دھرتی کے لعل اور لالے!
08 اکتوبر 2019 2019-10-08

ایک عطااللہ عیسیٰ خیلوی ہیں جنہیں میں لالہ کہتا ہوں، دوسرے ہمارے ممتاز دانشور ، کالم نویس اور شاعر اجمل نیازی ہیں، دونوں کا تعلق میانوالی سے ہے۔ دونوں کو اللہ نے اپنے اپنے شعبوں میں جس مقام مرتبے سے نوازا ہوا ہے اُس پر رشک آتا ہے۔ لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایک بار مجھ سے مشورہ کیا ”آوازکی دنیا کو خیر باد کہہ کر سیاست میں آنا کیسا رہے گا ؟ اصل میں ان کے کچھ دوستوں نے اُنہیں میانوالی سے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تھا،مشورہ کیادیا تھا،اس پر باقاعدہ اکسایا تھا۔ خود لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی بھی اس یقین میں مبتلا تھے عمران خان کے ساتھ ایک ذاتی اور علاقائی تعلق کے باعث میانوالی سے قومی اسمبلی کی ایک نشست کے لیے ٹکٹ حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اپنی آواز کا جتنافائدہ عمران خان اور تحریک انصاف کو اس گانے یا ترانے کی صورت میں اُنہوں نے پہنچایا ”جب آئے گاعمران ،سب کی جان، بڑھے گی اِس قوم کی شان، بنے گا نیا پاکستان“ اُس پر اُن کا صرف یہ حق نہیں بنتا تھا کہ عمران خان انہیں قومی اسمبلی کی ایک نشست کے لیے ٹکٹ جاری کردے، بلکہ ان کا یہ حق بنتا تھا کہ میانوالی سے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو ٹکٹیں جاری کرنے کے لیے باقاعدہ اُن سے مشاورت کرے۔ میں یہ بات پورے وثوق پورے دعوے سے کہہ رہاہوں، یہ میں کوئی لالے عطا اللہ کی محبت میں نہیں کہہ رہا کہ پی ٹی آئی نے جتنے ووٹ اپنے طورپر حاصل کیے اس میں بہت بڑا کردار لالے عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے مذکورہ بالا ترانے کا ہے، 2018ءکی الیکشن کمپین کے دوران پی ٹی آئی کے کسی اُمیدوار کا کوئی جلسہ اس ترانے کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ نغمہ پوری الیکشن کمپین میں چھایا رہا، الیکشن کمپین کے لیے نون لیگ اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی کئی نغمے کئی گیت ترانے بناکر لائیں مگر لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کے اِس نغمے کا کوئی توڑ پوری کوشش کے باوجود وہ نہ کرسکیں، .... سو اس خدمت اور محبت کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی ایک نشست کے لیے عمران خان یا پی ٹی آئی سے ٹکٹ حاصل کرنا عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے لیے کوئی مشکل کام نہ تھا، عمران خان کو یقیناً معلوم ہی ہوتا جتنی والہانہ محبت لالے عطا اللہ سے لوگ کرتے ہیں وہ آسانی سے الیکشن جیت لیں گے، البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ بڑی مضبوط ہے ہمارے عوام کو شریف لوگوں کے مقابلے میں چوروں، ڈاکوﺅں، رسہ گیروں اور بدمعاشوں کو ووٹ دینے کی جو عادت یا علت پڑی ہوئی ہے اس کی بنیاد پر وہ الیکشن ہار بھی سکتے تھے، ....سو میں نے لالے کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا، میں نے عرض کیا ”آپ کی عزت اور شناخت کسی وزیر شذیر ، کسی ایم این اے سے کہیں بڑھ کر ہے، کئی مواقعوں پر میں نے خود دیکھا کئی محفلوں میں بے شمار وزیر شذیر موجود ہوتے ہیں مگر اُن محفلوں کی جان وزیروں شذیروں کے بجائے لالہ عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ہوتے ہیں، اُن محفلوں کے شرکاءکی اکثریت لالے عطا اللہ کے اِردگرد اکٹھی ہوتی ہے، بلکہ ایک محفل میں، میں نے دیکھا ایک اہم وفاقی وزیر نے لالے کے ساتھ سیلفی بناکر ثابت کردیا لالے کی عزت زیادہ ہے، شاید اِس لیے زیادہ ہے کہ لالے کو اللہ نے سب سے بڑی اور سب سے زیادہ جس دولت سے نوازا ہے وہ اُن کی عاجزی ہے۔ وزیروں شذیروں کی عزت بڑی عارضی ہوتی ہے، جب عہدہ اُن کے پاس نہیں رہتا عزت بھی نہیں رہتی، پھر ہاتھ ملانا تو درکنار کوئی اُن کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا، سوائے اُن کے جنہوں نے اپنی حکمرانی کو عوام کے لیے آسانی بناکر رکھ دیا ہو، یا مختلف اقسام کی گندگیوں کا کوئی ایک چھینٹا جن کے دامن پر نہ ہو، ایسے لوگ اپنی سیاست میں اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے۔ اگر کوئی مالی کرپشن میں ملوث نہیں تو اُس کی سیاسی و اخلاقی کرپشن کی کہانیاں زباں زد عام ہیں، البتہ اپنی تقریروں وغیرہ میں وہ خود کو ”فرشتہ“ ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، ....ان حالات میں لالے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی سے میں نے کہا ”اللہ نے آواز کی صورت میں جو فن اور مقام آپ کو بخشا ہوا ہے مناسب یہی ہے آپ اُس سے باہر نہ نکلیں، شکر ہے انہوں نے

میری بات مان لی .... اصل میں کچھ لوگوں کو اللہ نے کسی خاص کام یا خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہوتا ہے، وہ جب دیگر دنیاوی مقاصد کی لالچ یا ہوس میں پڑ جاتے ہیں اپنا اصل مقام بھی کھودیتے ہیں، .... وزیراعظم نامزد ہونے کے بعد خان صاحب نے فرمایا ”بٹ صاحب یہ میڈیا کا محاذ اب آپ نے سنبھالنا ہے “.... میں نے پہلے تو اُن کا شکریہ ادا کیا اُنہوں نے مجھے اِس قابل سمجھا، پھرعرض کیا ” یہ میرا کام نہیں ہے، میں صرف پڑھا سکتا ہوں، یا ہفتے میں دوتین کالم لکھ سکتا ہوں، دوسری بات میں نے اُن سے یہ کہی ” لوگوں نے آپ سے توقعات وابستہ کررکھی ہیں آپ جب وزیراعظم بنیں گے ہر کام میرٹ پر ہوگا، میرا یہ میرٹ نہیں بنتا کہ میری تقرری بطور میڈیا ایڈوائزرٹو پرائم منسٹر یا پریس سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کی جائے۔ اور تیسری و آخری بات میں نے اُن سے یہ کہی ”میں اپنے بے شمار کالموں میں جناب عرفان صدیقی پر دبے دبے الفاظ میں اورجناب عطا الحق قاسمی پر بہت کُھل کر تنقید کرتا رہا ہوں کہ اُنہوں نے سرکاری و درباری عہدے حاصل کرکے اپنے وقار کو متاثر کر لیا ہے، اب وہی کام میں خود کروں گا لوگ کیا کہیں گے ؟“،.... میرا خیال تھا میرے دلائل بڑے مضبوط ہیں۔ نامزد وزیراعظم اِس ضمن میں میری معذرت قبول کرلیں گے، اُنہوں نے مجھے سوچنے کے لیے کہا، میں نے اس پر استخارہ کیا منظوری نہیں ہوئی، کچھ بزرگوں اور خیرخواہوں سے مشورہ کیا، اجازت نہیں ملی، دل سے پوچھا دِل نہیں مانا، سو بالآخرایک محبت بھرا مسیج میں نے اُن کے واٹس ایپ پر کردیا، .... میں یہ عرض کررہا تھا کچھ لوگوں کو اللہ نے کسی خاص کام کے لیے منتخب کیا ہوتا ہے، اور صلاحیتیں بخشی ہوتی ہیں، وہ جب اُس سے ہٹ کر کوئی کام کرتے ہیں، یا کسی اور کے چھابے میں ہاتھ مارتے ہیں زیادہ تر ذلیل ورسوا ہی ہوتے ہیں چاہے وہ کچھ جرنیل ہی کیوں نہ ہوں،.... عطا اللہ عیسیٰ خیلوی آواز کی دنیا کے بادشاہ ہیں، اُن کی آواز کے سحر میں مبتلا لوگوں میں اِس کے باوجود کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کہ لوگ خصوصاً نوجوان نسل اب اور ہی طرح کا میوزک پسند کرتی ہے، جو میوزک اور نغمے وغیرہ کم ”چیخیں “ وغیرہ زیادہ ہوتی ہیں، کل میں نے اپنے بیٹے سے کہا ” یار ذرا چیک کرو ساتھ والے کمرے میں کون چیخ رہا ہے ؟ وہ بولا ” بابا چیخ نہیں رہا، علی عظمت گانا گارہا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر