ڈ ا لر کی گر فت سے چھٹکا ر ہ 
08 نومبر 2018 2018-11-08

خو ش آ مد ید کہ بالا آ خر ، خو اہ دو ست ملک چین کے را ستہ د کھا نے پہ ہی سہی، ڈ ا لر کے چنگل سے نکلنے کا کو ئی طر یقہ تو نظر آ یا۔ وہ یو ں کہ وز یرِ ا عظم عمر ا ن خا ن کے حا لیہ دو ر ِ چین کے دو را ن جن پند ر ہ تجا ر تی معا ہد و ں پہ دستخط ہو ئے ان میں یہ طے پا یا کہ کر نسی کی لین دین ڈا لر کی بجا ئے چینی کر نسی یو ا ن میں ہو گی۔ یہ پاک چین دوستی میں اہم اور تاریخی پیش رفت ہے او ر یہ چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ڈالر میں پیسے دینے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوجاتے تھے اور خزانے پر بوجھ پڑتا تھا۔ یہا ں یہ ذکر دلچسپی سے خا لی نہیں کہ خو د چین کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنی کرنسی یوان میں بیرونی دنیا کے ساتھ تجارت کرے گا۔ یہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی چینی تجارت کو عالمی سطح پر تیز تر کرنے کا انتہائی اہم آغاز ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کا بھی پیش خیمہ ہے کہ اب چین عالمی سطح پر امریکہ کے مقابل خم ٹھونک کر ایک بڑی معاشی اور تجارتی قوت بن کر سامنے آرہا ہے۔ چین جتنی تیزی سے سائنس و ٹیکنالوجی، دفاعی اور معاشی میدان میں ترقی کر رہا ہے اس کے خطرات امریکی پالیسی ساز اور ماہرین گزشتہ کئی برسوں سے محسوس کرچکے اور وہ چین کا راستہ روکنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرر ہے ہیں لیکن اب جس طرح چین نے پہلی بار پاکستان کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کا فیصلہ کیا ہے وہ کامیابی سے ہمکنار ہونے پر مستقبل میں ڈالر کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے۔ آج چین نے پاکستانی کے ساتھ اپنی کرنسی میں تجارت کی بات کی ہے کل وہ مزید پیشرفت کرتے ہوئے دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کرسکتا ہے۔ چین جہاں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا وہاں وہ مالدیپ، برما، افغانستان اور دیگر بہت سے ممالک میں بھی بڑی تیزی سے اپنے قدم جما رہا ہے۔ پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کی کرنسی میں تجارت کے معاہدے پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کے لیے باہمی کرنسی کا حجم دوگنا کردیا۔ چینی کرنسی میں تجارتی حجم 10 ارب سے بڑھا کر 20 ارب یو آن جب کہ پاکستانی کرنسی میں تجارتی حجم 165 ارب سے بڑھا کر 351 ارب روپے کردیا گیا۔ پاکستان اور چین کے بینکوں، فنانشل اداروں میں لین دین کا آسان اور مربوط نظام بنانے پر بھی اتفاق ہوا جس کے لیے دونوں ممالک میں بینکوں کی مزید برانچیں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے صنعتی سیکٹر کی بحالی کے لیے بھی چین مدد فراہم کرے گا اور اس مقصد کے لیے چین پاکستان میں اسمال انڈسٹری یونٹس لگانے میں مہارت بھی فراہم کرے گا۔ البتہ ایک اہم نکتہ جو تو جہ کا طا لب ہے، وہ کچھ یو ں ہے کہ چینی ہمیشہ اپنے معاشی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ ان کے لاکھ اختلافات سہی مگر تمام اختلافات اور رنجشوں کے کانٹوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ چین بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ مذہبی عقائد سے بالا تر ہوکر مسلم عبادات، حج اور عمرہ میں استعمال ہونے والی امتعدد اشیاء چین تیار کر رہا ہے۔ چین کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے سینٹرل پارٹی سکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑے شہروں کے مسائل کے خاتمہ کے لیے بھی چین کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ چین سے محبت کرتے ہیں اور یہ محبت صرف حکومت کی حکومت ہی سے نہیں بلکہ عوام کی عوام سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ستر کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، ہم بھی پاکستان کے لوگوں کو غربت سے نکالیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین سٹریٹجک تعاون 
