کشمیر ۔۔۔اب وقت شہادت ہے آیا !
08 اکتوبر 2019 (00:19) 2019-10-08

”اللہ کا حکم نہیں ہوا“ اور”اس کی نصرت شامل ِ حال نہ ہوئی۔“ یہ دونوں ہی جملے کسی کام کے نہ ہونے کے لیے سراسر حق پر مبنی ہیں۔ تاہم یہی دو جملے نااہل اور ناکارہ لوگ اپنی ناکامی اور محرومی کے لیے جواز کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں یا پھر ایسا کہنا کہ”یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے “، یہ جملہ بھی پہلے دو جملوں کی طرح غیر فعال اور کمزور لوگ اور قومیں اپنی کمتر حالت کی توجیح میں پیش کرتی ہیں۔ تاہم، یہ آخری جملہ بہرحال بالکل درست ہے اور حقیقت کا آئینہ دار بھی کیونکہ، آزمائش انسانوں پر اور اقوام پر ان کی اپنی کمزوری اور غیرفعالیت کی بنا پر بھی تو آتی ہے ، اور یہ بھی کہ اللہ کی طرف سے آزمائش تو پیغمبروں پر بھی آتی رہی ہے ، اس کے باوجود کہ اپنے اعمال کے معیار میں وہ اعلیٰ ترین سطح پر ہیں۔ بہرحال آزمائش اچھے اور فعال لوگوں پر آئے یا بُرے، غیر فعال افراد اور قوموں پر، اس میں تجدید اور اصلاح کے لیے سبق موجود ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرح کی ورزش بھی ہوتی ہے جس میں کچھ تکلیف برداشت کر کے کوئی اپنے آپ کو زیادہ مضبوط اور توانا بنا سکتا ہے ، اسی طرح آزمائش سے گزرنے والے لوگ ہی سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں، اسی طرح آزمائشوں کا سامنا کرنے والی قومیں بھی زیادہ توانا ہو جاتی ہیں اور بڑے بڑے کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں....گر پڑھ کر اور آزمائشوں کا سامنا کرنے سے ہی انسان اور اقوام کھڑی ہوتی ہیں۔

اوپر کی بحث سے ہم وہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں، جو کہ سوچ کا ایک مثبت انداز وضع کرے گا کہ پاکستانی قوم بشمول کشمیریوں کے بڑی آزمائشوں سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہے ۔ جو ہو چکا سو ہو چکا، اب آگے کا سفر پُر اعتماد انداز میں طے کرنا ہے ، اور یہ بھی کہ جو کچھ ہم پر گزری اس سے سیکھتے ہوئے، جو کچھ دھوکے اور فریب ہم سے کیے جاتے رہے اس سے عقل کے ناخن لیتے ہوئے، جو کچھ کمزوریاں رہیں ان کی اصلاح پر توجّہ دیتے ہوئے یہ سوچ کر آگے بڑھنا ہے کہ ایک پ±رآشام دور سے گزر کر ہم زیادہ توانا اور زیادہ زیرک ہو گئے ہیں۔

مزید یہ کہ لگ بھگ 15برس پاکستانی قوم نے ایک طرح کی اندرونی جنگ میں گزارے ہیں۔ اس دور میں ہماری عوام اور افواج خاصے سخت جان ہو چکے ہیں۔ عموماً ایسے حالات سے گزر کر قومیں تعمیر وترقی کا سفر زیادہ مستعدی سے طے کرتی ہیں۔ امریکہ کی سول وار ہو یا چین اور روس کے انقلابات، ایک سخت دور سے گزر کر ان قوموں نے ترقی کا سفر شروع کیا اور اس کی بلندیوں کو چھو لیا۔ ایران کا اسلامی انقلاب غالباً جدید دور کا آخری قابلِ ذکر انقلاب ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انقلاب کے بعد مسلسل کئی برس کے آزمائشی دور سے گزرنے کے بعد جس میں جنگیں بھی شامل ہیں، آج ایرانی قوم علاقے کی ایک طاقتور قوم کی حیثیت سے دنیا میں جانی جاتی ہے ۔ لہٰذا حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سے آگے کا سفر ترقی کا سفر بن سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ چند دیرینہ مسائل کے حل کی طرف بھی پیش قدمی ہو سکتی ہے جس میں کشمیر کا قضیہ سرِفہرست ہے ۔

