مقامی حکومتوں کے تجربات کب تک ؟
08 اکتوبر 2018 2018-10-08

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پچھلے 71 سالوں سے پاکستان مقامی حکومتوں کے نظام کے حوالے سے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ اب تک مختلف تجربات کئے جا چکے ہیں مگر اس کے باوجود ابھی تک ایسا ماڈل یا نظام وضح نہیں ہو سکا جو کہ موثر اور مستقل ہو۔ مقامی حکومتوں کے حوالے سے پہلا تجربہ فیلڈ مارشل ایوب خان 1959ء میں کیا جو کہ ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1979 ء میں اس حوالے سے دوسرا تجربہ کیا جو کہ کسی نہ کسی طرح 1999ء تک چلتا رہا۔ جنرل مشرف نے 2001ء میں اس حوالے سے تیسرا تجربہ کیا جو کہ ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔ جبکہ چوتھا تجربہ 2015ء میں کیا گیا جو کہ اب تک جاری ہے مگر اب تحریک انصاف موجودہ نظام کو لپیٹ کر اس کی جگہ پر نیا نظام لانے کی تیاری کر رہی ہے۔

مگر نامور مارکسی دانشور ، سیاسی و سماجی کارکن ، ادیب اور سیاسی مفکر زاہد اسلام کی کتاب ’’پاکستان مقامی حکومتوں کا تجربہ ، ماضی ، حال اور مستقل‘‘ پڑھنے کے بعد میری سوچ میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو نچلی سطح پر تبدیلی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان اداروں کے ذریعے نچلی سطح پر جمہوریت اور سیاسی طاقتوں کو تقویت دی جا سکتی ہے اور انہیں مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

وہ کم از کم دو دہائیوں سے مقامی حکومتوں کے حقیقی جمہوری نمائندہ اور مکمل فعال نظام کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کئی برسوں سے مقامی حکومتوں کے حوالے سے آگاہی پھیلانے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھوڑنا بنا رکھا ہے۔

زاہد اسلام کا خیال ہے کہ مقامی حکومتوں کے ذریعے نہ صرف مقامی کمیونیٹیز کو طاقت دی جا سکتی ہے بلکہ جمہوریت کی جڑوں کو نچلی سطح پر مضبوط اور گہرا کیا جا سکتا ہے۔

اس کتاب کے چھپنے کا وقت بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ کتاب ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب تحریک

انصاف مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے حوالے سے تیاری کر رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت بھی مقامی حکومتوں کے حوالے سے وہی کرنے جا رہی ہے جو کہ ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں یعنی نئے نظام کی تیاری یا پرانے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے عوامی بحث و مباحثے سے اجتناب ماضی کے مقامی حکومتوں کے نظام بھی عوامی مباحثوں اور نچلی سطح پر مکالمے کے بغیر اوپر سے مسلط کئے گئے۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی ایسا ہی کرنے جا رہی ہے۔ نیا نظام تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت اور افسر شاہی مل کر بنائے گی اور عوامی طاقت کے زور پر مسلط کر دے گی۔ ابھی تک نہ تو مقامی حکومتوں کے نظام کے ماہرین اور نہ ہی مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی ہے۔ وہ اس حوالے سے مکمل طور پر اندھیرے میں ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے بہت جلدی میں لگتی ہے۔ کیونکہ وہ موجودہ نظام کی بساط لپیٹ کر خیبرپختونخوا کی طرز کا نظام لانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس جلدی کی ایک وجہ تو تحریک انصاف کی قیادت کا وہ فیصلہ بھی ہے جو کہ انہوں نے ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ مہیا نہ کرنے کے حوالے سے کیا ہے۔ اس وقت تحریک انصاف کی قیادت پر ان روایتی سیاسی خاندانوں کا شدید دباؤ ہے جو کہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں یا پھر آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف مقامی حکومتوں کے ذریعے ترقیاتی کام کروانے کے لئے انہیں فنڈز مہیا کرتی ہے تو یہ ادارے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے کنٹرول میں ہیں اور مسلم لیگ (ن) کو ان اداروں میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ اس وجہ سے تحریک انصاف ان اداروں کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہیں کر سکتی۔ اپنے ممبران اسمبلی کو مطمئن کرنے اور انہیں مقامی حکومتوں میں بڑا حصہ دینے کے لئے نئے انتخابات اور نظام کی ضرورت ہے ممبران اسمبلی اپنے خاندان کے افراد کو میئر اور چیئرمین بنوا کر مقامی سطح پر اپنی سیاسی اجارہ داری اور غلبہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروا سکیں۔

مقامی حکومتوں کے جمہوری اور نمائندہ نظام کے ذریعے اسے عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومتیں نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ صوبائی اور مرکزی سطح پر بھی جمہوری قیادت کو پروان چڑھا سکتی ہیں۔ مقامی حکومتوں کے ذریعے جمہوری روایات، کلچر اور اداروں کو پروان چڑھایا جا سکتا تھا مگر بدقسمتی سے مقامی حکومتوں کے بلدیاتی نظام کے ذریعے سماج میں غیر سیاسی رجحانات ، روایات اور سوچ کو فروغ دیا گیا اور سٹیٹس کو مضبوط کیا گیا۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی مصنوعی تبدیلیوں کے ساتھ نیا نظام متعارف کروائے گی۔ اس حوالے سے ریڈیکل اصلاحات کے امکانات نہیں ہیں۔ ایک موثر ، فعال اور با اختیار نظام کے وجود میں آنے سے ممبران اسمبلی کے اثرورسوخ میں کمی آئے گی۔ افسر شاہی کو روایتی طور پر ضلع اور مقامی سطح پر بے شمار اختیارات حاصل ہیں اور سول حکومتیں مقامی انتظامیہ کا کنٹرول ہمیشہ ضلعی افسر شاہی کے ہاتھ میں دیتی ہیں۔ افسر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کا باہمی گٹھ جوڑ موجود ہے جو کہ ایک بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کے نظام کے قائم ہونے سے ٹوٹ سکتا ہے۔

1973ء کے آئین کا آرٹیکل 140-A واضح طور پر مقامی حکومتوں کے دائرہ کار کو بیان کرتا ہے۔ ’’اس کے مطابق ہر صوبہ قانون سازی کے ذریعے مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے گا اور مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو انتظامی ، سیاسی اور معاشی ذمہ داریاں اور اختیار منتقل کرے گا‘‘۔ مقامی حکومتوں کے پاس تعلیم ، صحت ، روزگار پیدا کرنے کے منصوبے ، ریونیو ، ٹیکس لگانے اور اکٹھا رکرنے ، ٹرانسپورٹ ، رہائش اور پولیس سمیت خدمات فراہم کرنے اداروں کا کنٹرول ہونا چاہئے۔ واسا ،PHA،LDA، سالڈویسٹ مینجمنٹ نمائندوں کی ہونی چاہئے۔

مقامی حکومتوں کا با اختیار ، فعال اور نمائندہ جمہوری نظام نہ صرف مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے موثر ثابت ہو سکتا ہے بلکہ جمہوری اداروں اور عوام کو جواب دہی کا موثر نظام بھی وجود میں آسکتا ہے۔


ای پیپر