شرارِ بولہبی
08 نومبر 2020 (11:39) 2020-11-08

اسلاموفوبیا 2001ء سے چھیڑی گئی اسلام اور مسلم دنیا کے خلاف جنگ ہی کا حصہ ہے۔ فوبیا اصطلاحاً خوف ہے۔ دہشت گردی کی اصطلاح بھی خوف اور دہشت پھیلانے ہی سے نتھی ہے۔ پوری ہائی ٹیک لدی پھندی سجی سنوری مسلح مغربی دنیا پر یہ خوف جچتا تو نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے سینے پر چڑھے بیٹھے، ان کے وسائل، زمینوں، حکومتوں پر (اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے) قبضہ کیے جب انہی مظلوموں، مجبوروں، مقہوروں کو دہشت گرد کہتے ہیں۔ میزائلوں سے چیتھڑے اڑاکر بھی سارے جنگ زدہ خطوں کے مسلمان ٹیررسٹ، ارھابی (ہر زبان میں دہشت پھیلانے کی اصطلاح!) کہلاتے ہیں۔ جنگجو نیٹو ممالک ہوں یا امریکا ودیگر مغربی ممالک، سبھی مسلمانوں سے تھرتھر کانپتے ہوئے نفرت سے اسلاموفوبیا کی جگالی کرتے ہیں! یہ پوری انسانی تاریخ کی نفسیات رہی ہے۔ حق وباطل کے مابین۔ فوبیا کہتے بھی نامعقول، بے وجہ، نفسیاتی خوف کو ہیں، جو خلل دماغ کی بھی علامت جانی جاتی ہے۔ Anxiety Disorder  یعنی اضطراب، تشویش بے وجہ گھبراہٹ کے انتشار میں مبتلا فرد۔ اس کے علاج میں خوف دور کرنے کے لیے کونسلنگ یعنی ماہرانہ مشورہ، راہنمائی اور علم درکار ہوتا ہے۔ جو مسلمانوں کے قریب آکر علم حاصل کرتا، جان جاتا ہے، مسحور ہوکر ایوان ریڈلے، لورین بوتھ (مسلم کش ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی) مارما ڈیوک پکتھال (قرآن کے پہلے انگریزی مترجم) بن جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں مغرب کا مسلمانوں سے اور اسلام سے خوف اس سر چڑھے منہ زور بچے کے خوف جیسا ہے جو باپ سے نہیں، اپنے کرتوتوں سے ڈرتا ہے۔ جانتا ہے اس نے ساری حدیں توڑ دی ہیں، سو اس کا اضطراب، انتشار، تشویش اس کے اندر سے پھوٹتا ہے! 

فتنۂ دجال میں پوری انسانی تاریخ کی نمرودیت، فرعونیت، قارونیت، چنگیزیت یکجا ہے۔ ٹیکنالوجی کی سان چڑھ کر تمام جباروں قہاروں کے ریکارڈ توڑ ڈالنے والے، میڈیا کی بدولت اس صفائی سے لاشوں کے انبار لگاتے ہیں کہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ! ہزاروں فٹ کی بلندی سے درندگی کی انتہا، ہیروشیما، ناگا ساکی سے لے کر آج کے نیم نیوکلیائی ’تمام بموں کی ماں‘ نامی میزائل اور کیمیائی ہتھیاروں کی ناقابل بیان اذیت تک۔ یہ تو ہوئے انسانیت کے جسد خاکی پر لگے بزدلانہ (چھپ کر بلندیوں سے نہتوں کو نشانہ بناتے) شاطرانہ بے رحمانہ چرکے۔

