اللہ رب العزت کی پنا ہ میں آنے کا طریقہ
08 اکتوبر 2019 (00:07) 2019-10-08

اللہ رب العزت کی پنا ہ میں آنے کا طریقہ

بندہ ¿مومن کو کسی بھی وقت غافل وبے فکرنہیں رہنا چاہیے

ڈاکٹر شاہ محمد تبریزی القادری

تعوّذکیا ہے؟وسواس شیطانی سے بچنے کیلئے ”اعوذباﷲ من الشّیطٰن الرّجیم“پڑھنا ”تعوّذ“کہلاتا ہے۔ اسی سے تعویذ ہے، یعنی پناہ لینا یا پنا ہ میں آنا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔”جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے “(سورہ النحل)۔

نزول تعوّذکے بعد رب کریم نے قبل از قرا¿ت قرآن، تعوذ پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ امام ابوبکر احمد بن علی جصاص رازی حنفی اپنی معروف تفسیر ”احکام قرآن“میں فرماتے ہیں۔ جب (کوئی شخص) قرا¿ت کرے تو لازم ہے کہ قرآن پڑھنے سے پہلے استغاذہ (تعوذ) پڑھے اور حقیقت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب (کوئی شخص) قرآن پڑھنے کا ارادہ کرے تو (سب سے پہلے) استغاذہ کرے۔“

تفسیرماجدی میں ہے۔” اللہ سے پناہ مانگنے اور پناہ بارگاہ الٰہی میں آجانے کا حکم اس لئے ہے کہ بشر بلا امدادالٰہی شیطان کے دفع کرنے پر قادرنہیں۔ اس سے یہ اشارہ بھی نکل آیا کہ بندہ مومن کو غافل وبے فکر کسی وقت بھی نہ ہونا چاہیے۔ اس آیت کریمہ سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ نزغ یاغصہ کے وقت استعاذہ (تعوذپڑھنا ) مستحب ہے۔“کیوں کہ غصہ کے وقت شیطان غالب ہوتا ہے اور شیطان کا کام ہی اشتعال انگیزی ہے۔

علامہ شہاب الدین سید محمودآلوسی اپنی مشہورتفسیر ”روح المعانی“ میں فرماتے ہیں۔”اور عبد الرحمن بن زید تفسیر فرماتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں اس آیت پر، ان کے نزدیک افسردگی ومایوسی، نااُمیدی و غصہ اور غضب (کے وقت) استغاذہ (تعوذ)کرنا مستحب ہے۔“

حافظ الدین محمودابی البرکات عبد اﷲ بن احمد النسفی الحنفی المعروف بہ ”علامہ نسفی “ اپنی ممتاز تفسیر مدارک التزیل، المشہو ر،”مدارک “میں فرماتے ہیں۔ شیطان کا اختیار ہر بشر پر ہے، اس سے صوفیائے کرام ہی نہیں بلکہ اولیائے کرام ومشائخ عظام، صدیقین وصالحین اور متقین وعابدین حتیٰ کہ انبیائے کرام بھی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ نہایت ہی مکار و عیاراور تیز وطراردشمن ہے، جسے قرآن کریم میں ”عدوّمّبین “(انسان کا کھلا ہوا دشمن )کہاگیا ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے اور اُس پر جگہ جگہ لعنت وملامت کی گئی ہے۔کہیں اُس کو ”رجیم“(مردود)کہاگیاہے اور کہیں ”ابلیس “(انتہائی مایوس)

قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ”بے شک شیطان تمہاراکھلا دشمن ہے“۔(سورہ الاعراف )

شیطان کے لفظی معنیٰ خبیث، سرکش، دور ہونے والا، سرکشی دکھانے وال ااور مخالفت کرنے والاکے ہیں۔کیوں کہ ابلیس لعین نے سر کشی دکھائی اور حکم الٰہی کی مخالفت کی، اس لئے اسے یہ نام دیا گیا۔ شیطان وہ ہے جو اپنے شیطانی افعال اور بُرے کاموں کے سبب خیروبرکت اور رحمت الٰہی سے دور ہو گیا۔“

عربی زبان میں شیطان سانپ کی ایک قسم کو بھی کہتے جو نہایت سرکش اور خبیث ہوتا ہے۔

اﷲ رب ذوالجلال نے اپنے پیارے محبوب کو شیطان سے بچنے اور اس سے پناہ مانگنے کی خاص طو پر تاکید فرمائی ہے۔ قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے۔ ”اور تم عرض کرو (اے میرے محبوب ) اے میرے رب (میں) تیری پناہ (مانگتا ہوں) شیطان کے وسوسوںسے “(سورة المومنون)

