Biden, election, president, tweets, social media
کیپشن:   Photo by Twitter
08 نومبر 2020 (13:24) 2020-11-08

نیو یارک: بائیڈن کے صدر منتخب ہونے پر سوشل میڈیا پر ٹویٹس کا طوفان آگیا۔ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس چھوڑنے ، حتیٰ کہ ملک چھوڑنے کی باتیں گردش کرنے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی وائٹ ہاؤس کا مکین منتخب ہونے پر طوفان آگیا۔ جیڈورڈ نے کہا کہ بائیڈن یو آر ہائیرڈ ٹرمپ یو آر فائرڈ۔ نیتھلی نے ٹرمپ کو شکست کی صورت میں ملک چھوڑنے کا وعدہ یاد دلا دیا۔ ایک صارف نے ٹرمپ کی جیت کے دعوے کی ٹویٹ پر بائیڈن کی برتری کا اسکرین شاٹ پوسٹ کیا۔ 2024 میں ٹرمپ کیسے ہوں گے؟ مزاحیہ تصاویر بھی پوسٹ کر دی گئیں۔ پیوٹن نامی صارف کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انہیں 500 مس کالز کرچکے ہیں۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی جیت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ الیکشن میں اُن کے ووٹ چوری کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ستتر سالہ بائیڈن قومی سیاست میں کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں وہ سینیٹر اور پھر آٹھ سال تک سابق صدر براک اوباما کے ساتھ بطور نائب صدر کام کر چکے ہیں۔

جو بائیڈن نے ڈیلاویئر یونیورسٹی اور سیراکیوز اسکول آف لا سے ڈگری حاصل کی۔ 1972 میں محض 29 سال کی عمر میں وہ امریکی سینیٹ کے رُکن منتخب ہوئے۔

اس کامیابی کے کچھ ہی ہفتوں بعد بائیڈن کی اہلیہ اور ایک سالہ بیٹی کرسمس کی شاپنگ کے دوران کار حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے دو بیٹوں کی دیکھ بھال کی خاطر 36 سال تک روزانہ ڈیلاویئر اور واشنگٹن کے درمیان ٹرین کا سفر کیا تاکہ رات اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکیں۔

بائیڈن 1987 اور 2007 میں پارٹی کی صدارتی نمائندگی حاصل کرنے کے خواہاں رہے، لیکن دونوں بار وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2008 میں براک اوباما نے بائیڈن کو بطور نائب صدر نامزد کیا۔ 2012 میں وہ دوبارہ ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بائیڈن امریکا کے صدر بنتے ہیں تو صحت اور اقتصادی شعبوں کے علاوہ چین، ایران اور نیٹو سمیت کئی خارجہ امور پر ان کی پالیسیاں اوباما دور کا تسلسل ہو سکتی ہیں۔


ای پیپر