 2001ء سے آج تک اسلاموفوبیا میں گھر کر نفسیاتی مریض بننے والوں نے مسلسل شعائر اللہ، ہمارے مقدسات ومحبوبات کی بے حرمتی، تضحیک و استہزاء کی بے ہودگی کے طوفان اٹھا رکھے ہیں۔ قرآن پاک جلانا، کتوں کے منہ میں ڈالنا، کچرے اور فلش میں بہانا یہ جانتے بوجھتے بھی کہ یہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے سینوں میں آگ بھڑکانے کا باعث بنتا ہے۔ بالخصوص گوانتانامو، ابو غریب، بگرام کے بندھے ہوئے بے بس قیدیوں کے سامنے یہ کر گزرنا، جس پر وہ دیواروں سے سر ٹکراتے، بھوک ہڑتالیں کرتے رہے۔ جو آنکھیں ہمہ نوع تشدد اور ظلم سہ کر، گھروں خاندانوں سے بچھڑکر نمناک نہ ہوئی تھیں، ان واقعات پر بے بسی سے بلک بلک کر روتی رہیں۔ یہ سب ان مغربیوں نے کیا جن کے مہذب، شائستہ، انسان دوست، روادار ہونے کے گن گاتے ہمارے سیکولر تھکتے نہیں۔ سوٹڈ بوٹڈ، خوشبوؤں میں بسے، اجلے، شاندار مجالس استوار کرتے مہذب درندے۔ چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر۔ دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب۔ تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری!

چنگیزوں اور نیلم پریوں کی سجی سجائی آزادیٔ اظہار، حقوق کے چرچے کرتی دنیا، جس میں کتوں بلوں ڈولفن مچھلیوں چھپکلیوں مگرمچھوں کے بھی حقوق ہیں۔ روئے زمین پر آج سارے حقوق اسلام اور مسلمانوں پر آکر سلب ہوجاتے ہیں۔ یہ گورے بخوبی انبیاء و رسل کو جانتے ہیں۔ انہی کے اپنے امریکی ماہر فلکیات ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے 1978ء میں ایک کتاب لکھی، جو سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں شمار ہوئی۔ تاریخ کی مؤثر ترین شخصیات کی درجہ بندی پر مبنی یہ کتاب ’دی ہنڈرڈ‘۔ سو افراد میں پہلے نمبر پر، سرفہرست حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رکھا ہے۔ اس کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ (فرانسیسی بھی اسے بخوبی جانتے ہوںگے، پڑھے لکھے عالم فاضل، کتب بین لوگ ہیں!) مصنف کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مذہبی اور سیکولر، دینی اور دنیاوی امور دونوں میں پوری انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب سیاسی قائد تھے۔ دنیا کا عظیم مذہب قائم کیا۔ بیک وقت آپ سوشل ریفارمر (سماجی اصلاح کار) تاجر، فلسفی، سفارت کار، قانون ساز، عسکری قائد اور بے مثل مقرر تھے۔ وہ ہستی جس نے دنیا سے علم نہیں پایا، پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر نہ بیٹھے، مگر دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا نہ بعد میں کوئی دے گا۔( تاہم یہ اقرار کرتے ہوئے گلے میں گولا پھنستا ہے کہ یہ ’العلم‘، آسمانی ہے، کامل واکمل ہستی کی کتاب وتربیت کا نتیجہ۔ شاید یہودی ہونے کی بنا پر جبریلؑ دشمنی آڑے آتی ہے جو وحی لاتے تھے! )

کمال تو یہ ہے کہ مائیکل ہارٹ خود سفید فام قوم پرست ہے، لیکن سیرتِ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا جادو ایسا سر چڑھ کر بولا کہ وہ نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پہلا مقام دیتا ہے بلکہ مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی 52 نمبر پر شامل فہرست کرتا ہے! فرانسیسی شہرہ آفاق جرنیل نپولین بونا پارٹ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سالار اعظم کہتا تعریف میں رطب اللسان ہے۔ یہ آج کی مغربی دنیا جہل، بداطواری، بولہبی، دریدہ دہنی، بدخلقی کی ساری حدیں توڑ چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سراج منیر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیوں کا طومار باندھا ہے۔ آفتاب پہ تھوکا منہ پر آیا کے مصداق ان کے چہروں کی نحوست کئی گنا بڑھ چکی۔ دنیا بھر میں صدر میکرون کے پوسٹر کتے، خنزیر، شیطان کے تصویری روپ میں جابجا آویزاں ہیں۔ حالیہ گستاخیوں پر چوری اور سینہ زوری کی ضرب المثل ڈھٹائی کا مظاہرہ فرانس نے کرکے منہ کی کھائی ہے۔ سوئے ہوئے مسلمان کو اٹھا کھڑا کیا ہے۔ ترکی سے اردوان کی سلطان عبدالحمید کا ورثہ (خلافت کا دبدبہ!) بروئے کار لاتے ہوئے صدر میکرون اور فرانسیسیوں پر بوچھاڑ امت کے غم وغصے کی نمایندگی کرتی ہے۔ ہمارے سیکولر، گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل میں گرفتار منقار زیر پر، خود بھی خوفزدہ ہیں۔ صدر میکرون اب اربوں کا معاشی نقصان تجارتی بائیکاٹ پر ہونے سے منمنانے 