اﷲکی پناہ مانگناشیطان مردودسے سنت انبیاءؑ ہے اور تلاوت قرآن کریم سے قبل تعوذ پڑھنا ضروری اس لئے قراردیاگیا تاکہ وسواس شیطانی سے محفوظ ومامون ہوکر احسن طور پر یکسو ہو کر پڑھا اور سمجھا جا سکے۔ اس فرمان الٰہی سے یہ بھی معلوم ہواکہ قرآن تو انسان کیلئے گناہوں سے بچنے کی مکمل ڈھال ہے، لیکن تعوذ دفع وسواس شیطان کیلئے تلوار ہے جس سے پہلے وہ اپنا دفاع کرتا ہے اور بعد میں تلاوت قرآن حکیم کے ذریعے شیطان کا قلع قمع کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ تعوذصرف تلاوت قرآن عظیم کے وقت ہی پڑھنا خاص نہیں ہے بلکہ کسی بھی کام کا ابتداءسے قبل پڑھ لیاجائے تو بہتر ہے کہ اس طرح ہر مقام پر شیطان کے وسواس، دھوکہ وفریب، چال ومکراور گمراہی سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور پوری تندہی، لگن، محنت وتوانائی، حاضر خیالی اور روشن دلی کے ساتھ وہ کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ بہ صورت دیگرذہن بٹ جانے یا سستی آجانے، کاہلی وکمزوری اور دل پژمردہ ہو جانے کی صورت میں کام کی نوعیت بگڑ جانے یا اس کی ہیت تبدیل ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

مولانا عبد الماجد دریابادی ”تفسیر ماجدی “میں لکھتے ہیں کہ ”ہر شر، ہر مصیبت کی ابتداکسی نہ کسی وسوسہ ہی سے ہوتی ہے۔ وسوسہ دل میں اگر آکر نکل گیا تو انسان محفوظ رہ گیا۔ لیکن وہی وسوسہ اگر جم گیا تو انسان کوکسی نہ کسی درجہ کی مضرت دینی میں پھنسا کر یقینا رہتا ہے۔ وسوسہ سے پناہ مانگنے کی تعلیم اسی لئے عین حکمت پر مبنی ہے۔

کشاف، اصلاحات الفنون کے مصنف لکھتے ہیں کہ ”شیطان کی دو جنسیں ہیں ، ایک وہ جو جنوں کوگمراہ کرتے ہیں ،انہیں”شیاطین الجن “کہتے ہیں ،دوسرے وہ جو انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں ،انہیں ”شیاطین الانس “کہتے ہیں۔“

علامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی ”حاشیہ کنزالایمان فی ترجمة القرآن“میں فرماتے ہیں ۔” وسوسے ڈالنے والے شیاطین جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ، جیسا شیاطین جن انسانوں کو وسوسے میں ڈالتے ہیں، ایسے ہی شیاطین اِنس بھی ناصح بن کر آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، پھر اگر آدمی ان وسوسوں کو مانتا ہے تو اُس کاسلسلہ بڑھ جاتا ہے اور خوب گمراہ کرتے ہیں اور اگر اس سے متنفر ہوتا ہے،تو ہٹ جاتے ہیں اور دُبک رہتے ہیں“۔

اﷲرب ذوالجلال قرآن کریم میں ارشادفرماتاہے۔”من الجنة والناس “(خواہ جنات میں سے ہویاانسانوں میں سے )(سورة الناس)

یہ آیت کریمہ اس بات پر دال ہے کہ شیطانی وسوسہ اندازی کا کام جنات بھی کرتے ہیں اور انسان بھی۔ علامہ اثیر الدین ابو عبد اﷲ محمد بن یوسف بن حیان الاندلسی شہیر بہ ابن اثیر اپنی مشہورتصنیف ”البحرالمحیط “میں فرماتے ہیں۔ وسوسہ اندازوں میں سے کوئی جن ہوتاہے اور کوئی انسان“

قرآن کریم میں شیطان کالفظ اوراس کا ذکر بدی کی ایک زبردست قوت کے طور پرآیا ہے جو ازل سے آدم کوگمراہ کرنے کے لئے برسرِ پیکا رہے۔ وہ عظمت آدم کا بھی انکاری ہے اور وہ آدم کو جنت سے نکالے جانے کا سبب بھی۔ منافقین کے گمراہ کن قائد کو بھی قرآن میں ”شیاطین“کہاگیا ہے۔

بخاری ومسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سید عالم شب کو جب بستر مبارک پر تشریف لاتے تو اپنے دونوں دست مبارک جمع فرماکر ان میں دم کرتے اور سورہ ¿ قل ھو اﷲاحد، وقل اعوذبرب الفلق اور قل اعوذبرب الناس (یعنی سورہ اخلاص، سورہ فلق اورسورہ الناس ) پڑھ کر اپنے مبارک ہاتھوں کو سرمبارک سے لے کر تمام جسم اقدس پر پھیرتے جہاں تک دست مبارک پہنچ سکے، یہ عمل تین مرتبہ فرماتے۔

