اعلانِ لاتعلقی
08 اکتوبر 2019 2019-10-08

فلک حیران ہے ٗ زمیں پریشان ہیں اور پاکستانی تذبذب کا شکار ہیں کہ شعور کی آخر وہ کون سی پھکی ہے جو ہمارے سقراط ٗ بقراط کھا چکے ہیں ۔وہ کونسی عینک ہے جس کو لگاتے ہی سب شرمندہ ہوگئے ہیں ؟وہ کون سا نروان ہے جو ایک ساتھ ہی بہت سے ’’دانشوران پاکستان ‘‘کو مل گیا ہے کہ وہ معافیاں مانگتے پھر رہے ہیں کہ کیوں تحریک انصاف کی حمایت کی؟ ٹولیوں کی ٹولیاں عمران خان کے انداز حکمرانی کیخلاف میدان میں آن موجود ہیں اور گزشتہ ایک دہائی پر تحریک انصاف کے طرز سیاست پر تنقید کرنے والے انگشت بدنداں ہیں کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے ؟ ہر دوسرے ٹی وی شو میں اپنی عقل پر ماتم ہو رہا ہے اور ایک صاحب تو تقریباً ٹی وی پر رو ہی پڑتے ہیں کہ کیوں عوام کیساتھ یہ زیادتی ہوئی اور انہوں نے کس کی حمایت کر دی۔

معاملہ اتنا سادہ ہے نہیں اسی لئے سمجھنے کیلئے ہمیں کئی سال پہلے جانا پڑے گا جب عمران خان نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا اور یہاں لاہور میں بارش ہوئی جسے باران رحمت قرار دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ بھی ہماری اس کامیابی پر خوش ہیں۔عمران خان پاکستان آئے ٗ ایک پلے بوائے کے طور پرجوانوں کے جوان جذبوں میں ان کی عزت پہلے ہی زندہ جاوید تھی مگر پھر انہوںنے شوکت خانم کا مشن شروع کیا اور عوام کے دلوں میں بھی بسنے لگے۔ عوام کی جیبیں اور دل دونوں ان کے کھل گئے ۔ خان صاحب نے سیاست میں انٹری لی۔ انہیں جہاں بھی بات کرنے کا موقع ملتا وہ اولاًپاکستان کے تمام مسائل کی جڑ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیتے ٗثانیاًان سیاستدانوں کو جو کرپشن کرتے اور اسٹیلشمنٹ کی گود میں بیٹھتے ہیں۔

خان صاحب ٗ شیخ رشید کی طرح ٹی وی چینلز کے ڈارلنگ بن چکے تھے مگر پھر ان کے نظریات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ کرپٹ سیاستدانوں ٗ اسلامی ریاست ٗ خلفاء راشدین ٗ یورپی ممالک کے بارے تو ویسے ہی پرجوش رہے لیکن اسٹبلشمنٹ کے کردار پر ان کی آواز میوٹ ہونا شروع ہو گئی۔ بلی تھیلے سے باہر آئی جب 30اکتوبر 2011ء کو پی ٹی آئی( جسے شیخ رشید ایک تانگے کی سواری کہا کرتے تھے )نے دو دہائیوں کی جدوجہد کے بعد عوام کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ کہنے والے کہتے رہے کہ عمران خان نے اسی اسٹیلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیا جس کو وہ پاکستان کے مسائل کی وجہ قرار دیا کرتے تھے اور ہم نے بھی کہنے والوں کی اس بات کو سچ جانا۔

ایک طرف ہم جیسی یوتھ تھی جو 30اکتوبر 2011ء کو عمران خان کے بدلتے نظریات اور تیور دیکھ کر حیرانی کا شکار تھے لیکن اسی موقع پر اقتدار کا خواب دیکھنے والے عمران خان کی محبت میں ایک اور یوتھ وجود میں آئی جس نے آنے والے دس سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ عمران خان اپنا راستہ بدل چکے تھے ٗ جن سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے ٗ انہی کے قدموں پر قدم رکھ چکے تھے اور جس اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر انگلی اٹھاتے ٗ اسی انگلی کے سہارے اقتدار میں آنے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

