امریکہ کا اگلا صدر اور پاکستان
08 نومبر 2020 (11:42) 2020-11-08

یہ بات طے سمجھئے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور باراک اوبامہ کے زمانہ کے نائب صدر جوزف بائیڈن 2020 کا امریکی صدارتی انتخاب جیت جائیں گے… انہیں پاپولر ووٹ بھی ریکارڈ تعداد میں پڑے ہیں اور انتخابی ادارے (الیکٹرول کالج) میں بھی اکثریت (270 ووٹوں سے زائد) ملنے کا واضح امکان ہے… جبکہ صدر ٹرمپ 2016کے انتخاب میں پاپولر ووٹوں کے حساب سے اپنی مدمقابل ہلیری کلنٹن سے چالیس لاکھ کی شکست سے دوچار ہوئے تھے مگر قسمت نے یاوری کی اور امریکی انتخابی نظام کا فیصلہ کن عامل ان کے حق میں گیا یعنی انتخابی ادارے کے 306 ووٹ لے اڑے… یوں کامیابی کا سہرا اپنے ماتھے پر سجا لیا… اس مرتبہ انہیں دونوں لحاظ سے شکست کا سامنا ہے… مگر امریکی جمہوری روایات کے برعکس اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں جبکہ 2000 میں الگور اور 2016 میں ہلیری کلنٹن ملک کے انتظام کے آگے سر جھکا دیئے  ڈونالڈ ٹرمپ کی ضد، حد سے بڑھی ہوئی اناپرستی اور سفید فاموں کا نسلی تعصب موصوف کو حقائق کا سامنا کرنے سے روک رہا ہے… قانونی جنگ لڑنے پر اتر آئے ہیں… چونکہ اس وقت امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت ری پبلکن پارٹی کی طرف جھکائو رکھنے والوں کی ہے لہٰذا انہیں توقع ہے جیت جائیں گے… ان کے قانونی دعوے کی بنیاد مختلف ریاستوں خاص طور پر پنسلوانیہ میں بذریعہ ڈاک موصول ہونے والے ایسے ووٹ ہیں جو 3 نومبر کے انتخابی دن کے بعد پہنچے… صدر ٹرمپ انہیں غیرقانونی قرار دیتے ہیں… جبکہ امریکہ کے ایک سینئر سیاستدان بینری سینڈرسن کا کہنا ہے ٹرمپ صاحب کو 2016 میں اپنے حق میں اس طرح پڑنے والے ووٹوں پر کوئی اعتراض نہ تھا… اب ان کے خلاف گئے ہیں تو آسمان سر پر اٹھا لیا ہے… ان کے نزدیک یہ بازاری لوگوں جیسی حرکت ہے… لیکن امریکی سفید فاموں کی بھاری تعداد کے اندر رنگ دار لوگوں کے مقابلے میں نسلی برتری کا جو زعم پایا جاتا ہے، جس نے 2016 میں ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ جیسے جمہوری اور ساری دنیا میں اپنی روشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ملک میں کامیابی دلائی تھی وہ اب بھی انہیں واضح شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرنے دے رہا… تاہم امریکی میڈیا کے بڑے اداروں اور وہاں کے بیشتر مبصرین کا خیال ہے موجودہ صدر ٹرمپ کی تمام تر انا پرستی اور ان کے کچھ ری پبلکن حامیوں کی حمایت کے باوجود آئندہ 21 جنوری کو جوزف بائیڈن ہی اگلے صدر امریکہ کا حلف اٹھائیں گے… کیونکہ جارجیا، پنسلوانیہ، اری زونا اور نواڈا جیسی چار ریاستوں جنہیں اس چنائو میں اصل میدان کارزار قرار دیا جا رہا ہے میں بھی جوبائیڈن اپنے حریف ڈونالڈ ٹرمپ کو پیچھے چھوڑتے نظر آ رہے ہیں… جارجیا کی ریاست (16 الیکٹرول ووٹ) صدر ٹرمپ کا گڑھ سمجھی جاتی تھی… وہاں سخت مقابلہ ہوا… پہلے ووٹوں کی تعداد برابر ہو گئی… تازہ ترین خبروں کے مطابق بائیڈن نے یہاں بھی معمولی لیکن واضح برتری حاصل کر لی ہے… پنسلوانیہ (20 ووٹ) میں گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ صاحب کو اکثریت ملی اب وہ بھی تیزی کے ساتھ ہاتھوں سے نکل رہی ہے… اری زونا (11 ووٹ) نے جوزف بائیڈن کے بقول 24 برس بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک امیدوار کے حق میں پلٹا کھایا ہے جبکہ نواڈا (6 ووٹ) نے بھی اس مرتبہ صدر ٹرمپ کے خلاف اپنا وزن ڈال دیا ہے… اس طرح جوبائیڈن جو پہلے ہی 264 ووٹوں کے عدد تک پہنچ چکے ہیں اگر انہیں ان چار ریاستوں کی طاقت مل گئی تو لامحالہ اگلے صدر امریکہ قرار پائیں گے…

