گھمبیر خاموشی کا سراغ ۔۔۔؟
08 اکتوبر 2018 2018-10-08

گھر کا ماحول گھٹن کا شکار تھا ۔۔۔ ’’اتنی سنجیدگی اِن شریر بچوں کی موجودگی میں ۔۔۔ یا اللہ خیر‘‘ ۔۔۔ دادا جان نے گھر میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔۔۔ مگر یہ پہلا موقع تھا کہ پانچ بچوں کی موجودگی میں دادا جان سوال کر رہے ہوں اور کوئی بھی اُن کے سوال کا جواب دینے کو تیار نہ ہو۔۔۔! دادا جان بھی چپ کر کے اپنی کرسی پر نیم دراز ہو گئے مگر اُن کو یہ گھمبیر خاموشی کیونکر ہضم ہوتی ۔۔۔ !

’’حرا بیٹا‘‘ ۔۔۔ وہ محبت سے بولے ۔۔۔

’’جواب ندارد‘‘ ۔۔۔ دادا جان پھر سے خاموش ہو گئے ۔۔۔ ’’اچھا بھئی‘‘ ۔۔۔ دادا جان نے دونوں کرسی کی سائیڈوں پر دباؤ ڈالا ۔۔۔ اور اٹھنے لگے تو یکدم اُن کو خیال آیا کہ وہ تو طوطوں کے لیے ’’باجرا‘‘ بازار سے خرید کر لائے ہیں ۔۔۔ اور شام کا وقت ہے اور طوطے بھوکے بھی ہوں گے ۔۔۔ کیوں نہ میں سب سے پہلے اُن کو باجرہ ڈال دوں ۔۔۔ پھر فارغ ہو کے اس گھمبیر خاموشی کا سراغ لگاتا ہوں ۔۔۔؟

دادا جان نے ہمت کی اور اپنی الماری کے نیچے والے خانے میں سے ’’باجرا‘‘ نکالا اِک بڑی سی پلیٹ میں ڈالا اور طوطوں کے پنجرے کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔!

’’سوری دادا جان‘‘ ۔۔۔ اور ساتھ ہی حراؔ کی ہلکی ہلکی سسکیاں سنائی دیں ۔۔۔ حرا نے باجرے والی بڑی پلیٹ دادا جان سے لے لی ۔۔۔ ’’میری بیٹی ۔۔۔ تم سب چپ بھی ہو ۔۔۔ جہاں ہر وقت شرارتیں ہوں ۔۔۔ قہقہے بلند ہوں ۔۔۔ اِک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ اور وقت بے وقت مذاق کا سلسلہ معمول کی بات ہو ۔۔۔ وہاں اس قدر خاموشی ۔۔۔ اور پھر اب یکدم سے معصوم سی سسکیاں۔۔۔؟‘‘

یہ سب کیا ہے ۔۔۔؟! میں اسے کیا سمجھوں ۔۔۔ تم لوگ مجھ سے تو ناراض نہیں؟! میں نے تو کہیں تمہارا دل نہیں دکھایا ۔۔۔؟‘‘ دادا جان نے حراؔ کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔ تو اُن کی نظر احمد پر پڑی جو ۔۔۔ بچوں کا اِک رسالہ پکڑے اِدھر اُدھر ۔۔۔ دیکھ رہا ۔۔۔ تھا ۔۔۔ (پڑھنے کے موڈ میں نہیں تھا شاید) ۔۔۔ اتنی سنجیدگی ۔۔۔؟! آج تو احمد ننھا سا خلیل جبران ہی لگ رہا ہے ۔۔۔

دادا جان ۔۔۔ یہ خلیل جبران کون تھے ؟۔۔۔ جو آپ نے آج علامہ اقبالؒ کی مثال دینے کی بجائے خلیل جبران کی مثال دے ڈالی ۔۔۔؟!

بسمہؔ نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔؟

’’بیٹا ۔۔۔ یہ خلیل جبران شہر بیروت کا ایک فلاسفر تھا یہ افسانے لکھتا تھا ۔۔۔ چھوٹی چھوٹی عقل و علم کی باتیں کرتا ۔۔۔ یہ وہ ادیب تھا جس نے تشدد سے انسانیت کو بچنے کا مشورہ دیا، صلح جوئی کی بات کی، محبت کے قصے سنائے ۔۔۔ شہر بیروت لبنان کا ایک بڑا شہر ہے جو دنیا بھر میں اس مفکر اور لکھاری کی وجہ سے مشہور ہے ۔۔۔ خلیل جبران کی قبر بیروت کے باہر ایک چھوٹی پہاڑی پر قبرستان میں موجود ہے ۔۔۔ دادا جان یہ خلیل جبران اب تک اپنی ۔۔۔ تحریروں کی وجہ سے زندہ ہے ۔۔۔؟!

