اقبالؒ کا فلسفہ علم اور ہمارا نظامِ تعلیم
08 نومبر 2018 2018-11-08

انسان جب زمین پر اُترا تو اُس کا فطرت سے سامنا ہوا۔ فطرت میں اُسے کشش محسوس ہوتی تھی اور کبھی کبھی فطرت کی طاقتوں سے خوف زدہ بھی ہو جاتا تھا لیکن اپنے علم کی طاقت سے انسان نے فطرت کو مسخر کرنا شروع کر دیا۔علامہ اقبال کہتے ہیں کہ آدم کو جو علم سکھایا گیا اور جسے خلافت کی اہلیت کی بنیاد بنایا گیا اُس علم کی بدولت انسان نائب خدا کی حیثیت سے اشیاء کے بارے میں تصورات تشکیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اشیاء اُس کی گرفت میں بھی آ سکتی ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے خطبے بعنوان ’’ علم اور مذہبی تجربہ‘‘ میں لکھا ہے کہ قرآن حکیم کا مقصد یہ ہے کہ وہ یہ شعور بیدار کرے کہ انسان اور کائنات کا خدا سے کیا تعلق ہے۔ خدا، انسان اور کائنات کے کثیر الجہتی تعلق کے اسرار و رموز، علم کی کنجی سے ہی کھلتے ہیں۔
علامہ اقبال کے نزدیک علم کے تین ذرائع ہیں: فطرت، تاریخ اور مذہب۔ فطرت کے علم کا تعلق محسوسات کی دنیا سے ہے۔ یہ حسی تصورات سے حاصل ہوتا ہے۔ اس علم کی تفہیم تدریجی نوعیت کی ہے۔ فطرت کے مظاہر پر غور و خوض کرکے معلومات اکٹھی کرنا، اُن کو مرتب کرنا اور اُن کے تجربے و تجزیے کے صبر آزما مراحل سے گزرکر نتائج اخذ کرنا اس علم کا خاصہ ہے۔ فطرت کی قوتوں کے مطالعہ سے ہی انسان نے فطری قوانین (Laws of Nature) کو دریافت کیا جو خالق کائنات نے پیدا کیے ہیں۔ اس طرح فطری علوم (Natural Sciences) معرضِ وجود میں آئے۔
علامہ اقبال نے قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں اس پر زور دیا ہے کہ فطرت کوئی جامد شے نہیں جو خلا میں رکھ دی گئی ہے۔ یہ ہر آن متحرک ہے۔ تخلیق کائنات کے تمام مظاہر کو اللہ تعالیٰ کی آیات قرار دیا گیا ہے۔ اقبال اس کو حقیقت مطلقہ کی گونا گوں شانیں قرار دیتے ہیں۔ان کے مشاہدہ اوران پر غور و خوض کرنے سے اللہ تعالیٰ کا عرفان نصیب ہوتا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ یہ حقیقت کا قابلِ مشاہدہ پہلو ہے، اس پہلو کی پرتیں کھولنے والے اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اُس کی قدرت کاملہ کے شناسا ہو جاتے ہیں۔ قرآن حکیم کی سورۃ الفاطر ۵۳کی آیات ۷۲اور ۸۲ میں ارشاد ربانی ہے:
’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل فرمایا جس کے ذریعے ہم نے زمین سے گونا گوں رنگ کے پھل نکالے اور پہاڑوں میں بھی سفید و سرخ رنگ کے راستے پیدا ہوئے۔ مختلف رنگوں میں اور گہرے رنگ میں، اور انسانوں، چلنے پھرنے والے جان داروں اورچوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے بندوں میں سے صرف علماء ہی خشیت الٰہی رکھتے ہیں۔ بے شک اللہ عزیز اور غفور ہے۔‘‘
ان آیات میں قرآن حکیم نے جمادات، ارضیات، نباتات، حیوانات اور انسانوں کی دنیاؤں میں حیات کے تنوع اور اختلاف پر تفکر کی دعوت دی ہے اوریہ فیصلہ دیا ہے کہ ان جہانوں اور شعبوں کے علما ہی خشیت الٰہیہ کے مقام پر فائزہوتے ہیں۔ علامہ اقبال نے قرآن مجید کے اس استقرائی منہاج کا بار بار حوالہ دیا ہے اور تاریخی اعتبار سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ قرآنی منہاج ہی تھا جس کی بدولت مسلمانوں نے سب سے پہلے نیچرل سائنسز کی بنیاد رکھی اور وہ ماڈرن سائنس کے بانی کہلائے۔ اقبال کے فلسفہ تعلیم کے مطابق کوئی تہذیب اور کوئی تمدن، فطری علوم کے بغیر توانا، طاقت ور اور پائیدار نہیں ہو سکتا۔ فطرت کی تسخیر نائب خدا کا فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت کی قوتوں کو اس لیے انسان کا مطیع کیا کہ وہ علوم و فنون کی تخلیق کرے۔ ان علوم سے پُراعتماد اور سرشار ہو کر اپنی مخفی صلاحیتوں کا تماشا کرے اور بے عیب کائنات کی بے کرانی کا مشاہدہ کرے۔ علامہ اقبال کے نزدیک سائنس دان چونکہ حقیقت مطلقہ کے قابل مشاہدہ پہلو کا مطالعہ کرتا ہے اس لیے وہ بھی ایک طرح خدا کی جستجو میں منہمک ہے۔ علوم کی تحقیق بھی عبادت کی ایک قسم ہے۔ اقبال کہتے ہیں:
"The truth is that all search of knowledge is essentially a form of prayer, the scientific observer of Nature is a kind of mystic seeker in the act of prayer."
