بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کون روکے؟
08 اکتوبر 2020 (12:14) 2020-10-08

بات حد سے آگے نکل چکی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے گیس کے میٹر کے کرایے کو بھی بڑھا دیا گیا ہے یوں لوگوں کی رگوں سے خون کشید کیا جانے لگا ہے بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ان کی ہڈیوں کا گودا بھی کھائے جانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ آئے روز مہنگائی‘ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا ہو گا؟

اْدھر نئے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں مگر ذرائع روزگار نہیں پیدا کیے جارہے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں ایساپہلی مرتبہ ہوا ہے وگرنہ ہر برس ان میں اضافہ کیا جاتا تھا۔

اب جب حزب اختلاف ان مسائل کو بنیاد بناکر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہے گی تواسے بہت آسانی ہو گی کیونکہ لوگ موجودہ حکومت سے نکو نک آچکے ہیں۔ہم انتظامی معاملات کی بات ہر تیسرے چوتھے کالم میں کرکے اس کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں مگر مجال ہے وہ ٹس سے مس ہوتی ہو بس اسے جو مشورے دیے جاتے ہیں ان پر وہ من و عن عمل کرتی ہے اور عوام کی چیخیں نکال دیتی ہے۔ آخر ان لوگوں کا قصور کیا ہے کہ جنہیں کھانے پینے کی چیزیں بھی پوری طرح میسر نہیں پھر ستم یہ کہ وہ ناقص ہوتی ہیں جس سے وہ اکثر مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور جب دوائیں خریدنے جاتے ہیں تو وہ ان کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں اگر وہ جیسے تیسے انہیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو ان میں ستر اسی فیصد غیر معیاری ہوتی ہیں جن کو وہ استعمال کرنے کے بعد دیر تک بھی شفایاب نہیں ہوتے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک اشرافیہ کے لئے بنا تھا جسے مہنگائی کی پریشانی ہوتی نہ بے روزگاری کی۔ ہر شے کا حصول اس کے لئے ممکن ہوتا ہے۔ عوام ہیں 

کہ اس کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کہ انہیں کچھ سہولتیں مل سکیں ان کے بھی کچھ خواب پورے ہوسکیں مگر نہیں تہتر برس بیت چکنے کے بعد بھی وہ روشن مستقبل سے محروم ہیں اور یہ اشرافیہ انہیں بیوقوف بنا کر ان کے جسموں پر مسائل کے وار کرکے زخم پے زخم لگاتی چلی جارہی ہے اسے کبھی بھی ان پر ترس نہیں آیا رحم نہیں آیا جبکہ یہ انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر لئے پھرتے ہیں اس کی تجوریوں کو اپنے خون پسینے کی محنت سے بھرتے رہتے ہیں اور یہ اشرافیہ اس سے جو محل تعمیر کرتی بھی ہے تو بیرون میں‘ وہاں اس کی اولادیں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتی ہیں۔ یہاں عوام سسکتے رہتے ہیں۔

اب انہیں پوری امید تھی کہ یہ حکومت انہیں بڑے ریلیف دے گی مگر وہ پیاسے کے پیاسے رہے یہ درست ہے کہ چند ماہ معیشت کا پہیہ جام رہا ہے جس سے اس کی حالت خراب ہوئی ہے اور آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینا پڑا ہے مگر حکومت کو غریب عوام ہی نظر آتے ہیں ٹیکس لگانے کے لئے‘ امیروں سے کیوں نہیں سارے ٹیکس لئے جاتے پھر وہ اپنے گرد بیٹھے آٹا چینی گھی مہنگائی اور کمیشن مافیا کو کیوں زحمت نہیں دیتی کہ وہ مشکل گھڑی میں اپنا کردار ادا کریں لہذا عوام کا یہ کہنا ہے کہ سربراہ حکومت جب خود کو دیانت دار کہتے ہیں تو وہ کیا کریں ان پر (عوام) وہ لوگ مسلط ہیں جن کا اپنا پیٹ ہی نہیں بھرتا اس وجہ سے قومی خزانہ کیسے بھرے گا لہذا ان کی شامت آجاتی ہے اگر عمران خان وا قعی کمزوروں کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو آزاد کر دیں مگر دیکھا گیا ہے کہ چن چن کر عوام بیزار سامنے لائے جا رہے ہیں جنہیں ذرا بھر بھی ان سے ہمدردی نہیں۔

اس سیاسی ومعاشی منظر کو دیکھتے ہوئے عوام میں حکومت مخالف جذبات جنم لے رہے ہیں جو آہستہ آہستہ انہیں احتجاج کی شاہراہ پر لے آئیں گے بلکہ لا بھی چکے ہیں۔حزب اختلاف نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور حیران کن حد تک ایک خاص تعداد متحرک ہو گئی ہے انہیں دیکھتے ہوئے دوسرے لوگ بھی باہر آسکتے ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ حکومت کو آنے والے دنوں میں سخت سیاسی مسائل کا سامنا ہوگا پھر وہ کوئی بڑا اعلان بھی کر سکتی ہے؟

بہر حال یہ کیسی عجیب اور تکلیف دہ بات ہے کہ ہمارے ہاں کی حکومتیں اور حزب اختلاف کی جماعتیں کبھی بھی ایک پلیٹ فارم پر کھڑی نہیں ہو سکیں اجتماعی مسائل کاحل نہیں تلاش کر سکیں ایک آتا ہے دوسرا اس کی راہ میں کانٹے بکھیرنا شروع کر دیتا ہے اس کے ترقیاتی منصوبوں کو روک دیتا ہے ان میں خامیاں ڈھونڈتا ہے اور عوام کو متنفر کرتا ہے جبکہ عوامی منصوبے بھلے ان سے چند افراد ہی کیوں نہ مستفید ہوتے ہوں اچھے ہوتے ہیں کہ ترقی کا عمل ایسے ہی آگے بڑھتا ہے مگر یہاں سیاست وجمہوریت کو فروغ نہیں دیا گیا لہٰذا آج وہ ایک نئی صورت میں ہمارے سامنے ہے کہ کسی کو احتساب کے شکنجے میں کسا جا رہا ہے تو کسی کو اس سے آزاد کیا جارہا ہے؟ اسی حوالے سے فریقین کے مابین محاذ آرائی ہو رہی ہے عوامی تکالیف کا تذکرہ فیشن کے طور سے ہو رہا ہے یعنی اس پہلو کو ابھار کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ بھی اچھی بات کہی جا سکتی ہے کہ آنے والی حکومت کو تھوڑا بہت عوام کے مسائل کے حل کے لئے بھاگ دوڑ کرنا ہو گی؟

حرف آخر یہ کہ عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائیوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اس سے انہیں زندگی ایک بھاری پتھر محسوس ہو رہی ہے لہذا حکومت اگرعوام کو سڑکوں پر آنے سے روکنا چاہتی ہے تو وہ انہیں فی الفور ریلیف دے تاکہ وہ اس کے قریب آسکیں!


ای پیپر