UAE, several changes, law, foreigners
کیپشن:   فائل فوٹو
08 نومبر 2020 (15:46) 2020-11-08

دبئی: متحدہ عرب امارات نے اپنے قوانين ميں متعدد تبديليوں کا اعلان کيا ہے۔ فوجداری، سول اور وراثت کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔

نئی اصلاحات کے مطابق، نابالغ کے ساتھ جنسی زیادتی پر سزائے موت سنائی جائے گی۔ تارکین وطن پر حق وراثت کے قوانین کا اطلاق مرنے والوں کی شہریت کے مطابق ہوگا۔ عوامی مقامات پر غیر مناسب رویہ اپنانے پر مالی جرمانہ، اور خودکشی کی کوشش کرنے والوں کو علاج کے لیے بھیجا جائے گا۔ طلاق اور شادی بیاہ کے معاملات میں غیر ملکی تارکین پر اسلامی قوانین کا نفاذ نہیں ہوگا بلکہ ان کے اپنے آبائی ممالک کے قوانین لاگو ہوں گے۔ امارتی حکومت نے منظور شدہ مقامات پر شراب پینے اور بیچنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل یو اے ای کی حکومت نے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کیلئے بھی قانون میں اصلاحات کی تھیں۔ یو اے ای کی حکومت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمران طبقہ یہاں ایسی پالسیز متعارف کروانا چاہتی ہے جو لوکل رہائشیوں کے علاوہ غیر ملکیوں کے لیے بھی قابل قبول ہو۔

متحدہ عرب امارات کے قانون میں اصلاحات کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ دنیا کے قابل لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ یو اے ای ایسا ملک ہے جہاں دنیا کے تقریبا تمام ممالک کے افراد پائے جاتے ہیں کچھ وہاں کاروبار کی غرض سے موجود ہیں تو کچھ نوکری کی تلاش میں آتے ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سے ایسے بھی ہیں جو صرف سیر و تفریح کیلئے یو اے ای آتے ہیں۔


ای پیپر