سردار عثمان بزدار ڈرائیونگ سیٹ پر
08 نومبر 2020 (11:30) 2020-11-08

یہ واقعہ مشہور ہے۔ایک بار بانی پاکستان قائد اعظم چل رہے تھے۔ اس وقت کے بڑے بڑے علمائے کرام ان کے پیچھے چل رہے تھے۔اس موقع پر قائد ملت لیاقت علی خان نے آپ سے پوچھا۔وہ کون سی خاص بات ہے کہ علمائے کرام جن کے پیچھے زمانہ چلتا ہے وہ آپ کے پیچھے چل رہے ہیں۔قائد اعظم نے انہیں جواب دیا کہ دیکھو لیڈر کردار والا ہو تو زمانہ پیچھے چلتا ہے۔ اگر لیڈر والا کردار نہ ہو تو پھر انسان دوسروں کے پیچھے چلنے والا بن جاتا ہے۔

اگر ایک لیڈر نے فیصلہ کرلیا کہ ویلفیئر اسٹیٹ بنانی ہے تو پوری قوم ویلفیئر کی طرف چلی جاتی ہے۔ اگر ایک لیڈر نے فیصلہ کیا کہ ہم نے ایجوکیشنل اسٹیٹ بنانی ہے تو پوری قوم ایجوکیشن کی طرف چلی جائے گی۔ڈنمارک دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں پچھلے پچاس سال میں گنتی کے لوگ قتل ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ وہاں کی بہترین لیڈر شپ ہے۔جس نے فیصلہ کیا کہ ہم نے ایک ایسا ملک بنانا ہے جہاں امن ہوگا۔

آج پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان نے فیصلہ کیا۔پنجاب کے پسماندہ علاقوں کو اس کی دیرینہ محرومیاں دور کرکے ترقی کے مواقع فراہم کیئے جائیں گے۔اس کے لیئے دن رات کام کررہے ہیں۔ پنجاب کے سی ایم آفس میںایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے علاقے میں ترقیاتی کام کروانے کے لیئے جب وزیر اعل پنجاب سے بات کرتے ہیں تو وزیراعلی ایک منٹ ضائع کیئے بغیر اس پر فوری عمل کروانے کا حکم دے دیتے ہیں۔ یہ ہوتا کام کرنے والا لیڈر اس کی عملی سوچ علاقے کی خدمت اور عوام سے بے لوث پیا ر کی مثال۔جو سردار عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی پنجاب بلا امیتازطرز حکمرانی کا ماٹو ہے۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سچے عاشق رسولؐ ہیں۔انہوں نے صوبہ پنجاب میں عشق محمد یؐ کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔جس کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اس سال ماہ ربیع الاوّل میں ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ منانے کا خصوصی اہتمام کیا ہے۔ماہ ربیع الاول رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے 50کروڑ روپے مالیت کا رحمت اللعالمینؐ اسکالر شپ فنڈ قائم کردیا ہے۔جس میں سے 25کروڑ روپے پوزیشن ہولڈرز کو دیئے جائیں گے۔جبکہ 25کروڑ روپے رحمت اللعالمین اسکالرشپ فنڈ سے میٹرک پاس نادار طلبہ کو پڑھائی جاری رکھنے کے لیئے فراہم کیئے جائیں گے۔ہفتہ شان رحمت اللعالمینؐ کے سلسلے میں حضرت محمدؐ کی سیر ت پاک بیان کرنے کے لیئے پنجاب بھر میں عظیم الشان محافل ،تقریبات اور 

سیمینار کا انعقاد جاری ہے۔اس سلسلے میں پنجاب میں پہلی بار عالمی علماء ومشائخ کانفرنس بھی منعقد کی گئی ہے۔اسی طرح پنجاب بھر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی یونیورسٹیوں میں رحمت اللعالمینؐ چیئر ز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار جہاں ماہ ربیع الاول میں ہفتہ شان رحمت اللعالمین شایان شان طریقے سے منارہے ہیں۔ وہاں ان کے صوبے کی ترقی اور مفاد عامہ کے معمول کے دیگر زریں اقدامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اس ضمن میں پنجاب حکومت کا سندھ حکومت سے موازنہ کیا جائے تو یہ فرق واضح نظر آتا ہے۔وزیر اعلی کا عزم ہے کہ صوبے میں لوگوں کو سستا آٹا اور گندم فراہم کی جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی شارٹیج یا ذخیرہ اندوزی کرنے والے کے خلاف کاروائی کی جائے۔اسی بنا پر پنجاب حکومت صوبے میں فلورملزکو 16کی بجائے 21ہزار میٹرک ٹن ریلیزکررہی ہے۔یوں پنجاب حکومت، وفاقی حکومت کے مقرر کردہ کوٹہ16ہزار میٹرک ٹن کی بجائے 21ہزار میٹرک ٹن ریلیز کرکے6ہزار میٹرک ٹن زیادہ گندم فراہم کررہی ہے۔اس طرح حکومت پنجاب عوام کی خدمت کے عمل میں دیگر صوبوں کی حکومتوں سے بڑھ کر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی ڈرائیونگ سیٹ وزیراعلی سردارعثمان بزدار کے ہاتھوں میں ہے۔