لگے۔ پیٹ پر لات پڑنے پر ہمیشہ (پچھلے خاکوں کی لہر پر بھی) پاؤں پڑ جاتے ہیں۔ دو ایک بیان صفائی میں دیے کہ میرا بیان توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا۔ (باوجودیکہ وڈیوز میں بہ نفسِ خبیث، بقلم خود بخود سبھی کچھ کہتے، ٹویٹ کرتے دیکھے گئے ہیں!)

فرانس میں اسلاموفوبیا کی نفسیاتی کیفیت میں اسپین کے راستے فرانس کے جنوبی صوبے فتح کرلینے والے مسلمانوں کی بڑھتی فوجوں کا ہلا مارنے والا خوف تاریخ سے منتقل ہوا ہے نسل در نسل۔ چند ہزار بے سروسامان سپاہیوں کا اسپین سے قلب یورپ میں سیلاب کی طرح گھسے چلے آنا وحشت اثر تھا۔ خوف کی ایک اور وجہ اللہ کی مسلمان کے لیے نصرت بالرعب ہے۔ بقدر ایمان یہ رعب قائم ہوتا (صلاح الدین ایوبی کا خوف بھی ایسا ہی تھا) اور ہر دور ہر خطے میں کافر کا دل دہلاتا رہا ہے جو ان کی نفسیات میں بیٹھ چکا ہے۔ مسلمان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور اس کے مختلف مظاہر کل اور آج! روسی مارشل آرٹس کے ناقابل شکست فاتح خبیب نورما نے ذات پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے صدر میکرون کی جوتا زدہ تصویر انسٹا گرام پر چالو کردی۔ (خبیب کے 25 ملین شیدائی فالورز ہیں!) ساتھ یہ بددعا کہ اللہ اس بری مخلوق اور اس کے پیروکاروں کے چہرے بگاڑ دے، دنیا وآخرت میں رسوا کرے! فرانسیسی شکر ادا کریں کہ وہ روس میں بیٹھا ہے دور دراز! پھر وہ عام سا تیونسی نوجوان جو غم وغصے میں مکمل خاموشی کے ساتھ اپنے گھر سے کچھ کہے سنے بغیر اٹھا، اٹلی اور پھر فرانس (شاید ملک الموت کے پروں میں بیٹھ کر فوری!) جا پہنچا۔ تیونس میں اپنے گھر والوں، دوست احباب کی مکمل لاعلمی میں فرانس میں گستاخی کا غم وغصہ صورت خنجر تین پر برساکر تکبیریں پڑھتا پولیس کی گولیاں کھاکر اسپتال پہنچا۔ بے ہوشی میں بھی تکبیر پڑھ رہا تھا۔ فرانسیسی خوفزدہ تو ہوںگے ہی! یہ کیسی محبت ہے اس ذات اقدس سے جو مسلم نوجوانوں کو نتائج و عواقب سے بے خوف کردیتی ہے؟ بے چارہ فرانسیسی! والدین کی محبت سے ناآشنا، رشتوں کی حلاوت سے تہی دامن، مصنوعی ذہانت والا، قلب وروح سے عاری روبوٹ نما، قابل رحم ہے۔ اس کی ذہنی، نفسیاتی کیفیت واقعتاً خلل دماغ کا شکار 


ای پیپر