بسمہ نے حیرت سے دادا جان کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔؟ ’’بیٹا یہ وہ مفکر ہے جس کی ادبی کتاب جو کوئی بہت بڑی یعنی ضخیم تو نہیں ہے لیکن وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب سمجھی جاتی ہے ۔۔۔ اُس کتاب کا نام ہے ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ ۔۔۔! جیسے مرزا غالب کا ’’دیوانِ غالب‘‘ غزلوں کا مختصر سا مجموعہ ہے جس کی ہر غزل زبان زد عام ہے اور اکثر اشعار ضرب المثل ۔۔۔!

بسمہ بیٹے ۔۔۔؟! یہ تم مجھے اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگا کر نہایت چالاکی سے ۔۔۔ اصل موضوع سے ہٹانا چاہتی ہو ۔۔۔؟! لیکن میں تمہاری باتوں میں آ کر موضوع سے بھٹک جاؤں ۔۔۔؟! یہ ممکن نہیں ۔۔۔؟!!!

بسمہ ہنسنے لگی ۔۔۔

’’اور ہاں حراؔ بیٹا یہ تم نے مجھ سے ’’باجرے‘‘ والی پلیٹ کیوں لے لی تھی؟ میں تو خاص طور پر طوطوں کے لیے ۔۔۔ باجرا بازار سے خرید کر لایا تھا ۔۔۔!

’’دادا جان آپ خود دیکھ لیں‘‘ ۔۔۔؟ حرا نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے دادا جان کو نہایت سنجیدہ ہوتے ہوئے بتایا ۔۔۔؟ ’’ہائیں ‘‘ ۔۔۔ یہ کیا ۔۔۔؟! کدھر گئے ۔۔۔ سب پیارے پیارے طوطے ۔۔۔ یہ پنجرہ تو خالی ہے ۔۔۔ تمہاری خاموشی تو جائز ہے ۔۔۔ یہ ماحول میں اداسی تو اس بات کی علامت ہے کہ میرے پیارے بچوں کے دوست طوطے ۔۔۔ گھر میں موجود نہیں ۔۔۔؟! میں نہ کہتا تھا ۔۔۔ ان طوطوں کی حفاظت کیا کرو ۔۔۔ بلی اِن کی ازلی دشمن ہے اور وہ جب بھی اُس کا موڈ ہوا ۔۔۔ یا اُس کو موقع ملا وہ ان طوطوں کو کھا جائے گی ۔۔۔ یا ایک آدھ تو اُس کا شکار ہو جائے گا اور باقی کے طوطے پنجرہ کھل جانے یا پنجرے میں سوراخ کی وجہ سے اُڑ جائیں گے اور تم سب منہ دیکھتے رہ جاؤ گے ۔۔۔؟!!!

’’دکھا گئی نہ بلی کام‘‘ ۔۔۔ دادا جان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ۔۔۔ پریشانی سے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔۔۔؟! ’’بلی‘‘ ۔۔۔ نہیں دادا جان ’’بلّا‘‘ ۔۔۔!

کیا مطلب ۔۔۔ دادا جان نے حیرت سے پیچھے مڑ کے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ حرا پھر چپ کر گئی ۔۔۔ دادا جان پھر سے تذبذب کا شکار ہو گئے ۔۔۔ ’’بلی‘‘ ہو یا ’’بلّا‘‘ ۔۔۔ بیٹا ۔۔۔ یہ پرندوں کے دشمن تو ہیں ۔۔۔ چڑیا طوطے فاختہ یہ سب تو بلی یا بلّا ۔۔۔ چھوڑتے نہیں ۔۔۔ کھا پی جاتے ہیں ۔۔۔ دادا جان نے وضاحت کی ۔۔۔ اس دوران ۔۔۔ احمد نے رسالہ ایک طرف رکھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا پاس آ گیا ۔۔۔ دادا جان ۔۔۔ آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں ۔۔۔ ’’ہاں ہاں ۔۔۔ بولو ۔۔۔ بیٹے‘‘ ۔۔۔

