سندھ میں نیب غیر معمولی طور پر متحرک
08 اکتوبر 2018 2018-10-08

سندھ میں نیب ایک بار پھر سرگرم ہو گئی ہے۔ مختلف محکموں میں مبینہ تحقیقات از سرنو شروع کردی ہے۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ اس کیس میں بینکنگ کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت میں 16 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق صدر حسین لوائی، بینکر طحٰہ رضا، انور مجید ان کے بیٹے عبدالغنی اس کیس میں گرفتار ہیں۔ منی لانڈرنگ کیس میں جے آئی ٹی نے حکومت سندھ کے زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کا 10 سال کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ٹیم نے بینک اکاؤنٹس کی اسٹیٹمنٹس اور متعلقہ افسران کے دستخطوں کے ساتھ مانگا ہے۔ سندھ حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دس سال کے دوران بحران کا شکار جن صنعتوں کی مالی امداد کی ہے اس کی تفصیلات بھی دی جائیں۔ آبپاشی، کمیونیکشن اینڈ ورکس محکموں کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ جے آئی ٹی نے سندھ حکومت کو جو خط لکھا ہے اس میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں پانچ ملزمان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ بینکنگ کورٹ کے جج نے سمٹ بینک کے سربراہ اور دیگر کو اشتہاری قرار دینے کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے اور پانچوں ملزمان کی ملک میں موجود املاک کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ نیب ٹیم نے2013ء سے 2017ء تک اومنی گروپ کی شگرملز کو دی گئی سبسڈی کی تفصیلات طلب کی ہیں ۔محکمہ زراعت اور کین کمشنر کو بھیجے گئے خط میں پوچھا گیا ہے کہ یہ سبسڈی کس قانون کے تحت دی گئی؟ اس کا کاشتکاروں کو فائدہ پہنچا بھی یا نہیں؟بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں الاٹ کی گئی زمین کا معاملہ بھی کرپشن کے دائرے میں لے لیا گیا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس نے یہ رریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں زمین دھوکہ دہی کے ساتھ لیز پر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین لیز پر دینے کا معاملہ بھی نیب کے حوالے کیا جائے۔ نیب نے سندھ سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی بھی تحقیقات شروع کردی ہے اور ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ نیب نے کارپوریشن کے ایم ڈی، حیدرآباد اور لاڑکانہ کے ڈائریکٹرز کو بھی طلب کیا ہے۔ صنعتی پلاٹ کمرشل مقاصد کے لئے الاٹ کئے گئے تھے۔ سندھ سمال انڈسٹریز کے معاملات کی محکمہ جاتی اگرچہ سندھ کے محکمہ انسداد رشوت ستانی کی جانب سے بھی تحقیقات ہوئی تھی۔ حالیہ اقدامات کے بعد کارپوریشن میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے کئے گئے ہیں۔
سولر منصوبے کے لئے جاری کی گئی بجٹ کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ روشن سندھ منصوبے کے تحت 2014-15 میں دو ارب روپے جاری کئے گئے تھے۔ منصوبے میں کرپشن اور مہنگے داموں اسٹریٹ لائٹس خرید کرنے اور خریداری سے زائد تعداد دکھانے کے الزامات ہیں۔ صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے نیب
کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے پر 8 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی گئی ہے۔ یہ رقومات صوبے کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں اسٹریٹ لائٹس کے لئے جاری کی گئی تھی۔ ادھر سابق ایم پی اے غلام محمد شہلیانی اور ان کے بیٹوں کے خلاف نیب نے ریفرنس داخل کر دیا ہے۔ ان پر گڑھی خیرو میں ترقیاتی کاموں میں 197 ملین روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ پی پی پی کے سابق وزیرشرجیل میمن پہلے ہی گرفتار ہیں ۔ وہ اشتہارات میں مبینہ کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف 2012ء میں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 43 انفرمیشن افسران کی بھرتی کی تحقیقات ہو رہی ہے۔
ان واقعات پر براہ راست ردعمل پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ کا آیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹی وی پر چلایا جارہا ہے کہ نیب نے خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں، الزام لگایا جارہا ہے کہ میں نے جاگیریں بنائی ہیں، احتساب کا چیئرمین بیوقوف نہیں کہ خورشید شاہ کے خلاف ایسا کام کرکے خود پر داغ لگائے،ہمیں کوئی ڈر یا خوف نہیں، ہم نے جیلیں دیکھی ہیں، کوڑے کھائے ہیں، میرے خلاف نیب کے کیسز کی خبریں چلیں مگر کوئی جرم ثابت تو کر کے دکھائے، انتقام کی بو آرہی ہے،میرے سامنے لاکھوں ایکڑ زمین تھی مگر نہ خود، نہ بیوی اور نہ ہی بیٹے کے نام پر قبضہ کیا، اربوں روپے مالیت کے پلاٹوں سے قبضہ چھڑواکر اسپتال، پارک اور تعلیمی ادارے بنوائے۔
گزشتہ دور حکومت میں جب نیب نے سندھ کے مختلف محکموں میں گھس کر مبینہ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھی تو پیپلزپارٹی نے سخت احتجاج کیا تھا۔ اور متوازی نیب قانون کا بل بھی پاس کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کا یہ موقف تھا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نیب صوبائی معاملہ ہے۔
ان واقعات کے بعد پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور میڈم فریال تالپور جو گزشتہ دور حکومت میں عملی طور پرسندھ کے معاملات چلارہی تھیں، یہ دونوں سیاسی منظر سے غائب ہیں معاملات پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دیکھ رہے ہیں۔ سندھ حکومت بھی نیب کی تحقیقات کے معاملات کی وجہ سے اس کو جواب دینے میں الجھی ہوئی ہے۔ شہباز شریف کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی کا ردعمل سامنے آیا ہے، تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف اور خاص طور پر منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف تحقیقات کے معاملات ہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے میں بہت زیادہ آگے جانا نہیں چاہتی۔
پی پی پی کی قیادت سخت مشکلات کا شکار ہے ۔منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو چار مرتبہ طلب کیا۔ اب سپریم کورٹ کی ہدایت پرجے آئی ٹی نے باضابطہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ پی پی پی قیادت مخمصے کا شکار ہے۔ وہ متحدہ اپوزیشن کا حصہ بنے یا اپنی الگ حیثیت برقرار رکھے جس میں اپوزیشن تقسیم ہے۔گزشتہ ماہ یہ اطلاعات آرہی تھیں کہ آصف علی زرداری کو ڈیل کی پیشکش کی جا رہی ہے جس کے تحت سابق صدر اور ان کی بہن فریال تالپور 5 سال کے لیے بیرون ملک چلے جائیں گے۔ مقتدر حلقوں کے پاس پیپلزپارٹی کے لئے دو آپشن تھے۔ پہلا آپشن یہ کہ نوازشریف اور مریم نواز کی طرح آصف زرداری اور فریال تالپور کو جیل بھیج دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ موجودہ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت تک دونوں بہن بھائی بیرون ملک چلے جائیں۔ پنجاب اور وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف عددی اعتبار سے بہت زیادہ مستحکم پوزیشن میں نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کسی حد تک اس کا ازالہ ضمنی انتخابات میں ہو جائے۔ حالیہ پروجیکٹ چلانے والے حلقے چاہتے ہیں کہ جس طرح نوازشریف کا احتساب ہوا ہے اسی طرح آصف زرداری اور دیگر کا بھی احتساب کیا جائے۔ صرف شریف خاندان کے خلاف احتساب کرنے کا پنجاب میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ دوئم یہ کہ موجودہ معاشی حالات میں ویسے ہی حکومتی معاملات چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی صورت میں عام لوگوں پر مزید ٹیکس اور مزید مہنگائی کا بوجھ پڑنے ولا ہے۔ ایسے میں مضبوط اپوزیشن عمران خان کے لئے مزید مشکلاتیں پیدا کرے گی۔


ای پیپر