اور پارٹنر شپ ہمیشہ مضبوط رہے گی۔ پاکستان میں معاشی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں گے۔ پاکستان اور چین دفاعی تعاون میں مزید وسعت دیں گے۔ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر چین نے پاکستان کو براہ راست سرمایہ فراہم نہیں کیا لیکن جو تجارتی، دفاعی اور دیگر معاہدے کیے ہیں اس سے مستقبل میں جہاں پاکستان کے صنعتی شعبے میں بہتری آنے سے معیشت کو استحکام ملے گا وہاں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ چین نے جس تیزی سے ترقی کی ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ اب یہ پاکستانی حکومت کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ چینی تجربات اور مہارت سے کتنا مستفیض ہوتی ہے۔
خطے کے سٹریٹجک اور معاشی مفادات کے تناظر میں پاک چین باہمی تعلقات میں روزبروز استحکام آتا چلا آرہا ہے۔ چین دفاع، توانائی، معدنیات کی تلاش سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ معاشی بحران ہو یا اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہو، ہر مشکل وقت پر چین نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جواباً پاکستان نے بھی تائیوان کا مسئلہ ہو یا عالمی سطح پر کوئی بھی بحران اس نے چینی موقف کی حمایت کی ہے۔ اس وقت پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے اور اسے پانی اور توانائی کے بحران سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر سرمائے کی اشد ضرورت ہے۔ اب وزیر اعظم چین کے دورے پر بھی اسی نقطہ نظر سے گئے تھے مگر مشترکہ اعلامیے میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے جن معاہدوں اور مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے ہیں وہ خاصے پرکشش نظر آتے ہیں۔ چینی بڑے سمجھدار اور زیرک ہیں، وہ کسی بھی ملک سے تعلقات قائم کرتے ہوئے پاکستانیوں کی طرح جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے اپنے معاشی مفادات کو عزیر رکھتے ہیں اور وہ وہی معاہدہ کرتے ہیں جس میں ان کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔ بہرحال پاکستان نے بھی چین سے بھاری فوائد سمیٹے ہیں۔ پاکستان سے اقتصای زونز کے قیام، زراعت اور اقتصادی و تکنیکی تعاون سے متعلق معاہدوں کا ہونا صائب عمل ہے۔ عوامی جمہوریہ چین نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کا دورہ چین خاصا کامیاب رہا۔ پاکستان کو اب اپنی معیشت کو سنبھال دینے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت دوست ممالک سے سرمایہ مانگنے کے بجائے پاکستانی صنعتوں اور تجارت کو فروغ دینے کے معاہدے، خلیجی ریاستوں سمیت دیگر ممالک میں پاکستانیوں کے لیے وسیع پیمانے پر روزگار تلاش، صنعتوں اور زراعت کو سستی توانائی مہیا اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرے تو چند برسوں میں پاکستان معاشی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا اور ہمارے حکمرانوں کو بیرون ملک سے ڈالر مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
زیرِنظر کا لم کے حو ا لے سے جہا ں ہم د عا کر ر ہے ہیں کہ خد ا کرے ہما ری و طنِ عز یز کی بہتری کی تمنا ئیں بر گ و گل لا ئیں، وہیں ہما رے و زیرِ اعظم کو یہ سمجھنا ضر و ری ہے کہ کسی دو سرے کے سا منے قمیض کا پلہ اٹھا نے سے اپنا ہی پیٹ ننگا د کھا ئی دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ کسی دو سرے کے سا منے ، اپنے ملک کے نقا ئص بیا ن کر نے سے ہما ری اپنی ہی کمز و ر ی وا ضح ہو تی ہے۔ کیا کہتے ہیں آ پ کہ جب ہما ر ے وز یرِ ا عظم نے چینیو ں کے سا منے پچھلی حکو متو ں پہ ملبہ ڈا لتے وقت ا نو ا ع ا قسا م کے نقا ئص بیا ن کیئے ہو ں گے تو اس سے چینیو ں نے ان کے اور ہما رے بارے میں کس قسم کا تا ثر لیا ہو گا؟


ای پیپر