الیکشن 2013ء کی بات ہے ۔ ٹی وی چینلز ٗ پریس کلب ٗ ذاتی محفلوں ٗ ڈرائنگ رومز میں بحثوں کا آغاز ہونے لگا۔خونی رشتوں میں دراڑیں پڑنے لگیں ٗ بچپن کی دوستیاں ختم ہونے لگیں ۔ سیاسی جنگ کا آغاز ہو گیایعنی عمران خان کا جذباتی سپورٹر بمقابلہ ہم سب۔ اسی دور میں ٹی وی چینلز پر ایک نئی فورس نے جنم لیا جن کے نام آپ سب جانتے ہیں۔ یہ صحافتی فورس بڑے بڑے صحافیوں پر مشتمل تھی اور 30اکتوبر 2011ء سے پہلے عمران خان کو بالکل مختلف انداز میں ڈسکس کرتی تھی لیکن اس صحافتی فورس کو نئی ہدایات مل چکیں تھیں اور انہوں نے دو تین ٹولیوں کی صورت میں کام شروع کر دیا۔ پہلی ٹولی کی ڈیوٹی یہ لگائی گئی کہانہوں نے عمران خان کی سیاسی پالیسیوں کی تعریفیں کرنی ہے۔دوسری ٹولی نے عمران خان کو عالم اسلام کا سب سے بڑا لیڈر ٗ مدبر ٗ عصر حاضر کا سیاسی جینئس اور پاکستان کی تقدیر بدلنے والاقرار دینا شروع کردیا۔ جبکہ تیسری اور مخصوص ٹولی کا کام عمران خان کو ایک صوفی ٗ پیر ٗ خدا کا نوازا ہوا بندہ قرار دینا تھا۔لاہور جلسہ کے بعد ان صحافیوں کو خواب میں بزرگ ٗ اولیا کرام ٗ مجدد آنا شروع ہوگئے جو ان صحافیوں کے ہاتھ پکڑ کر کسی پاک مقام پر عبادت میں مصروف عمران خان صاحب سے ان کا تعارف کروانے لگے ۔ ان ٹولیوں کا مقصد صرف ایک تھا کہ پاکستان میں رہنے والے ہر قسم کے مکتبہ فکر کو متاثر کیا جائے۔ دلیل سے ٗمذہبی یا روحانی طریقے سے ٗ جو جس تیر سے گھائل ہوا ٗاسے گھائل کر دیا گیا۔ پوری پاکستانی مشینری 2011 ء سے 2018ء تک دن رات اسی کام میں جھونک دی گئی۔ سب صحافتی ٹولیوں نے عمران خان کے چہرے پر خوب میک اپ تھوپا ٗ بوٹوکس بھری اور آخر کار 2018ء کے الیکشن میں کئی سال کی جہد مسلسل ٗ پروپیگنڈہ ٗ ووٹوں کی چوری ٗ پوری دنیا میں مذاق بنوانے کے بعد عمران خان کو وزیر اعظم سلیکٹ کروا دیا گیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بن چکے ہیں اور انہیں لانے والوں کا خیال ہے کسی بھی موقع پر عمران خان یہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں کہ وہ ایک صاحب اختیار وزیر اعظم ہیں سو ٹولیوں نے نئی ہدایات پر رنگ بدلنے شروع کردئیے ۔صحافیوں نے ٹی وی پر آکر شرمندگی کا اظہار شروع کر دیا کہ انہوں نے عمران خان کی حمایت کر کے بہت بڑی غلطی کی۔ کوئی اپنی عقل پر ماتم کر رہا ہے ٗ کوئی حیران ہے کہ اس سے ایسی غلطی کیسے ہو گئی ٗ کسی کو خواب میں روحانی بزرگ آکر عمران خان کے خلاف باتیں بتا رہے ہیں۔ یہ تمام آوازیں ان اصلی آوازوں کیساتھ مکس ہونا شروع ہو گئیں ہیں جو پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی خواہاں ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ بھانت بھانت کی بولیاں بول کر سچ کو ایک بار پھر کہیں چھپا دیا جائے۔

اس لئے عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام کی بحالی اور عمران خان کیخلاف بلند ہونے والی ان آوازوں میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ مرضی تو آپ کی اپنی ہے لیکن نئے راگ پر توجہ نہ دی جائے اور اگر پھر بھی کوئی ان آوازوں پر کان دھرتا ہے تو اس کے نقصان کے ہم قطعاً ذمہ دار نہ ہوں گے۔بقول شاعر

کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے

عریانیوں کو اوڑھ لیا ڈھال کی طرح


ای پیپر