اس کے برعکس دوسری جانب دیکھا جائے تو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو اپنے صوبے اور عوام کی خدمت سے بے خبر گلگت بلتستان میں ننھے بچوں والی تقریریں کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔جن میں وہ پرانے گھسے پٹے جملے بول رہے ہیںکہ عوام ہمیں ایک موقع اوردیں اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ہر جانب ترقی اور خوشحالی ہوگی۔یہ امر بھی باعث افسوس ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پچھلے بارہ برسوں سے حکومت کررہی ہے۔ مگر آج تک عوام کو فائدہ پہنچانے کی کوئی حکمت عملی نہیں بنائی جاسکی ہے۔حکومت سندھ نے وفاقی حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ صوبے میں گندم کی کوئی شا رٹیج نہیں ہونے دیں گے۔سندھ حکومت کی جانب سے فلورملز کو روزانہ 8ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔لیکن جب وزیراعظم عمران خان نے اس سلسلے میں فزیکل معائنہ کروایا تو یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حکومت سندھ اپنے وعدے سے مکرگئی ہے۔ اور 8ہزار میٹرک ٹن کی بجائے صرف 2400میٹرک ٹن گندم فلورملز کو ریلیز کی جارہی ہے۔سند ھ حکومت کی طرف سے فلورملز کو دی جانے والی گندم حکومت پنجاب کی طرف سے مہیاکی جانے والی گندم کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔

وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ سندھ کے عوام کو آٹے کی دستیابی کا کوئی مسلہ دریپش نہ ہواور وہ مقرر کردہ گندم کوٹہ پر عمل درامد کی خواہاں ہے مگر حکومت سند ھ اس سلسلے میں تعاون کرنے کی بجائے وفاقی حکومت کے اقدامات میں روڑے اٹکا رہی ہے۔اس طرح وہ گندم فلورملز کو ریلیز کرنے کی بجائے اسے ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اسٹاک کرکے چوہوں کی خوراک کا موجب بنارہی ہے۔اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے قائد بلاول بھٹو اور سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کا وڑن ملاحظہ کریں کہ گندم چوہے کھائیں لیکن انسان کو اس سے محروم کردیں۔اب عوام خود فیصلہ کریںکہ وزیر اعلی پنجاب اپنے صوبے کے عوام کے ساتھ مخلص ہیں یا وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ؟

سندہ حکومت کی کرپشن کی عجب کہانیا ں ہیں۔اس ضمن میں صحت کے حوالے سے بننے والے قومی ادارے برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی)میں اربوں کی کرپشن سامنے آرہی ہے۔نیب نے 5سالوں کے دوران خرچ ہونے والے 35ارب رروپے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ جس میں انکشاف ہو ا کہ این آئی سی وی ڈی جیسے قومی ادارے میں حکومت سندھ نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کمپنیوں سے مہنگے داموں خریداری کرکے فنڈز میں اربوں کے گھپلے کیئے ہیں۔ادارے میں مہنگی تنخواہوں پر خلاف قواعد ساڑھے 4ہزارسے زائد بھرتیاں کی گئی ہیں۔یہ وہ واضح فرق ہے جو حکومت پنجاب اور سندھ حکومت کے تقابلی جائزے میں نظر آتا ہے۔ 

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنے رواں ٹنور میں ہرلحاظ سے صوبے کے ایک بہترین سربراہ کے طور پرثابت ہوئے ہیں۔وہ سچے عاشق رسولؐ ہیں۔ اور ان کے دل میں غریبوں کے لیئے ہمدردی ہے۔ عوام کی خدمت ان کا مشن ہے۔وہ ایک بے لوث انسان ، فعال سیاستدان اور ہردلعزیز وزیر اعلی ہیں۔ سردار عثمان بزدار حکومت کی کوشش رہی کہ کورونا کے باوجود ملک کی معیشیت کا پہیہ چلے اور لوگوں کو روزگار ملے۔اس کے لیئے عمرا ن خان نے کنسٹرکشن کے جس پیکج کا اعلان کیا ہے۔پنجاب میںاس کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔جس کے تحت پنجاب میں 325 بلین روپے کے منصوبے منظور ہوئے ہیں۔لاہور شہر میں 200بلین روپے کے منصوبے منظور ہوئے ہیں۔جو صر ف گھروں کے پروجیکٹ ہیں۔


ای پیپر