بے نامی جائیداد سے بے نامی حکومت تک
08 اکتوبر 2018 2018-10-08

چند روز سے غریبوں کے ارب پتی ہونے کی خبریں سنی جا رہی ہیں ۔ایک تو کسی فالودے والے اور ایک کسی غریب طالب علم کے بینک اکاؤنٹ میں اربوں روپے کا انکشاف جو ان کے علم میں بھی نہیں بالآخر یہ اربوں روپے کسی کے تو ہوں گے اور بیرون ملک بھیج دیئے گئے۔ یہ بے نامی مال اور بے نامی جائیدادیں وطن عزیز میں حکمران طبقوں، لینڈ مافیا، تعلیم مافیا، ہسپتال مافیا کے لیے معمول کا کاروبار ہے۔ آج کل بڑا زور ہے اس فقرے پر کہ آمدن سے زیادہ اثاثے یا معیارِ زندگی کرپشن ہی ہے اس کو مزید ثابت کرنے کی ضرورت نہیں میری نظروں میں اشرافیہ کے ان گنت طبقے گھوم گئے صحافت ، طب، تعلیم حتیٰ کے تبلیغ سے وابستہ لوگ بھی! آف شور کمپنیاں دنیا بھر کے ایسے کھاتہ داروں کے مال متاع کی پناہ گاہ ہیں جن کو اپنے ملکوں میں اپنے نام سے جائیداد اور مال رکھنے میں دشواری پیش آتی ہو تا کہ ملکی قوانین کے مطابق ٹیکس دینے سے بچ جائیں یا ذریعہ آمدن نہ بتای پائیںیا وہ اپنے ممالک میں حکمران طبقوں سے اپنے مال بچانا چاہتے ہوں یہ جائیداد ہے مال ہے اس کی رغبت اور اس سے کثرت کی خواہش تو قبر تک چلتی ہے لیکن وطنِ عزیز جن عجیب حالات سے گزر رہا ہے وہ پہلے کبھی نہ دیکھے تھے یعنی بے نامی جائداد تو سنا تھا لیکن یہبے نامی حکومت پہلی بار دیکھ رہے ہیں ، حکومت پنجاب کے وزیراعلیٰ کو ہی لے لیں ۔ پنجاب ملک کے62 فیصد عوام کا صوبہ ہے۔ کوئی ماننے کو تیار نہیں کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھا شخص ہی وزیراعلیٰ ہے، پولیس کے سپاہی سے بھی پوچھ لیں کسی شخص سے بات کر لیں، کسی بھی کلاس سے اس کا تعلق ہو وہ یہی بات کرے گا کہ وزیراعلیٰ تو کوئی اور ہے علیم خان، ترین یا کسی اور کا نام لیا جائے گا۔ آخر کیا وجہ ہے حکمران ایسا کیا کرنا چاہتے ہیں جس پر اس کے ہاتھوں کے اپنے نشان نہ آئیں اور ان بے نامی حکمرانوں کو بطور دستانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا اس لیے کہ اگر کامیابی حاصل ہو تو دراصل فلاں فلاں ہی اصل اختیارات کا مالک تھا اور اگر نامی ہو تو ہم فلاں کی تعیناتی میں غلطی کر گئے کا سہارا لینا ہے۔ اعتماد کا یہ فقدان اور بحران کا ایسا دور پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بھی بڑے سے بڑے آدمی کی بات پر کوئی شخص بھی یقین کرنے کو تیار ہی نہیں
موجودہ حکمرانوں کو بیورو کریسی کے پنجوں کی گہرائی کا اندازہ نہیں۔ یہ تو اہل ترین حکمرانوں بلکہ فوجی حکمرانوں کی چھتری تلے بھی اپنی واردات میں ایک لمحے کا وقفہ نہیں ڈالتے ۔ چہ جائے کہ ان کے اوپر بے نامی حکمران بٹھا دینا، موجودہ حکمران ایف آئی اے کو مزید اختیارات دینے کے در پے ہیں۔ جبکہ سیاسی و جمہوری جماعتیں اور نامور قانون داں آمر کے بنائے ہوئے نیب قوانین پر تحفظات رکھتے ہیں کہ نیب کا قانون آئین میں دئے گئے بعض بنیادی حقوق سے متصادم ہے اور رہی بات ایف آئی اے کی اس ادارے میں محکموں کے لوگ ڈیپوٹیشن پر کیوں آنا چاہتے ہیں۔ کوئی تجربہ کار شخص یا حکمران اس ادارے کو مزید اختیارات دینے کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ جو شخص کسی شہری کی مدد کے لیے کبھی کسی پولیس تھانے، ایف آئی اے کے دفتر، ڈسٹرکٹ کورٹس کی عدالتوں میں کبھی ایک بار نہ گیا ہو وہ ان کے اختیارات سے واقف نہیں ہو سکتا اور اگر ہو تو اختیارات میں کمی تو کر سکتا ہے اضافہ نہیں۔ ابھی حکمرانوں کو صرف نوا زشریف اور زرداری فیملی کا احتساب اور ایف آئی کی چڑھائی نظر آ رہی ہے ، چشم تصور سے ہی سہی ذرا ان دو جماعتوں کی جگہ اپنے آپ اور اپنے حلیفوں کو دیکھیں تو پھر دوبارہ آواز نکلے گی اوئے آئی جی اگر تم نے یہ کیا تو میں۔۔۔ اوئے فلاں اگر تو نے یہ کیا تو ۔۔۔
دراصل ہمارے ہاں پالیسی اور قوانین بناتے وقت حکمران اپنے دور حکومت سے آگے نہیں سوچتے اور ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتے۔ ایسے میں مسلسل حکمران طبقہ جو کہ بیورو کریسی ہے۔ سول بیورو کریسی جو نائیلون کی وہ جراب ہے جو ہر پاؤں میں فٹ آتی ہے ۔ فواد حسن فوادسے مسعود محمودبننے میں ایک لمحے کی ضرورت ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں ترقی کی بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ انہوں نے کسی بھی اہل اور محنتی شخص کو نظر انداز نہیں کیا افراد کی مجموعی اور انفرادی صلاحیت بروئے کار لائے ہیں امریکہ کا سپر پاور ہونا اور دو سو سالہ ترقی روس کی کامیابی اور چائنہ کی دنیا کے لیے سپر پاور کی کرسی پر بیٹھنے کی تیاری کے پیچھے یہی راز ہے ہمارے اعلیٰ ترین ذہن حالات نے منفی کردئے یا پھر وہ بیرون ملک چلے گئے یا پھر حالات نے منفی کر دیئے۔
مجھے یاد ہے مشرف دور میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ کرنل کے عہدہ کے آفیسر کو بٹھا دیا گیا تھا ۔ ایک بیورو کریٹ نے دعویٰ کیا کہ 24 گھنٹے درکار ہیں ہم غالب آ جایا کرتے ہیں۔ شروع شروع میں دیکھا گیا کہ لوگ اپنا مقدمہ کرنل صاحب کو سنانا چاہتے تھے پھر آہستہ آہستہ ڈپٹی کمشنر کی باری کا انتظار کرنے لگے کیونکہ ڈپٹی کمشنر سے جس حمایت کی توقع ٹھہرتی وہ کرنل صاحب سے نہیں ہوتی تھی۔ آج نوا زشریف اور زرداری احتساب اور پکڑ دھکڑ کا ہدف ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنے والے ادارے آنکھ کے تارے ہیں۔ موجودہ حکمران زرداری اور نواز شریف گروپ کی جگہ صرف تصور کرلیں کہ ان کے حلیف اور حمایتی یا خدا نخواستہ خود ہیں تو اداروں کے برتاؤ ، طریق کار اور اختیارات کی سمجھ آجائے گی۔ بے نامی حکومت اور ہر بپھرے ہوئے بیوروکریٹ کو دیکھ کر غالب کا شعریاد آتا ہے :
ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھِرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
احتساب اور انتقام میں فرق نظر آنا چاہیے۔ شاہ کسی بھی وقت کبھی بھی اپنے مصاحب کو بدل سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ دنوں کو انسانوں میں پھیر دیتا ہے۔ حکمرانوں کو اپوزیشن کی زبان نہیں بولنا چاہئے جو قوم میں فساد تو پیدا کرسکتی ہے ، اتحاد نہیں۔


ای پیپر