Fazlur Rehman,PDM,constitutional,democratic system
08 نومبر 2020 (23:36) 2020-11-08

اسلام آباد:پاکستان متحدہ موومنٹ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا  اصل ہدف حقیقی آئینی اور جمہوری نظام کی بحالی ہے ۔ گیارہ جماعتوں میں میثاق مرتب کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے 14 نومبر کو میثاق اور آئندہ کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کسی ادارے یا کسی شخص کا نام لینے پر پی ڈی ایم میں کوئی مسئلہ نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کوئی لحاظ کرتا ہے کوئی مزاحمت سے کام لیتا ہے،اپوزیشن نے سندھ پولیس کی اعلیٰ کمان  کی توہین و تذلیل  کی تحقیقاتی رپورٹ میں تاخیر پر اظہار تشویش کیا گیا ہے ، سیاستدانوں کے نام لئے جاسکتے  تو پھر ادارے کے کسی اور فرد کا نام بھی لیا جا سکتا ہے ۔  اس وقت پاکستان کا سب سے سنگین اور حساس مسئلہ معاشی بحران ہے جس نے عام شہری کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے اس کا سکون اور عزت نفس چھین لیا گیا ہے اور ایک محترم شہری کی حیثیت سے وہ زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان متحدہ موومنٹ نے تحریک کو آگے لے جانے اور ملک کے مختلف حصوں میںجلسہ عام منعقد کرنے کے سابقہ شیڈول پر بھی بات کی اور آئندہ کے شیڈول  طے کرنے کے طریقہ کار پر بھی بات کی ہے۔ پی ڈی ایم کے نزدیک اس کا اصل ہدف پاکستان میں حقیقی آئینی اورجمہوری نظام کی بحالی ہے اس حوالے سے ایک میثاق طے کرنے پر اتفاق ہوا ہے ۔ 13 نومبر کو اسٹیرنگ کمیٹی  کا اجلاس ہوگا جس میں تمام پارٹیاں ایک متفقہ  میثاق کیلئے اپنی اپنی تجاویز  لائیں گی اور تمام  پارٹیوں کی تجاویز کے اشتراک کے ساتھ ایک متفقہ   میثاق طے کرلیا جائے گا۔ 14 نومبر کو اسلام آباد ہی میں سربراہی  اجلاس ہوگا جو اسٹیرنگ کمیٹی کی سفارشات کو حتمی شکل دے گا۔ 

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پھر مسلم لیگ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اس روش پر جائے گی تو پھر انکے لوگ بھی قتل کیے  جائیں گے۔ یہ ریاست کی سطح پر اعتراف ہے کہ پاکستان میں اصل دہشت گرد کون ہے ، سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ان کے معزز اراکین کو نشانہ بنانے والی اصل قوتیں کون ہیں  اس سے ہمیں پتہ چل گیا ہے اگر  کچھ ہوا توہمیں تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہمیں اس میں  جرم کرنے والی شخصیات  اور اداروں کا پتہ  چل گیا ہے یہی آئندہ کی ذمہ دار ہوں گی ۔ 


ای پیپر