فکر اقبال میں طبیعیات اور سائنسی علوم کو تقدس کا درجہ حاصل ہے۔ طاقت اور توانائی کے حصول کے لیے یہ ناگزیر ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں فطری علوم کی روایتی تدریس وسیع پیمانے پر ہو رہی ہے لیکن تخلیق اور تحقیق کے میدان میں ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ ہم قابل اور ماہر ڈاکٹرز اور انجینئرز تو بنا رہے ہیں لیکن اعلیٰ درجے کے سائنس دان پیدا نہیں کر رہے۔ سائنسی علوم کی اعلیٰ ریسرچ اور نئی ایجادات و اختراعات میں مسلمانوں کا کوئی قابلِ ذکر نظرنہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میڈیکل سائنس اور انجینئرنگ و ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ملکوں کے دستِ نگر ہیں۔ یورپ اور امریکہ ادویات، طبی آلات اور جنگی اسلحہ کے سوداگر ہیں اور مسلم ممالک اُن کے خریدار ہیں۔ عالمی مارکیٹ اور عالمی میڈیا پر اُن کا قبضہ ہے اور ہم اُن کے مفادات کو چیلنج کرنے کے قابل نہیں۔ عہد حاضر میں وہ قوم معاشی اور سیاسی طور پرخود مختار نہیں ہو سکتی جو سائنسی علوم میں دیگر اقوام کی محتاج ہو۔ ہمارا نظام تعلیم ناقص ہے کیونکہ وہ عہد حاضر میں ہماری معاشی ضروریات اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
اقبال نے دوسرا ذریعہ علم ، تاریخ کو قرار دیا ہے۔ اُن کے نزدیک تاریخی واقعات کی صحت کی جانچ پڑتال کے 
لیے تنقیدی اور تحقیقی اسلوب ضروری ہے۔ مسلمانوں نے روایت اور درایت دونوں پر زور دیا اور اسماء الرجال کے تکنیکی علم کے ذریعے اقوام عالم کو تاریخ نگاری کے اصولوں سے متعارف کرایا۔ تاریخ میں سماج کی تاریخ (عمرانیات) معاشیات و سیاسیات کی تاریخ، فلسفہ و نفسیات اور سائنسز کے ارتقا کی تاریخ شامل ہے۔ اقبال نے اپنی اکثر نظموں میں عمرانی اور تاریخی مطالعہ کو بنیا بنایا ہے۔ ’’مسجد قرطبہ‘‘، ’’ذوق و شوق‘‘، ’’لینن خدا کے حضور‘‘ اور ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اسلامی تاریخ اور یورپ کی تاریخ کا ادبی اور فنی اسلوب میں جامع تجزیہ پیش کیا ہے۔ تاریخ قوموں کے عروج و زوال اور مختلف ثقافتوں کی تشکیل و تشریح کی داستان ہے جس کے غائر مطالعہ سے افراد اور اقوام سبق سیکھ کر سلامتی اور ترقی کے راستے پر چل سکتی ہیں۔ پچاس کی دہائی میں پاکستان میں ہندوستان کی تمام ادوار کی تاریخ اور تاریخ انگلستان بھی پڑھائی جاتی تھی لیکن آہستہ آہستہ ہم نے تاریخ اور جغرافیہ کو ثانوی سطح کے نصاب سے نکالنا شروع کر دیا۔ مزید برآں ہمارے کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں تاریخ اور فلسفہ کے مضامین کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اندر تعقل اور تدبر کا رجحان گھٹتا جا رہا ہے۔ ہم اعتدال اور عقلیت پسندی کی راہ کے بجائے جذباتیت اور ڈگمیٹزم کے راستے پر چل نکلے ہیں۔دوسری طرف مدارس کے نصاب میں مطالعہ پاکستان اور اقبالیات کا کوئی حصہ بھی شامل نہیں ہے۔ حالانکہ ہمارے کئی علماء اپنی تقاریر کو اقبال کی شاعری سے مؤثر اور مزین کرتے ہیں۔ اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مطالعہ بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی نے ۹۲ستمبر ۵۱۰۲ء میں دینی مدارس کی تنظیموں کے سربراہوں کو ایک مفصل خط لکھا تھا اور درخواست کی تھی کہ اقبال کی کچھ نظموں کو داخل نصاب کر لیا جائے اور غور کرنے کے لیے چند نظموں کا نام جن میں ’’مدنیت اسلام‘‘، ’’جواب شکوہ‘‘، ’’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘، ’’مسجدِ قرطبہ‘‘، ’بڈھے بلوچ کی نصیحت‘‘، ’’تربیت خودی کے مراحل‘‘، ’’اے غنچہ خوابیدہ چو نرگس نگراں خیر‘‘، ’’محکمات عالم قرآنی‘‘ اور ’’خطاب باجاوید‘‘ شامل تھیں لیکن سوائے جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم کے ہنوز کسی اور کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
