مودی کا پاکستان کیخلاف پلان بے نقاب
08 اکتوبر 2019 (17:34) 2019-10-08

شخصیت یا کردارسازی عام طور پر فطری ہوتی ہے لیکن اردگرد کے معروضی حالات اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ Crisis Produces Greatmen یعنی بڑے بڑے بحران ہی عظیم شخصیات کو جنم دیتے ہیں، جتنا بڑا بحران ہو گا اس سے پیدا ہونے والے لیڈر کا قدوقامت بھی اتنا ہی بڑا ہو گا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان ایک قومی بحران کی پیداوار ہیں جن کی شخصیت ہمیشہ ان کے دُشمنوں اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان کچھ یوں تنازعات اور چاہت میں گھری رہتی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دُشمنوں اور پرستاروں میں کس کا پلڑا بھاری ہے۔ نپولین نے کہا تھا کہ سیاست میں دوست نہیں ہوتے یا تو دُشمن ہوتے ہیں یا پھر چاہنے والے، اس کی بہترین مثال عمران خان ہیں۔

عمران خان کی اقوام متحدہ میں پاکستان ، کشمیر اور اسلام کی ترجمانی ایک تاریخی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ان کی اس تقریر کا اصل تجزیہ کرنا ہو تو تقریر ختم ہونے کے فوراً بعد کے تبصرے سب سے زیادہ اہم ہوتے ہیں کیونکہ وہ برجستہ اور فی البدیہہ ہوتے ہیں۔ ان میں سیاسی بناوٹ نہیں ہوتی۔ وہ تبصرے دیکھیں تو آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ ایک ایسی تقریر تھی جس نے پلک جھپکنے میں پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آہستہ آہستہ جب مخالفین نے سوچنا شروع کر دیا کہ اب اس پر تنقید کیسے کی جائے تو تیسرے دن جا کر کہیں مخالفین بولنا شروع ہوئے اور ان کی شعلہ بیانی کو پلے ڈاﺅن کرنے کی خاطر کبھی اقوام متحدہ کو تقریری مقابلہ کی جگہ قرار دیا گیا اور کبھی اس طرح کی بے بنیاد باتیں بنائی گئیں۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 ممالک سے تعلق رکھنے والے سربراہان مملکت، وزرائے خارجہ اور مندوبین تشریف فرما تھے اور جتنی بار وقفے وقفے سے تقریر کے دوران حاضرین کی طرف سے تالیاں بجائی گئیں یہ مرتبہ آج تک کسی پاکستانی کو نصیب نہیں ہوا۔ مخالفین کہتے ہیں کہ تقریر کا فائدہ کیا ہوا، کیا کشمیر آزاد ہو گیا؟ ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ کیا اقوام متحدہ میں یاسر عرفات کی تاریخی تقریر کے بعد فلسطین آزاد ہو گیا تھا یا ذوالفقار علی بھٹو کی سقوط ڈھاکہ والی تقریر کو کسی نے مانا تھا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ملک کے چوٹی کے وکیل عدالتوں میں دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں مگر فیصلہ ان کے موکل کے اس لیے خلاف آتا ہے کہ جج بِک چکا ہوتا ہے۔ اس موقع پر وکیل کیا کرے گا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں 80لاکھ کشمیریوں کا مقدمہ لڑا ہے، اگر جج بِک چکے ہوں تو وکیل کا کیا قصور؟

تقریر کا Analysis اس پہلو سے بھی کرنا پڑے گا کہ نریندر مودی جو پہلے تقریر کر چکے تھے، انہیں 100 فیصد یقین تھا کہ وہ عمران خان کے فائر ورک کے ساتھ ٹھہرنے کی تاب نہیں لا سکیں گے لہٰذا وہ اپنی کُرسی خالی کر گئے اور کہیں چھپ کر عمران خان کی تقریر ٹی وی پر سنتے رہے اور تلملاتے رہے۔ مودی ابھی تک اس اُلجھن سے Recover نہیں ہو سکے کہ وہ تقریر میں عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لیے وہ ناخن چبانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