اگر یہ امکان اور اندازے درست ثابت ہوئے تو 78 سالہ جوبائیڈن امریکہ کے اندر اور عالمی سیاست میں کیا تبدیلیاں برپا کریں گے… خاص طور پر پاکستان اور اہل پاکستان کو ان سے کیا توقعات رکھنی چاہئیں… ان سب باتوں کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کو کیا پوزیشن ملتی ہے… اس وقت تک یہاں بھی تقریباً برابر کا مقابلہ ہے… فرق پڑابھی تو دوچار سے زیادہ کا نہیں ہو گا … تاہم بائیڈن صاحب نے اپنی کامیابی کے آثار دیکھتے ہوئے جو تقریر کی ہے اس میں واضح کیا ہے وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انتخابی رنجشوں کو بھول جائیں گے… تمام کی تمام امریکی قوم کا صدر ہونے کی 

حیثیت سے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھائیں گے… عام حالات میں یہ شاید رسمی بیان ہوتا… لیکن اس وقت ٹرمپ صاحب کے خیالات اور پالیسیوں کی بدولت امریکی معاشرہ جس طرح  نسلی بنیادوں پر تقسیم ہو چکا ہے… سفید فام اکثریت کے ایک بڑے گروہ کا نسلی برتری کا زعم ٹرمپ کی اصل سیاسی طاقت ہے، اس کے ساتھ جڑے ہوئے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور ری پبلکن پارٹی کے حامی تیل کی صنعت و تجارت کے اجارہ داروں کے مفادات نے مل کر آج کی دنیا کے اندر روشن خیالی اور لبرل ازم کا سب سے زیادہ دعوے کرنے والے امریکی معاشرے کی داخلی فضا کو بہت مکدر کر دیا ہے… بیرونی دنیا بھی ان کے متعصب نظریات کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہی… ٹرمپ کے چار سالوں کے اندر کالی نسل کے افراد کو سرعام قتل کیا گیا… ہنگامے بھی پھوٹ پڑے… امریکہ میں مسلمان ملکوں کے شہریوں کے داخلے پر قدغنیں لگائی گئیں… اسرائیل کی حمایت کو تمام امریکی صدور اپنا فرض گردانتے ہیں لیکن ٹرمپ صاحب اس یہودی صہیونی ریاست کا عرب ریاستوں کے ہاتھوں وجود تسلیم کرانے میں ضرورت سے بہت آگے نکل گئے… ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی پالیسی اپنے داماد جیرا ڈکشنر (جن کے ہمارے وزیراعظم عمران خان کے مشیر خاص زلفی بخاری کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات ہیں) کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے… انہوں نے تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستوں کو اسرائیل کے زیرفرمان لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی پر بھی ان کے اثرات بہت گہرے ہیں… عالمی سطح پر کبھی امریکہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کا پرچم بلند کیا کرتا تھا اگرچہ واحد سپر طاقت کے مفادات کو تب بھی فوقیت حاصل ہوا کرتی تھی… لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے تو انہیں بے دردی کے ساتھ پامال ہوتے دیکھ کر اکثروپیشتر حوصلہ افزائی کی اور جہاں امریکی مفادات بظاہر آڑے نہیں آ رہے تھے وہاں بھی ایسے واقعات سے صرف نظر کیا… کیا جوزف بائیڈن عہدہ سنبھالنے کے بعد آئندہ چار سالوں میں ٹرمپ پالیسیوں کے ان مضر اثرات کا تدارک کرنے کے لئے بامعنی اقدامات کریں گے… اس کا اندازہ اگر موصوف صدر بن گئے تو پہلے برس کے اندر ہی ہو جائے گا…