اُس نے دادا جان کو پاس بٹھایا اور ساری کہانی سنا دی ’’اصل میں ہوا یہ کہ میں کچھ دنوں سے دیکھ رہا تھا کہ طوطے جیسے پریشان ہیں اُداس ہیں ۔۔۔ پہلے تو آپ یا حراؔ باجی اُن کو باجرہ ڈالتے تو وہ بولتے بولتے چپ کر جاتے کھانا کھانے لگتے ۔۔۔ اور پھر اپنے پنجرے میں لگے ۔۔۔ جھولے پر بیٹھے ا نجوائے کرتے ۔۔۔ اب وہ خوراک بھی محبت سے نہ کھاتے ۔۔۔ پانی کا برتن گرا دیتے تھے اور پھر ساری ساری رات بولتے رہتے تھے ۔۔۔

’’ہاں بھئی‘‘ ۔۔۔ احمد یہ تو تمہاری بات سچی تھی اور میری نیند بھی اِن طوطوں کے بے وقت شور شرابے کی وجہ سے خراب ہو جاتی تھی ۔۔۔؟!

دادا جان نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔ ’’دادا جان ۔۔۔ یہ احمد کا بچہ کیا ڈنگر ڈاکٹر ہے جو اسے طوطوں کی زبان یا اُن کی نفسیات یا پھر بیماریوں کا پتہ ہے ۔۔۔ یہ ویسے ہی ہمارے ہر کام میں ٹانگ اُڑاتا ہے ۔۔۔ اس نے ہمیں تنگ کرنے کے لئے ۔۔۔ ہمارے طوطے ۔۔۔ اڑا دےئے ہیں۔۔۔ ’’اُف اللہ ۔۔۔ یہ کام اس ’’شریر‘‘ کا ہے‘‘ ۔۔۔ دادا جان نے مسکراتے ہوئے احمد کے کاندھے پر ایک چیت لگاتے ہوئے ۔۔۔ کہا ۔۔۔ تو یہ ہے وہ ’’بلّا‘‘ جس نے تمہارے طوطے ہضم کئے ۔۔۔ یعنی اڑا ڈالے اور تمہارے علاوہ پورے گھر کو اداس کر دیا اور شور و غل کی بجائے اسی وجہ سے گھر میں خاموشی کے ڈیرے ہیں ۔۔۔؟

’’جی جی ۔۔۔ دادا جان آپ نے بجا فرمایا ۔۔۔ یہی وہ ’’بلّا‘‘ ہے جس نے ہمارے دوست ہم سے جدا کر دئیے‘‘ ۔۔۔؟ حرا نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔

دادا جان ایک تو یہ لوگ مجھے ’’کزن‘‘ کی شادی پر اس لیے نہیں لے کر گئے ۔۔۔ کہ گاڑی میں میرے بیٹھنے کی جگہ نہ تھی ۔۔۔ دوسرا میں اب بھی اپنی اس حرکت پر شرمندہ ننہیں ہوں اور خوش ہوں کہ میں نے اُن خوبصورت پرندوں کو جو کھلے باغ کی زینت ہیں، جو جنگلوں کی رونق ہیں جو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق رکھتے ہیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن ہم نے اُنھیں چھوٹے پنجروں میں بند یعنی قید محض اس لیے کر رکھا ہے کہ وہ ہمیں تفریح مہیا کریں ۔۔۔ ہم اُنھیں چار فٹ چوڑے چھ فٹ لمبے پنجرے میں ’’قید‘‘ کر کے رکھیں ۔۔۔

جب مرضی اور موقع ملے ہم اُن کو پانی دیں یا باجرا ڈال دیں ۔۔۔ اپنے بچے کھچے پھل سبزیاں اُن کے پنجروں میں ڈال دیں ۔۔۔ کہاں کھلے ماحول بڑے بڑے درخت وہ اُن درختوں سے امرود کھائیں ۔۔۔ سیب کھائیں ۔۔۔ آم کھائیں اور چشموں سے، ندی نالوں سے تازہ شفاف پانی پئیں ۔۔۔؟!