کشمیر کے معاملے میں کچھ ایسا ہوا ہے کہ ایک اہم ترین انسانی مسئلہ جو سالہا دنیا کی نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا، 5 اگست کے بھارتی فیصلے نے اس معاملے کو دنیا بھر کے سیاسی ایوانوں اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے مباحثت میں شامل کر دیا ہے ۔ شاید پاکستان کی بہت زیادہ کوشش بھی وہ کام نہ کر پاتی جو بھارتی حکومت کے کشمیر سے متعلق حالیہ فیصلوں اور اقدامات نے کر دیا ہے ۔ مزید یہ کہ پے در پے بھارتی حکومت ایسے اقدامات اٹھاتی جا رہی ہے جس سے اس کی تنگ نظری اور فاشسٹ فکر دنیا کے سامنے آتی جا رہی ہے ۔ آپ اس دور کا 45۔1939ءکے دور کے یورپ سے موازانہ کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آج کے بھارت اور اس دور کے یورپ میں ہونے والے واقعات اور اس پر دنیا کا ردّعمل ملتا جلتا ہے ۔ یورپ کے حالات پر خود یورپ کو اور دنیا کو بیدار ہونے میں کئی برس لگے. پھر اس دور میں جوں جوں فاشسٹ ہتھکنڈوں اور نسل پرستی کی بنیاد پر انسانوں پر کیے جانے والے مظالم بڑھے تو بالآخر ان حالات نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا، اور پھر ایک معرکہ ہوا جسے ہم جنگِ عظیم دوّم کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

میں 2018ءمیں پہلی بار جرمنی گیا تو وہاں قیام کے دوران اُن مقامات پر گیا جہاں نازی دور کے عقوبت خانے اور کنسنٹریشن کیمپس ہوا کرتے تھے تو یقینا اس انسانی المیے کے متعلق میرے احساسات میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ میں نےBergen-Belsen کیمپ کے میدان میں جہاں ہزاروں افراد کی مشترکہ قبریں موجود ہیں، اس کرب کو محسوس کیا اور اس تڑپ نے میرے دل کو چھو لیا جو یہاں پر قید کیے گئے اور ستائے گئے ہزاروں افراد کی تڑپ تھی۔ میں نے ان الفاظ کی بازگشت سنی جو اس سانحے کے گزر جانے کے بعد اقوامِ عالم میں مقبول ہوا۔ Not Again.... وہاں میں نے ایک برطانوی سپاہی کے ریکارڈ کیے ہوئے یہ الفاظ سنے جو اس نے اس مقام پر برطانوی فوجوں کے قبضے کے فوراً بعد کہے، اس کے الفاظ کچھ یوں تھے،”میں نہیں جانتا کہ یہ لوگ یہاں پر کیا کرتے رہے ہیں، میں بس اتنا جان گیا ہوں کہ میں جس مقصد کے لیے جنگ میں شریک ہوں وہ درست ہے ،“ یہ اخلاقی قوّت کسی بھی جنگ یا معرکے میں فتح حاصل کرنے میں بہت مددگار ہوتی ہے اور آج پاکستانیوں اور پاکستانی افواج کو اپنی سخت کوش تربیت کے علاوہ یہ برتری بھی حاصل ہے کہ اگر کشمیر کے معاملے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی معرکہ ہوتا ہے تو:

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دور ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

غالباً یہ اخلاقی برتری کی صورتِ اتنے شدید انداز میں کبھی بھی پاکستان کو حاصل نہ رہی ہو گی جو کشمیر کے معاملے کو لے کر اور پورے بھارت کے حالات کی بنا پر آج ہمیں حاصل ہے ۔ جنگیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلے بھی ہو چکی ہیں مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کی نصرت بھی ساتھ ہو گی اور اقوامِ عالم کا آپ کے نظریے اور اخلاقی پوزیشن کی حمایت کرنا بھی اسی نصرت کا ایک پہلو ہے ۔ کیونکہ جب یہ نصرت ہوتی ہے تو انسانی رویّے بھی آپ کے معاون ومددگار ہو جاتے ہیں۔

