بلی آ گئی ہے تھیلے سے باہر
08 اکتوبر 2018 2018-10-08

اب بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے ۔ سی پیک کے بارے میں جو مؤقف ڈیڑھ ماہ کی حکمرانی میں آ چکا ہے ۔ کبھی انکار کبھی اقرار کہ سی پیک کی چوکیداری ہم کریں گے۔ تحریک انصاف کے وزیر خسرو بختیار کو ان امور کا وزیر بھی بنایا گیا۔ کپتان نے گوادر کا ایک روزہ دورہ کیا۔ مقصد تو سی پیک میں بلوچستان کو اس کا جائز حصہ اور مقام دینا تھا بلی اس لیے بھی تھیلے باہر آ چکی ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ جو وزیراعظم بننے سے پہلے انتخابی جلسوں میں کہا کرتے تھے شہبا زشریف اب تمہاری باری ہے ۔ بلی تھیلے سے بھی باہر آ گئی ہے چیئر مین نیب اور گرفتاریاں بھی کرنے والے ہیں۔ یہ ہے کھلم کھلا پری پول رگنگ بلاول بھٹو زرداری سے لے کر اسفند یار ولی تک اس گرفتاری پر بولے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کہاں پھنس گیا ہے ۔ مطالبہ اجلاس بلانے کا ہو رہا ہے ۔ اجلاس کب ہو گا دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر کے پاس گرفتاری کا معاملہ الیکشن کمیشن کے نام مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے خط لکھ کر کافی سوال اٹھائے ہیں۔ خاص طور پر ضمنی انتخاب سے پہلے ہی فارم 45 پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور اس بار پھر شہباز شریف کی گرفتاری نے پری پول رگنگ کا سوال اٹھایا سے خط کا نشانہ ہے نیب اور حکومت ہے راجہ ظفر الحق نے شہباز شریف کی گرفتاری کو عمران حکومت اور نیب کا گٹھ جوڑ قرار دیا ہے اور انہوں نے شہباز شریف کی گرفتاری کو بلا جواز بھی قرار دیا ہے ۔ کرپشن پر نہیں بلایا گیا اس بات پر بلایا گیا کہ صاف پانی کی تحقیقات کرنی تھی لیکن گرفتاری آشیانہ سکیم میں کر لیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ہیلی کاپٹر کیس اور نندی پور سکینڈل میں ٹھوس ثبوت ہونے کے باوجود گرفتار نہیں ہوئے۔ضمنی انتخابات ہر صورت میں حکومت جیتنا چاہتی ہے ۔ فواد چودھری کی چھوڑی ہوئی صوبائی نشست پر فواد چوہدری نے جو اودھم مچا رکھا ہے اس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس تو لیا ہے مگر مداخلت سے انتخابی ماحول خراب ہو رہا ہے شہباز شریف کی چھوری ہوئی صوبائی نشست پر شوکت سہیل بٹ امیدوار ہیں وہاں کیا ہو رہا ہے خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ہمایوں اختر ہیں۔ 1993ء میں انہوں نے نواز شریف سے پھڈا کیا ۔ مسلم لیگ (ن) نے ان کو ٹکٹ نہیں دیا۔ ہمایوں اختر نے بغاوت کی پھر گھٹنے ٹیک دیئے۔ نواز شریف نے ہمایوں اختر کو بتا دیا تھا کہ تمہیں ووٹ نواز شریف کے نام پر ملتے ہیں۔ پھر نواز شریف نے انہیں رحیم یار خان سے کامیاب کرا کر بتایا کہ ووٹ شیر کو ملا تھا۔ 2002ء میں رات کو اکرم ذکی سے شکست کھا کر سوئے مشرف کی انتظامیہ نے تو نتیجہ ہی بدل دیا۔ ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا کر خود وزیراعظم کی آرزو سمجھائی تو ظفر اللہ جمالی اور چوہدری شجاعت حسین نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ چوہدری شجاعت ان کی جگہ وزیراعظم بن گئے پورے دس سال ایک تھینک ٹینک چلاتے رہے۔ اب عمران خان کی خالی سیٹ لینے کے لیے ہمایوں اختر خاصے سرگرم ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کے مطابق وزیراعظم عمران خان ہمایوں اختر کو کہہ چکے ہیں کہ جو بھی ہو یہ حلقہ پی ٹی آئی کے نام ہونا چاہیے۔ درخواست کے باوجود سعد رفیق کے حلقے کی دوبارہ گنتی نہیں کی گئی ۔ عمران خان نے کامیاب ہونے کے بعد اعلان کیا اپوزیشن جو حلقہ کھولنے کا کہے گی کھول دیا جائے گا مگر جب این اے 131 پر گنتی کی درخواست دی گئی ۔ اپنا وکیل بھیج کر دوبارہ گنتی کی مخالفت کر دی۔ اپوزیشن میں رہ کر بات کرنا بڑا آسان کام ہوتا ہے ۔ اسد عمر صاحب اپوزیشن کے خلاف گیس اور تیل کی قیمتوں پر نواز شریف اور