سائبیریا سے پاکستان آ جائیں ۔۔۔ سخت سرد موسموں میں ۔۔۔ گرم موسموں میں واپس اپنے دیس چلے جائیں ۔۔۔! بہت اچھی تقریر کرتا ہے ۔۔۔ یہ احمد بلّا ۔۔۔ دادا جان ۔۔۔ اس بار یہ چودہ اگست کو اپنے اسکول کے فنکشن میں پرندوں کی آزادی اور پاکستان کا یوم آزادی کے حوالے سے خطاب کرئے گا اور ٹرافی لے کر نہیں آئے گا ۔۔۔؟ حرا نے احمد کی بات ٹوکتے ہوئے ۔۔۔ اُس پر تنقید کی اور پھر سے رونے لگی ۔۔۔ اس دوران سب بچے ۔۔۔ اکٹھے ہو گئے ۔۔۔ اور سب نے مطالبہ کیا کہ احمد کو سزا دی جائے ۔۔۔ ہم سب کو کسی ریستوران میں کھانا اور بعد میں آئس کریم کھلائیں ۔۔۔ اور احمد کو پھر سے گھر میں ہی رہنے دیں ۔۔۔ اس نے ہمارے وہ پیارے پیارے طوطے ۔۔۔ جو ہم نے دو سال سے پال رکھے تھے اڑا دئیے ۔۔۔ جن سے گھر میں رونق تھی ہم اُن کو دیکھ کر اُن کی ’’چڑ چڑ ۔۔۔ چڑ چڑ‘‘ سن کر خوش ہوتے تھے ۔۔۔

بچو ۔۔۔ کھانے پہ تو ہم آج رات چلیں گے آئس کریم بھی کھائیں گے ۔۔۔ لیکن اس گھمبیر خاموشی نے میری آنکھیں کھول دیں اور احمد جسے تم ’’بلّا‘‘ کہتے ہو اُس کے اندر چھپی صلاحیتوں سے بھی ہمیں آگاہ کر دیا۔۔۔

پہلی بات تو یہ کہ آزادی کے حوالے سے احمد کی باتیں کمال کی تھیں ۔۔۔ آزادی انسانوں کی ہو ۔۔۔ آزادی پرندوں کی ہو ۔۔۔ آزادی کشمیر کی ہو ۔۔۔ احمد نے اُس پر بات کرتے ہوئے اپنی ایسی با وزن رائے دی کہ میں متاثر ہوا ۔۔۔ اس قدر طاقتور دلائل دئیے اپنے موقف کے حوالے سے کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم سب ڈاکٹر بنو ۔۔۔ آئی ٹی میں ڈگریاں لو ۔۔۔ لیکن احمد آنے والے دنوں میں LLB کی ڈگری لے گا اور پھر دنیا دیکھے گی کہ قیدیوں کو، غلاموں کو، پسے ہوئے غریب لوگوں کو احمد اپنے طاقتور دلائل کی وجہ سے، اپنے دل میں چھپی محبت کے زور پر آزاد کروائے گا، اُن کی مدد کرئے گا جس طرح ہمارے پیارے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ہمیں سانپ بچھو جیسے دشمنوں سے نجات دلوا دی اور ہمیں اِک آزاد پاکستان لے کر دیا ۔۔۔ جس کی آزاد فضاؤں میں ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔! اپنی مذہبی روایات کے مطابق دن رات گزار رہے ہیں۔۔۔ دوسری بات یہ کہ میں ذاتی طور پر چاہتا تھا کہ یہ پرندے آزاد فضاؤں میں پھریں لیکن تمہاری طوطوں سے محبت دیکھ کر میں چپ تھا ۔۔۔ اس چودہ اگست کے مہینے میں احمد نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی یاد تازہ کرتے ہوئے ۔۔۔ چھوٹے سے پنجروں سے طوطوں کو نکال کر کھلی فضاؤں میں جانے دیا ۔۔۔ یقیناًیہ اُن پرندوں کا محسن ہے اور وہ باغوں اور جنگلوں میں پھرتے آزاد پنچھی احمد کو دعائیں دیتے ہوں گے ۔۔۔ جس طرح ہم علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کو یاد کرتے ہیں اُن کے لیے دعا کرتے ہیں سب گھر والے احمد کے گرد کھڑے تھے جہاں ٹیلی ویژن پر سید نظر زیدی مرحوم کا لکھا ترانہ بچے پڑھ رہے تھے ۔۔۔ جھوم جھوم کر ۔۔۔ محبت کے ساتھ ۔۔۔؂

یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران

اے قائد اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان


ای پیپر