ڈونالڈ ٹرمپ عہد میں پاکستان کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کا جھانسہ دے کر افغانستان میں اپنا الّو سیدھا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی… عمران خان بطور وزیراعظم وہائٹ ہائوس میں داخل ہوئے تو انہیں کہا گیا ہم تنازع کشمیر پر ثالثی کریں گے… یہ خوشی خوشی وطن واپس لوٹے کہ ایک مرتبہ پھر ورلڈ کپ جیت کر واپس آیا ہوں اسی دوران میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا امریکہ کے دفاعی ہیڈکوارٹر میں ان کے آگے سرخ قالین بچھا کر استقبال ہوا… مسئلہ افغانستان پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور تعاون حاصل کرنے کی کامیاب بات ہوئی… مال کار نتیجہ یہ سامنے آیا افغان مسئلے کے حل کے لئے طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ان کا انقعاد بھی ہوا… لیکن اس کے ساتھ نریندر مودی کو آئینی اور عملی لحاظ سے کشمیر ہڑپ کر لینے کا موقع فراہم کر دیا گیا… نتیجتاً ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے پاس مذمتی بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا… سقوط کشمیر ہو گیا ہم سلامتی کونسل یا کوئی اور عالمی کیا او آئی سی سے بھی اس خطرناک بھارتی اقدام کے خلاف رسمی قرارداد بھی منظور نہیں کرا سکے… امریکہ کی جانب سے سی پیک کے پروجیکٹ کی مخالفت ڈھکی چھپی بات نہیں… ہمارے موجودہ حکمرانوں نے اس کی رفتار کار کو نوازشریف دور کے مقابلے میں سست کر دینے کی ’خدمت‘ تک سرانجام دی… اس سب کے باوجود اس ری پبلکن پارٹی کا جس نے ماضی میں ہمیشہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے سر پر ہاتھ رکھا… مارشل لائوں تک کی حوصلہ افزائی کی… ہم سے اپنی جنگیں لڑائیں اس کے ٹرمپ نامی موجودہ صدر نے بھارت کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو اس حد تک بڑھوتی دی ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر دونوں نئی دہلی پہنچے… انہوں نے بھارتی حکومت کے ساتھ بظاہر چین کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لئے Basic Exchan & Co-operation Agrement (BECA) نام کا معاہدہ کیا جس کے تحت امریکہ اور بھارت سیٹلائٹ کے ذریعے حساس ترین جنگی معلومات کا تبادلہ کریں گے… ظاہر ہے بھارت ان تمام سہولتوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا… اب اگر ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار جوبائیڈن اگلے چار برس کے لئے واحد سپرطاقت کا صدر بن گیا تو اس کی جنوبی ایشیا کے معاملے میں پالیسیاں کیا رخ اختیار کریں گی… ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ بھارت دوست رہی ہے… تاہم اس کے صدور میں سے بل کلنٹن وغیرہ نے پاکستان کی جمہوری اور سول حکومتوں اور اداروں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کئے… کلنٹن مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے رہے… جوزف بائیڈن نے بطور رکن کانگریس پاکستان کے لئے کیری لوگر بل کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا… نائب صدر بنے تو ان کے تعلقات ہماری سول قیادت بالخصوص بے نظیر بھٹو کی حکومت کے ساتھ اچھے خاصے تھے… اگر موصوف نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا تو ایک جانب اس حقیقت کو نظرانداز کرنا مشکل ہو گا کہ موصوف کے ہمراہ نائب صدر کے طور پر ایک بھارتی نژاد خاتون کمالا ہیرس ہوں گی… جو اگر 78 سالہ صدر کا اچانک انتقال ہو گیا تو واحد سپر طاقت کی صدارت کا عہدہ بھی بقیہ مدت کے لئے سنبھال سکتی ہیں… تاہم یہ امر بھی معلوم و معروف ہے جوزف بائیڈن ذاتی طور پر پاکستان کے حالات، اس کی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ دوست کردار کو کئی امریکی لیڈروں سے بہتر سمجھتے ہیں… تیسری دنیا میں جمہوری قوتوں کی حمایت اس جماعت کی پالیسیوں کا حصہ رہا ہے… اگرچہ عمل پوری طرح کبھی نہیں ہوا لیکن کچھ نہ کچھ بھرم تو رکھنا ہو گا… اسی طرح یہ جماعت اپنی ری پبلکن حریف کے مقابلے میں بنیادی انسانی حقوق 


ای پیپر