اقبال نے مذہب کو علم کا تیسرا اور اہم ترین ذریعہ قرار دیا ہے۔ اقبال نے طبیعیات اور نیچرل سائنسز کو تقدس کا درجہ دیا اور ساتھ اس حقیقت کو بھی اُجاگر کیا کہ سائنس اور مذہب میں کوئی تصادم نہیں اُن میں ہم آہنگی ہے۔ جدید تحقیقات نے مادہ کو کائنات کی اصل کے طور پر رد کر دیا ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ کائنات کی اصل روحانی اساس ہے اور تمام علوم میں وحدت ہے۔ اسلام میں روح اور مادہ کی ثنویت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ مادہ بھی مقدس ہے۔ ایک حدیث میں تمام زمین کو مسجد قرار دیا گیا ہے۔ اقبال اپنے ایک خطبے میں کہتے ہیں:
اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ مادہ کے ذرے کی میکانکی حرکت سے لے کر انسانی خودی میں فکر کی آزادانہ حرکت تک ’’میں عظیم ہوں‘‘ کی ذات کا انکشاف و اظہار ہے۔الوہی توانائی کا ہر جوہر، ہستی کے پیمانے میں کتنا ہی پست ہو، ایک خودی ہے لیکن خودی کی ماہیت کے اظہار کے اعتبار سے کئی مدارج ہیں۔ بزم ہستی میں ہر کہیں خودی کا نغمہ لحظہ بہ لحظہ بلند ہو رہا ہے اور ذات انسانی میں اپنے معراجِ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘
علامہ اقبال کے نزدیک حقیقت مطلقہ روحانی ہے اس لیے کائنات اور زندگی کے تمام مظاہر کی حقیقت بھی روحانی ہے۔ وہ اپنے خطبے بعنوان ’’اسلام میں حرکت کے اصول‘‘ میں کہتے ہیں:
"The ultimate reality, according to the Quran is spiritual and its life consists in its temporal activity, the spirit finds its opportunities in the natural, the material, the secular. All that is secular is therefore sacred in the roots of its being."
قادر مطلق اور علیم و خبیرخدا کا تصور اور آخرت میں اعمال کی جواب دہی کا احساس مذہب ہی سے اُجاگر ہوتا ہے۔ مذہب ہی انسان کو اس جذبے سے سرشار کرتا ہے کہ مرنے کے بعد اُس کا کیرئیر ختم نہیں ہو جائے گا۔مذہب ہی نے بنیادی اخلاقی اقدار، صداقت، دیانت اور احترام آدمیت کے غیر متبدل ہونے کا درس دیا ہے۔ مذہب کے بغیر علم اور تعلیم کا کوئی اخلاقی نصب العین ہاتھ نہیں آتا۔ علوم میں بے پناہ ترقی اور شاندار نظام ہائے تعلیم کے باوجود دورِ حاضر زبردست اخلاقی بحران میں مبتلا ہے۔ انسان نے زر و سیم اور زندگی کی آسائشوں کو نصب العین کا درجہ دے دیا ہے۔ الحاد اور مذہب سے بے زاری غالب تہذیب میں رچ بس گئی ہے۔ مغرب میں معاشی ترقی ہے اور لوگوں کو بنیادی ضروریات زندگی اور جدید سہولتیں حاصل ہیں لیکن وہاں بھی ذہنی خلفشار، نفسیاتی عوارض اور جنسی بے راہ روی عام ہے۔ وہاں کے لوگ بظاہراچھے شہری اِس لیے ہیں کہ وہ قانون کے شکنجے میں جکڑے ہوتے ہیں۔ ورنہ اُن کے نظام ہائے تعلیم باضمیر ، بے لوث اور پاکیزہ نفوس پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ علامہ اقبال کے نزدیک اچھائی اور نیکی جبر کا معاملہ نہیں بلکہ انسان اپنی مرضی سے نیکی کے راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
"Goodness is not a matter of compulsion, it is the self's free surrender to the moral ideal and arises out of a willing cooperation of egoes."