امریکہ کے سیاہ فام لیڈر مارٹن لوتھرکنگ نے سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے اپنی مشہور زمانہ تقریر ”I have a dream“ امریکہ کے مجسمہ آزادی کے سامنے لاکھوں سیاہ فاموں کے مجمع کے سامنے کی تھی۔ کچھ عرصہ بعد گوروں نے انہیں قتل کروا دیا، ان کی وہ تقریر اتنی مدلل، زوردار اور قائل کرنے والی تھی کہ اُسے 20 ویں صدی کی بہترین تقریر کہا جاتا ہے جو بعدازاں امریکی سکولوں میں بچوں کی نصابی کتابوں کا حصہ بن گئی۔ اسلام، پاکستان ، مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت جیسے موضوعات پر عمران خان کی تقریر کی Rating کسی طرح بھی مارٹن لوتھر سے کم نہیں ہے۔

بین الاقوامی دُنیا میں کسی ریاست کے مقام کا تعین سربراہ مملکت کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریروں سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا حقیقی معیار اس ملک کی معاشی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے۔ اگر تقریر کے زور پر اہمیت کا اصول طے کیا جائے تو اقوام متحدہ کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا پہلا نمبر ہوتا کیونکہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار امریکی سرزمین پر کھڑے ہو کر کہا کہ 9/11 کے بعد امریکہ کا اتحادی بننا پاکستان کی غلطی تھی جس میں ہم نے 70ہزار جانیں دیں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں 200 ارب ڈالر کا نقصان اُٹھایا۔ آج سے پہلے کیا اس کا تصور بھی کیا جا سکتا تھا؟ اس وقت دُنیا کے نقشے پر جو سب سے بڑی تشویشناک پیش رفت سامنے آرہی ہے اس زلزلے کا مرکز پاکستان ہے۔ آپ کشمیر کو دیکھ لیں جہاں کا محاصرہ 56 دن سے زائد عبور کر چکا ہے۔ آپ طالبان کو دیکھ لیں جن کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات آخری سیڑھی پر جا کر ریورس ہو گئے، بقول شاعر دوچار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا۔ تیسری خطرناک پیش رفت کا تعلق بھی پاکستان کے پہلو میں واقعہ ایران سے ہے جہاں سعودی عرب اور امریکہ مل کر اسے سبق سکھانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ میں بھی سی پیک کی وجہ سے پاکستان ایک بالواسطہ فریق بن چکا ہے۔ پاکستان کی اہمیت کو کسی طرح سے بھی نظرانداز کرنا امریکہ، چین یا کسی بھی طاقت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ پاکستان جب بھی کسی بحران کا شکار ہوتا ہے تو حالات ایسا رُخ اختیار کرتے ہیں کہ اس کی اہمیت کم ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بھارت اور امریکہ جتنا مرضی زور لگا لیں پاکستان کی اہمیت برقرار رہے گی۔ تاش کے کھیل میں رنگ کا پتہ ٹرمپ کارڈ کہلاتا ہے، یہ اتفاق کی بات ہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ ہے مگر جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ٹرمپ کارڈ پاکستان کے پاس ہے۔

افغان طالبان وفد امریکہ کے ساتھ معاملات معطل ہونے کے بعد اپنی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے چین کی دعوت پر بیجنگ گیا تو امریکی دفترخارجہ میں خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھی ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات عالمی میڈیا کا حصہ ہیں مگر اصل بات کسی اخبار میں شائع نہیں ہو رہی، وہ ابھی تک آف دی ریکارڈ ہے۔ چین نے سی پیک میں افغانستان کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو پشاور اور کابل کو آپس میں ملائے گی اور یہاں سے یہ روسی ریاستوں تک جا سکتی ہے۔ افغانستان ساﺅتھ ایسٹ ایشیا کا Gateway ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اندر سے سمجھ چکا ہے کہ طالبان افغانستان کے مستقبل قریب کے حکمران ہیں اس لیے انہوں نے طالبان سے مذاکرات کو ترجیح دی ہے جو بڑی معنی خیز ہے۔