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم نورمجسم نے ارشاد فرمایاکہ۔

انسان کو شیطان پیدا ہوتے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں چوکا (ٹہوکا)دیتا ہے مگر سوائے عیسیٰ(علیہ السلام )کے،کہ وہ آیا تھا، انہیں چوکا دینے کیلئے لیکن پردے میں چوکا دے کر چلاگیا۔(صحیح البخاری )

حضور نبی کریم نے ایک اور مقام پرارشاد فرمایا۔”جب تمہاری طبیعت خراب ہو یا جی متلارہا ہو تو یوں نہ کہوکہ میراجی ”خبیث “ہو گیا ہے بلکہ یوں کہوکہ میراجی متلارہا ہے“(بخاری ومسلم )

سوال یہ ہے کہ اﷲرب کریم شیاطین لعین کو یہ مواقع کیوں فراہم کرتاہے کہ وہ اس کے محبوب بندوں کوپریشان کرے اور ان کوآزمائش وامتحان میں ڈالے۔ اس کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ اگر شیطان کو یہ موقع فراہم نہ کیاجائے تو وہ کس طرح بندے کے جسم میں سرایت کرے گا اور جب وہ اپنے اثرات بد(جراثیم )جسم انسانی میں داخل نہیں کرے گا تو اس کے بہکاوے میں کون آئے گا۔ اس کی ہمنوائی کون کرے گا، لمس شیطانی کا مقصد انسانی جسم پر اختیارحاصل کرنا ہے لیکن تعوذ اس شیطانی سازش اور مکروحیلہ سے بچنے کا بہترین ہتھیارہے۔ شیطانی اثرات کے تحت ہی انسان گناہ کرتا ہے اور جب بندہ گناہ نہیں کرے گا تو اﷲرب ذوالجلال اپنی قہاریت وجباریت اور رحمانیت کا اظہار کس پر کرے گا اور جزاءوسزاکا دن کس کے لئے مقرر ہو گا اور جنت ودوزخ کی حقیقت کس طرح اور کن پر واضح ہو گی۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود رب کریم جسے چاہتا ہے اسے شیطان لعین کے ٹہوکے اور چرکے، ابلیس کے مکروفریب اور دجل ودغا سے محفوظ رکھتا ہے اوراللہ کے ان برگزیددہ بزرگ ہستیوں پر شیاطین کی چالوں کا کوئی اَثر نہیں ہوتا اور ان پر اس مردودکا کوئی جادو نہیں چلتا اور ان کے جسم پر اس کو کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ جیسا کہ قرآن کریم شاہد و مبشر ہے کہ حضرت مریم ؑ کی والدہ ماجدہ محترمہ حنہّ بنت فاقوذاجوکہ اپنے وقت کی بڑی پاک باز، راست گواور نہایت ہی نیک خاتون تھیں، نے شیاطین مردود سے پناہ مانگی تھی۔

حضرت ابوالدرداؓ فرماتے ہیں۔”ایک مرتبہ شام سے کچھ لوگ آئے، انہوںنے کہا۔”تم میں وہ موجودہے جن کو بچا لیا تھا اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبان پر۔“ (بخاری )۔

اس حدیث کریمہ سے معلوم ہواکہ اللہ رب کریم اپنے بندوں کی حفاظت شیاطین مردودسے خودفرماتاہے اور اس کے محبوب اپنے غلاموں کی حفاظت ابلیس لعین سے فرماتے ہیں۔

حضور نبی کریم ارشادگرامی ہے ”شیطان انسان کے جسم میں خون کی راہوں (رگوں )سے پیر (تیر )کر سرایت کرجاتا ہے“۔ ایک اور مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا۔”بے شک اپنے بچوں کو شیاطین اور خبیث مت کہو (ان ناموں سے مت پکارو)کہ یہ ناموں میں سب سے برے نام ہیں “

حضرت ابی مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضور نے ارشادفرمایا۔”جب تم گدھے کی آواز(ہینگ )سنو تو تعوذ،اعوذبااﷲمن الشیطن الرجیم “پڑھو کیوں کہ بے شک وہ شیطان ہنہناتا ہے“(صحیح مسلم)

حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو ایسے سے مددچاہوجواس کودیکھتا ہواوروہ (شیطان)اسے نہ دیکھ سکے یعنی اللہ کریم، ستار، رحیم، غفار سے مدد چاہو“۔ اللہ رب کریم ہم سب کو شیطٰن رجیم وابلیس لعین کے شروآفات سے محفوظ ومامون رکھے۔ (آمین )

٭٭٭


ای پیپر