مذہب ہی سے اندر کی دنیا بدلتی ہے اور ضمیر روشن ہوتا ہے۔ پاکستان میں مذہب کا چرچا تو بہت ہے لیکن معاملات میں صدق و امانت کے اوصاف اٹھتے جا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مادیت پرستی اور خیانت سرایت کر چکی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبا بھی اِس وبا سے محفوظ نہیں۔ سحر خیزی، ریاضت اور اسلامی اخلاقیات میں پہلی نسلیں ہم سے بہت آگے تھیں۔ علامہ اقبال پیر رومی سے کہتے ہی:
چشم بینا سے ہے جاری جوئے خون
علم حاضر سے ہے دین زار و زبوں
پیر رومی جواب دیتے ہیں:
علم را برتن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود
( علم کا مقصد اگر تن پروری ہو تو یہ سانپ بن جاتا ہے اور اگر علم کا مقصد قلب و روح کی آبیاری ہو تو علم دوست بن جاتا ہے)
اقبال مولانا رومی سے پوچھتے ہیں:
علم و حکمت کا ملے کیونکر سراغ
کس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ
پیرِ رومی کہتے ہیں:
علم و حکمت زاید از نان حلال
عشق و رقت آید از نان حلال
( علم و حکمت اور عشق و رقت رزق حلال سے ملتا ہے)
نظامِ تعلیم میں اساتذہ کا کردار سب سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے فیضانِ نظر اور مکتب کی کرامت جیسی اصطلاحوں کا استعمال کیا ہے۔ اساتذہ، شاگردوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ تعلیم میں ذوقِ تحقیق و تخلیق اور شخصیت کے تزکیہ و تعمیر میں استاد کی توجہ اور نظر کا بہت اثر ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:
اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم ناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت نہ نگاہ
اقبال چاہتے ہیں کہ اساتذہ طلبا میں تخلیق کے لیے ایک اضطراب پیدا کر دیں اور ذوق تحقیق کو اُجاگر کریں تاکہ طلبا صرف حروف شناس اور کتاب خواں نہ ہوں بلکہ وہ علم کے اسرار و رموز کے لذت آشنا ہو جائیں:
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
فکرِ اقبال کی روشنی میں پاکستان کے نظامِ تعلیم میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔طلباء میں اخلاقی محاسن اورآفاقی و عالمی وژن پیدا کرنے لیے ضروری ہے کہ ثانوی سطح کے نصاب میں تاریخ، جغرافیہ، مطالعہ پاکستان، روزمرہ کی سائنس کی مبادیات (Everyday Science) اور دینیات کو لازمی مضامین کی حیثیت سے پڑھایا جائے۔ دینیات میں آدابِ زندگی، اقبالیات اور اسلامی تصوف کے اسباق کو بھی شامل کیا جائے۔ قومی وحدت کا تقاضا ہے کہ دینی مدارس، انگلش میڈیم سکولوں اور عام سکولوں میں میٹرک کی سطح تک ایک ہی نصاب ہو۔ اُس کے بعدکے تعلیمی مراحل میں طلبا اختصاص کے شعبوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ دینی مدارس میں میٹرک کے بعد ذہین اور پُرشوق طلبا تفسیر قرآن، فقہ و حدیث اور تقابل ادیان میں اختصاص حاصل کر سکتے ہیں۔اقبال کے نزدیک زندگی کا حق بغیر جدوجہد کے نہیں ملتا اور زندگی انفس اور آفاق کی وسعتوں اور گہرائیوں کا علم حاصل کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں:
زندگی جہد است و استحقاق نیست
جز بہ علم انفس و آفاق نیست

Back to Conversion Tool


ای پیپر