بات اقوام متحدہ کے سالانہ جنرل اسمبلی کی ہو رہی تھی جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی۔ اس وقت انڈیا کی ساری خارجہ پالیسی Pakistan Specific ہے۔ انڈین بے چینی تمام حدوں کو چھو چکی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ جوں ہی سری لنکا نے کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آنے کا اعلان کیا۔ انڈین ایجنسیوں نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے بڑے بڑے کھلاڑی خرید لیے۔ انہوں نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا مگر سری لنکن حکومت نے انہیں ٹیم سے خارج کر دیا مگر دورہ ملتوی نہیں کیا۔ مودی کی ساری توانائیاں اس وقت پاکستان کو نیچا دکھانے پر خرچ ہو رہی ہیں۔ انڈیا والے عمران خان کے گزشتہ سرکاری دورہ امریکہ اور کیپٹل ایرینا میں جلسہ عام سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ مودی نے فیصلہ کیا کہ وہ ہیوسٹن (Huston) میں اُسی طرح کا جلسہ ری پلے کریں گے جو عمران خان نے کیا تھا۔ اس جلسے میں ٹرمپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر مودی نے تمام سفارتی آداب اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر زہرافشانی کی اور Radical Islamic Terrorism کی اصطلاح استعمال کی جس پر پاکستان کو سفارتی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

ٹرمپ نے اپنا پُرانا موقف دُہرایا کہ اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو امریکہ ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کی یہ بات ویسے ہی مضحکہ خیز ہے۔ اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو پھر ثالثی کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں عمران خان کا مو¿قف زیادہ Convincing ہے جو یہ کہتے ہیں کہ کشمیریوں کا محاصرہ جا رہی ہے، 80 لاکھ افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں تو مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ ایک طرف مودی اور دوسری طرف عمران خان دونوں کو ایک ہی سانس میں عظیم لیڈر اور عظیم دوست قرار دیتے ہیں جو محض لفاظی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سفارتکاری اور شرمساری دو الگ الگ چیزیں ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اقوام متحدہ اجلاس کی سائیڈلائن پر عمران خان کی دیگر سربراہان مملکت سے ملاقاتیں تو سفارتی معمول کا حصہ تھیں جن میں کشمیر پر سفارتی حمایت کے حصول کی کشش جاری ہے البتہ اطلاعات یہ ہیں کہ عمران خان کی امریکی King Maker اور Lobbist مشہور امریکی شخصیت George Soro سے ملاقات ہوئی ہے جو ارب پتی ہے اور اپنی دولت کا بڑا حصہ خیرات کر چکا ہے مگر اس کی اصل شہرت یہ ہے کہ وہ لیڈر پیدا کرتا ہے۔ باراک اوبامہ اور بِل کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی اُمیدوار بنوانے آگے لانے اور صدر بنوانے میں جارج کا ہاتھ تھا، وہ اپنی سیاسی انویسٹمنٹ میں بہت آگے ہے۔ اب یہ دیکھنے میں ٹائم لگے گا کہ جارج اور عمران خان کی ملاقات کا پس منظر کیا اور ان دونوں میں کون کس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسی دوران عالمی منڈی میں Brent خام تیل کی قیمت جو 60 ڈالر فی بیرل سے 68 تک جا پہنچی تھی، اس میں بھی امریکہ کے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے فوج بھیجنے کے اعلان کے بعد کمی ہوئی۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو پر میزائل حملوں کا اعتراف یمن کے حوثی باغیوں نے کیا مگر امریکہ کہتا ہے کہ یہ میزائل ایران سے داغے گئے ہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ میزائل ایران ساختہ ہیں، اگر اس الزام کی تشریح کی جائے تو پھر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ 2016ءمیں یمن میں سکول بس پر جو سعودی فوج نے ڈرون مارا تھا جس میں 40 بچے جاں بحق ہوئے تھے وہ ڈرون امریکہ میں بنا تھا تو کیا اس پر امریکہ پر الزام دینا چاہیے۔

کشمیر کا مسئلہ آہستہ آہستہ افغانستان کے ساتھ منسلک ہوتا نظر آتا ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ڈیموکریٹک پارٹی نہیں بلکہ افغان طالبان ہیں۔ انڈیا کی اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ جو افغانستان میں ہوئی ہے وہ ڈوب رہی ہے۔ پاکستان کے لیے یہی ایک موقع ہے کہ وہ اس شطرنج کی بازی میں احتیاط کا مظاہرہ ہے۔ اس وقت گراﺅنڈ صورتحال یہ ہے کہ انڈیا کشمیر اور جموں کو طویل عرصے تک نہ اُگل سکے گا نہ نگل سکے گا۔

٭٭٭


ای پیپر