شاہد خاقان عباسی کے خلاف بھرپور حملے کرتے رہے اور کہتے رہے ہیں کہ حکمران تیل اور گیس پر بھاری ٹیکس عوام کی جیبوں سے نکال رہے ہیں۔ اب گیس تو پٹرول سے بھی آگے چلا گیا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا اضافہ ہے ۔ مہنگائی تو اتنا آسان نہیں لینا چاہیے۔ جب آپ کسی بھی چیز پر ٹیکس لگاتے ہیں اس کے اثرات براہ راست عام لوگوں پر پڑتے ہیں۔ ایسا ہی 1977ء میں بھٹو کے اقتدار کے خاتمے میں ہوا۔ پاکستان قومی اتحاد کے رہنماؤں نے اپنے شور میں یہ بھی لکھا تھا کہ قیمتوں کو 1970ء والی سطح پر لایا جائے گا۔ اس نعرے سے عام لوگ قومی اتحاد کے حمایتی بنے۔ اپوزیشن تو ایسا ہی کرتی ہے مگر پاکستان میں تبدیلی لانے والے حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے رابطہ کر لیا ہے جس کے بعد حکمرانوں کو 10 بلین ڈالر قرض مل سکتا ہے ۔ اس نے عوام سے کیا ہوا عہد توڑ دیا ۔ شہباز شریف کی گرفتاری سے سیاسی میدان میں گرم ہو گیا ہے ۔ نواز شریف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ حکومت کو آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ وہ لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ ایک صحافی کو دیئے گئے انٹرویوز کی بنیاد پر نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کا الزام لگا کر ایک وکیل نے جو مقدمہ کیا تھا اس میں نواز شریف پیش ہوئے۔ نواز شریف کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا گیا ۔ نواز شریف جو ابھی تک اپنی اہلیہ کے غم سے نہیں نکلے اور نہ ہی کارکنوں کو لاہور ہائی کورٹ بلایا تھا مگر نواز شریف کے آتے ہی پورا میڈیا متحرک ہو گیا۔ نواز شریف پاکستان کے مقبول لیڈر ہیں وہ جہاں بھی جائیں گے۔ سیاست، عوام اور میڈیا ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ شام کے چینل شو کا آغاز بھی نواز شریف کی غداری کیس میں پیشی سے ہو گا۔ نواز شریف پر بینظیر نے پہلے بھی غداری کا مقدمہ چلانے کی کوشش کی تھی۔ امریکہ کے خبردار کرنے پر یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا تھا۔ دوسری جانب شہباز شریف کو گرفتار کر کے نیب نے اپنی غیر جانبداری پر دھبہ لگا لیا ہے ۔ یہ معاشرے کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے ۔ اگر آپ حکمران اور جابر حکمران سے پوچھ کر کلمہ حق کہیں گے اس کو کوئی نہیں جانے گا۔ آپ کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگیں گے کیونکہ احتساب میں آپ کی جانب سے عدل ، انصاف اور برابری نہیں برتری جا رہی۔ آج پوری اپوزیشن نیب کے ظالمانہ حکام پر ایک زبان ہو کر احتجاج کر رہی ہے ۔ جس ادارے کی بنیاد ہی بدنیتی اور طاقت کی بدمعاشی پر رکھی گئی ۔ حکومت کے وزیر ترجمان اور حکومت جو بات کہتی ہے اس کے چند دن بعد وزیروں کی اس خواہش کو نیب پوری کر دیتی ہے معاملہ تو اب یہ ہے کہ نیب کے اس ادارے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ شہباز شریف کی بے جا گرفتاری کے خلاف ملک کے بڑئے شہروں میں چھوٹے چھوٹے احتجاج ہوئے ہیں مگر جب بھی تحریک یا احتجاج شروع ہوتا ہے ایسے ہی واقعات اس کا سبب بنتے ہیں نواز شریف نے اپنی پارٹی کا جو اجلاس بلایا اس نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ فیصلہ تو یہ ہے کہ فارم 45 میں مبینہ ردو بدل کے خلاف ایک طوفان اٹھایا جائے گا۔ شہباز اندر ہیں تو نواز شریف اور مریم نواز تو ابھی تک باہر ہیں۔ کپتان کو اس دھمکی کو سنجیدہ لیا گیا ہے جس کے بارے میں پیپلزپارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے یہ کنٹینرز پر چڑھے ہوئے عمران خان کی پریس کانفرنس تھی مگر عمران کے لیے معاشی چیلنج میں سعودی عرب سے فوری ریلیف نہیں ملا۔۔۔ اور نہ ہی بیرون بینکوں میں پڑے ہوئے 200 ارب ڈالر آنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ غریبوں کے نام جو خطاب کیا تھا وہ بھی محض ایک سیاست دان کا وعدہ ہے ۔


ای پیپر