غالباً یہ معاملہ چند زور میں حل ہونے والا نہیں اس لیے اس کے لیے طویل مدّتی تیاری اور خاصے عرصے تک کمربستہ رہنا اور مسلسل جد وجہد کرنا گی تاکہ ہم مسئلہ کشمیر کو اور بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں۔ قلم کار اپنی تحریروں سے، مقرر اپنی تقریروں سے اور قائدین اپنی حکمت وتدبّر سے اس مسئلہ کو اپنے منطقی انجام یعنی کشمیر کی آزادی تک دنیا کی اور بالخصوص پاکستانی قوم کی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ دنیا بھر میں ایسے ذہین اور قابل سفارت کار تعینات کیے جائیں جو پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک سے، جس کے قائم کرنے کاعندیہ حکومت نے دیا ہے ، بھرپور اور م¶ثر انداز میں اس مسئلہ کی سنگینی سے دنیا کو آگاہ کریں اور اسے ایک عالمی انسانی بحران کے طور پر پیش کریں اور ساری دنیا میں رائے عامہ اور حکومتی پالیسیوں پر اپنی سفارتی مہارت سے اثر انداز ہوں۔ ہم بہت عرصے تک شدّت پسندی اور دہشت گردی کے پروپیگنڈے کی بنا پر بیک فٹ پر کھیلتے رہے ہیں۔ اب تقریباً ویسے ہی حالات پیدا ہو رہے ہیں جو افغانستان میں روسی فوج کشی کے بعد پیدا ہوئے تھے اور پاکستان دنیا کے ممالک کی اکثریت کی آنکھوں کا تارہ بن گیا تھا۔ ایک لہر ہے جو چل پڑی ہے ، اب اسے تندورفتار موج بننے تک جاری رکھنا ہے ۔

دوسری جانب ہر وقت یہ اندیشہ موجود ہے کہ کشمیر میں حالات بہت بگڑ جائیں اور بھارت کشمیریوں پر اپنے ظلم وجبر میں اضافہ کرتاچلا جائے اور اپنا دبا¶ بڑھاتا جائے۔ ایسی صورت میں پاکستان پر لازم ہو جائے گا کہ ان مظالم کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں جنگ چھڑ جائے ، ہمارے لئے ہر اعتبار سے اس ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ضروری ہے ۔ ہم اپنی عسکری اور عوامی سطح پر موجود سخت کوشی کے علاوہ اپنی اخلاقی برتری کا ذکر اوپر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اونٹ کو پہلے کھونٹے سے باندھنا ہے پھراللہ پر توکل کرنا ہے ۔ لہٰذا حربی ضروریات کے تناطر میں کسی بھی لمبی جنگ کی صورت میں اپنے سپلائی کے راستوں کو مضبوط کرنا اور دشمن کے سپلائی کے راستوں کو محدود کرنا نہایت اہم ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں بین الاقوامی تعلقات بہت اہم ہیں۔

اس بات پر پاکستانی قوم زیادہ غم نہ کرے کہ فلاں ملک نے مودی کو تمغہ دے دیا اور فلاں سے بھارت کا تجارتی معاہدہ ہو گیا ہے ۔ جان لیجیے کہ مسلم دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں کشمیر کے مسئلے پر، عوامی سطح پر کشمیریوں سے ہمدردی اور پاکستانی مو¿قف کی حمایت موجود ہے ۔ اور یہ حمایت نہایت اہم ہو گی جب بھارت پر بین الاقوامی دبا¶ میں اضافہ ہو گا، ایسی صورت میں ان ممالک کی حکومتیں بھی جہاں کی عوام اور حکمرانوں کے درمیان بہت فاصلہ رہتا ہے ، عوامی اور بین الاقوامی رائے کے خلاف نہیں جائیں گی۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ مسلم امّت کا تصور اب ماند پڑھ گیا ہے ۔ امّت حکومتوں سے نہیں عوام سے بنتی ہے اور عوام امّتِ محمّدی کے رشتے میں مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر