حکمرانوں کی ناکامی اور پامی!
08 اکتوبر 2020 2020-10-08

(دوسری وآخری قسط )!!۔پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز( پامی) کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان چودھری نے منتخب ہونے کے بعد پامی کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ایک بھرپور پریس کانفرنس کی، اس پریس کانفرنس میں اُنہوں نے پامی کے اغراض ومقاصد یا ترمیم شدہ اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی، اِن مقاصد میں میڈیکل ایجوکیشن اور نجی میڈیکل کالجز کو درپیش مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کروانا، قومی سطح پر ڈاکٹرز کی کمی کو دُور کروانا، تیس سے چالیس سالہ پرانے سلیبس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کروانا ناکام سینٹرل ایڈمیشن پالیسی کو تبدیل کروانا اور پی ایم سی یا پی ایم ڈی کے حوالے سے موجود مسائل کو حل کروانا شامل ہے، .... اِن مقاصد کی تفصیل کچھ اِس طرح سے ہے ،.... اس وقت میڈیکل ایجوکیشن میں تیس سے چالیس سال پرانا نصاب پڑھایا جارہا ہے، اِس نصاب کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے،.... پامی کا دوسرا بڑا مقصد قومی اور عالمی اشتراک کو بڑھانا ہے، مختلف کالجز میں ہارورڈ سے پڑھے لکھے لوگ پڑھا رہے ہیں، پامی کی خواہش ہے مشترکہ تجربات اور جدید مشینری سے استفادہ کیاجائے، .... پامی کا تیسرا مقصد ریسرچ کلچر کو فروغ دینا ہے، اِس حوالے سے پامی کے پاس بہت ڈیٹاموجود ہے، اِس ڈیٹے کو منظم طریقے سے اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے، پامی نے اِس عزم کا اظہار کیا ہے وہ اِس حوالے سے اپنی فیکلٹی کو ٹریننگ دینے کا خصوصی اہتمام کریں گے، .... پامی کا چوتھا مقصد پاکستان میں ہیلتھ کیئر کی انتہائی خطرناک صورت حال سے نمٹنا ہے، ڈاکٹرز، نرسز اور وینٹی لیٹرز کی کمی سے سینکڑوں لوگ اب تک موت کے منہ میں جاچکے ہیں، ایسی کوئی منظم حکمت عملی حکمرانوں کے پاس موجود نہیں جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کارگر ثابت ہو، یو این او کی قرار داد کے مطابق ہیلتھ کیئر پر کم ازکم سات فی صد خرچ ہونا چاہیے جبکہ خرچ ایک فی صد سے بھی کم ہورہا ہے، ایک ہزار مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے، ہمارے پاس بعض اوقات پچیس سومریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر نہیں ہوتا، ایک لاکھ ساٹھ ہزار رجسٹرڈپریکٹیشنرز ہیں، اُن میں بے شمار وفات پا چکے ہیں، کچھ بیرون ملک چلے گئے ہیں، جبکہ خواتین ڈاکٹرز پریکٹس ہی نہیں کرتیں، اِس کے علاوہ ہمارے پاس صرف ایک لاکھ رجسٹرڈ پریکٹیشننرزرہ گئے ہیں جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی آبادی اس وقت چوبیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اِس کا مطلب ہے دو سے تین لاکھ ڈاکٹرز کی کمی ہے، اگر سونجی میڈیکل کالجز مزید کھل جائیں، یہ کمی پھر بھی پوری نہیں ہوگی، ہمارے ڈاکٹرز پوری دنیا میں عزت کما رہے ہیں، امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب، آسٹریلیا جیسے کئی ممالک سے فارن ایکسچینج بھجوارہے ہیں، ہمیں بس اپنے اداروں اور ارادوں کومنظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اچھے ڈاکٹرز پیدا کرسکیں، اگر ہم اپنے ادارے اور ارادے مضبوط نہیں کریں گے ظاہر ہے ہمارے میڈیکل سٹوڈنٹس بیرون ملک جانے کو ترجیح دیں گے، اعدادوشمار بتاتے ہیں بے شمار میڈیکل کے سٹوڈنٹس ایسٹرن یورپ ، سنٹرل ایشیاءاور چین جاتے ہیں اور وہاں وہ غیرالحاق شدہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، پچھلے سال پاکستان سے میڈیکل کی تعلیم کے لیے نوہزار بچے کرغستان گئے، ان بچوں کا مستقبل شدید خطرے میں ہے، فارن ایکسچینج بیرون ملک جارہا ہے، ہمیں اِس کی کوئی پرواہی نہیں ہے، اِس وقت مجموعی طورپر ایک سو ساٹھ میڈیکل کالجز ہیں جن میں ایک سو دس نجی میڈیکل کالجز ہیں، ہر سال میڈیکل کالجز میں بارہ سے چودہ ہزار سٹوڈنٹس داخلہ لیتے ہیں، جن میں ہرسال چھ سے سات ہزار طلبہ نجی میڈیکل کالجز میں داخلہ لیتے ہیں، .... پاکستان میں ڈاکٹرز کی کوئی عزت نہیں، اُنہیں شرمناک الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے، کچھ ڈاکٹرز کا رویہ اپنے مریضوں کے ساتھ ممکن ہے نامناسب ہو مگر اِس کا ذمہ دار پوری ڈاکٹرز برادری کو ٹھہرانا مناسب نہیں، پی ایم ڈی سی یا پی ایم ایس پر ریگولیٹری باڈی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، پامی کے عہدیداران کا کہنا ہے صحت سے وابستہ افسروں یا حکمرانوں نے کسی معاملے میں اُن سے مشاورت کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، جہاں تک ریگولیٹری باڈی کو ڈیل کرنا ہے اُس سے اُن کا کوئی تعلق نہیں۔ اُن کی کارکردگی کو پی ایم سی، پی ایم ڈی سی اور ایف آئی اے وغیرہ چیک کرتے ہیں، اگر کسی ریگولیٹری باڈی کی ریکوائرمنٹ تین ایکڑ ہے تو ہمارے کئی ادارے بائیس بائیس ایکڑز پر محیط ہیں، اگر فیکلٹی کی ریکوائرمنٹ دوسولوگوں کی ہے تو ہمارے پاس چارسولوگ موجود ہیں، ریگولیٹر ہمارا مسئلہ نہیں، ہمارا مسئلہ روز روز کی ڈرامہ بازیاں ہیں جو شعبہ صحت سے وابستہ افسران اور حکمران کرتے رہتے ہیں، ایک دن پی ایم ڈی سی سے دوسرے دن پی ایم سی سے نوٹس آجاتا ہے، دونوں انسپیکشن کرتے ہیں، دونوں کے اپنے اپنے رولز ہیں، اپنی اپنی سوچ ہے، پی ایم ڈی سی کی کی گئی انسپیکشن کا رزلٹ پی ایم سی والے نہیں مانتے اور پی ایم سی کی گئی انسپیکشن کا رزلٹ پی ایم ڈی والے نہیں مانتے، .... پامی کے عہدیداران کا مزید کہنا ہے ہم اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، مگر وہ ہم سے مشاورت کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، .... پامی نے محکمہ صحت سے وابستہ سرکاری شعبوں سے تعاون بڑھانے کے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ خوش آئند ہے، پر اس کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے مسائل کو جس انداز میں اُنہوں نے اُجاگر کیا ہے، خصوصاً میڈیکل کالجز کو درپیش مسائل کا ذکر کیا ہے وہ تشویش ناک ہے، اور اِس بات کا ایک اہم اور بڑا ثبوت ہے حکمرانوں کی ترجیحات میں شعبہ صحت کی ترقی کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی، حکمران شاید انسانی صحت پر اِس لیے توجہ نہیں دیتے اُن کے عوام جسمانی خصوصاً ذہنی طورپر اگر صحت مند ہوگئے اُس کے بعد ممکن ہے وہ ایسے حکمرانوں کو کبھی منتخب ہی نہ کریں جنہوں نے اُنہیں ہمیشہ ”بھیڑ بکریاں“ ہی سمجھا،.... ہمارا خیال تھا پنجاب میں ایک ڈاکٹر (ڈاکٹریاسمین راشد) کے وزیر صحت بننے کے بعد شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی جن کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے لیے اگلے الیکشن میں بھاری کامیابی بغیر خلائی مخلوق کی مدد کے حاصل کرنا بہت آسان ہوگا، اب صورت حال یہ ہے اگلا الیکشن اگر صاف اور شفاف ہوا غالب امکان یہی ہے پی ٹی آئی کے اُمیدواران کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی جس کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی تعلیم خصوصاً صحت کے شعبے کو مکمل طورپر نظرانداز کیا گیا، حالانکہ پی ٹی آئی کے چند پُرزور نعروں میں ایک نعرہ صحت اور تعلیم کی ترقی کا بھی تھا، ہماری وزیر صحت ”ڈاکٹر“ کم ”مریضہ“ زیادہ لگتی ہیں، سو پورا محکمہ صحت ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوچکا ہے جس کا علاج اب پامی کے نومنتخب صدر پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان اور پامی کے دیگر عہدیداران کی جارحانہ جدوجہد سے ہی ہوگا، افہام و تفہیم اچھی بات ہے، پر پاکستان میں ہم نے یہی دیکھا کوئی بھی جائز مسئلہ پُرزور احتجاج کے بغیر حل کروانا ناممکن ہے، پامی کے مقاصد بڑے واضح اور جاندار ہیں، اصلی بات اِن مقاصد کی تکمیل ہے، ہم دعاگو ہیں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان چودھری کی قیادت میں تمام مقاصد کی تکمیل ممکن ہوسکے جس سے پاکستان کے شعبہ صحت کو چند سانسیں مِل جائیں !!


ای پیپر