یہ رہی ہے کہ آزادی کے بعد غیرمنقسم ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والوں کی اکثریت کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں آ کر بس گئی۔ بڑی تعداد میں ان لوگوں نے حکومت سنبھالی، کاروبار و تجارت کے میدان میں روزی روزگار کا معاملہ کر لیا۔ غیرمنقسم ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرنے والوں کو شروع میں شناخت کے مسائل درپیش نہیں تھے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں سے ہٹ کر کیونکہ کراچی میں ان افراد کی اکثریت تھی لہذا ان کی روایات، ثقافت اور کلچر کا فروغ بھی تیزی سے ہوا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ غیرمنقسم ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کو شناخت کا مسئلہ درپیش ہو گیاکیونکہ ان افراد کو مختلف ناموں سے پکارا جانے لگا اور ان ہی میں سے ایک نام ”مہاجر“ تھا جس کو اپنا لیا گیا۔ 

تو جناب یہ ”مہاجر“ کیا ہے؟ نہایت ادب اور احترام کے ساتھ ہمیں کسی بھی طور پر تاریخی مذہبی اصطلاح کے ساتھ نہیں ملانا چاہیئے اسی طرح ”انصار“ کا بلاوجہ اور بنا سوچے استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ مہاجر بھی پاکستان بننے سے پہلے کوئی ایک قوم یا قومیت نہیں تھے؛ ان کے مسائل، علاقائی رہائش اور ملتے جلتے ثقافتی، کلچر اور تاریخی رشتوں نے انہیں پاکستان بننے کے بعد ایک دوسرے سے قریب کیا۔ یہ مہاجر غیرمنقسم ہندوستان میں بانیان پاکستان کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلا کر، لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر، اپنے آباؤاجداد کی زمینیں، جائدادیں و املاک چھوڑکر؛ ایک آزاد وطن ”پاکستان“ کا قیام عمل میں لا کرفخریہ بحیثیت پاکستانی شہری اور بانی اپنی کاوشوں سے بنائے گئے ملک میں داخل ہوئے جس کا بنیادی حق شہریت انہیں غیرمنقسم ہندوستان میں ہی حاصل ہو چکا تھا۔ تمام جھکی اور عاقبت نااندیش سیاسی جگلر لفظ ”مہاجر“ اور ”پناہ گزین“ کے فرق کو سمجھیں۔ اپنی تخلیق کردہ مملکت میں کوئی پناہ لینے نہیں آتا۔ Mohajirs entered into Pakistan as a matter or“right”not“refuge”۔ اس بات کو اس طرح بھی سمجھ لیں کہ 14 اگست 1947 سے پہلے سندھ بھی غیرمنقسم ہندوستان کا حصہ تھا اور یہاں بسنے والے ہندوستانی شہری تھے۔ نہایت ادب اور انکساری 

کے ساتھ ان تمام سیاسی جغادریوں سے درخواست ہے کہ اپنے اپنے سیاسی بیانیہ کو اپنے پارٹی منشور اور عوامی مسائل کے حل تک رکھیں تو مناسب کیونکہ نہ تو سندھی قوم کو اور نہ ہی مہاجروں کو ”اوٹ پٹانگ“رہنماؤں کی ضرورت ہے۔ نہ تو کسی کا کسی پر کوئی احسان ہے اور نہ ہی کسی نے کسی کا قرض نہیں اتارنا... جو جس کا حق وہ اس کا مطالبہ آئین و قانون کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ”ریاست“ سے کرے اور برائے مہربانی اس حوالہ سے تقاریر،دعوے اور قسمیں کھانا بند کریں۔ احساس برتری و کمتری اور احساس شرمندگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ففٹی ففٹی میں ماجد جہانگیر کہا کرتے تھے، ”جس بات کے بارے میں پتہ نہ ہو... بولے متی“۔

خواہ مخواہ نخرے دکھانے والوں سے اور ناراض ہو جانے والوں سے بھی التجا ہے کہ جائزآئینی مطالبات کو جمہوری سوچ، فکر اور عمل سے طے کریں، ایکدوسرے کو سنیں، مسائل سب کے ایک جیسے ہیں، پاکستان کا آئین ہمیں ان تمام مسائل کے حل بتاتا ہے، آرٹیکل 8 سے 40 تک پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی بات کی گئی ہے اس پر گفتگو کریں اور ریاست کو اس کی بنیادی آئینی ذمہ داری یاد دلائیں اور وہ ادھورے وعدے پورے کروائیں جن کی گارنٹی ہمیں ہمارے ملک کا دستور دے رہا ہے۔ 


ای پیپر