یہ انداز سیاست۔۔۔ درست نہیں
08 نومبر 2018 2018-11-08

حکومت اپنے سو دن پورے کرنے کے قریب ہے۔ یہ عرصہ حکمرانوں کے لیے ہنی مون کا ہوتا ہے تاکہ اسے حکمرانی کے آداب سمجھنے کے لیے وقت ملتا ہے۔ اسے بہت سے اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ منشور میں کیے گئے وعدوں کی ترتیب بنانی ہوتی اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات طے کرنا ہوتی ہیں۔ نیا پاکستان بن چکا ہے۔ لوگوں کی خواہش تھی تبدیلی قومی زندگی کا دھارا بدل دے گی ، تبدیلی آ گئی ہے۔ اب ہم دیکھیں گے کہ سو دنوں میں عام آدمی کو کیا حکمرانی سے پہلے کیا کیا لوگوں کی غربت اس لیے ختم نہیں ہوتی تھی کہ حکمران پیسہ چوری کر کے باہر لے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں علاج نہیں ہو سکتا ۔ حکمران چوری کر کے پیسہ بے روزگاری، بجلی اور گیس مہنگی سے اس لیے مہنگی ہے کہ حکمران چور اور ڈاکو تھے۔ عوام نے ان سارے نعروں پر یقین کر لیا کہ خدا کا شکر ہے کہ اسے ایسے حکمران ملے ہیں جو خلق خدا کی خدمت کا بیڑا اٹھا رہے ہیں۔ اب انصاف تو گھر کی دہلیز پر ملے گا۔ پہلے ڈالر بڑھا اور کافی آگے نکل گیا۔ پرانے پاکستان کے حامیوں نے تو ڈالر کو پورے چار سال باندھ کر رکھا مگر آتے ہی شور مچا دیا خزانہ خالی، سب کچھ لٹ گیا، قرضہ لیا اس کا حساب نہیں ہے۔ کیا تماشا ہے آخر یہ غیر سنجیدہ انداز حکمرانی کب تک چلے گا۔ پورے دس سال پارلیمنٹ تھوڑے بہت ہنگاموں کے ساتھ چلی۔ مگر کبھی ایسا ماحول نہیں بنا کہ حزب اقتدار اور مخالف دو دشمن ہیں۔ان سے صلح نہیں ہو سکتی۔ آپ کسی کی بات سنتے نہیں ۔ آپ نے اپنی مرضی سے ایک معاہدہ کیا۔ 5 نکات لکھے پھر سب کچھ پلٹ دیا اور مذاکرات کی میز تک الٹا دی گئی۔ تماشا ہے اور خوب تماشا آپ نے ایک نئے احتجاج کو متعارف کرایا۔ جو ہماری زندگی کا حصہ بن گیا۔ دھرنوں کے دنوں میں ایک تھانے پر حملہ کیا۔ قانون توڑنے والوں کو جس انداز سے تھانے سے رہا کرایا۔ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کیا۔ کرینوں کے ذریعے پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا۔ آج کے صدر پاکستان عارف علوی صاحب نے ٹیلی فون پر حملے کی مبارک دی۔ 126 دنوں میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ سول نافرمانی کر دیں۔ پھر قبریں کھو دی گئیں۔ یہ سارا کھیل ہے۔ سب سمجھتے ہیں اب کوئی یہ سب کرنے کی کوشش کرے تو یہ ریاست سے بغاوت ہے کسی کو رستے بند کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ اصول تو بنتا ہے احتجاجی تحریک کے دوران آج کے حکمرانوں کے کارکنوں پر شہروں کو لاک ڈاؤن کے مقدمے بنے خود وزیر اعظم دیگر وزراء پر ایک اعلیٰ پولیسی افسر پر وحشیانہ تشدد کا مقدمہ چل رہاہے ۔ مدینہ کی ریاست میں انصاف کی یہ تفریق نہیں تھی کہ میں وزیر اعظم ہوں تو مجھے استثنیٰ دیا جائے۔ کرپشن کے مقدمات صرف نشانہ بنی ہے تو سابق حکمران جماعت ، جب مرکز کے وزیر منصف اعلیٰ کو ان کے گھر جا کر پھول پیش کریں گے تو انصاف پر سوال تو اُٹھیں گے۔ سو دنوں کی حکمرانی اناڑی پن کے سوا کچھ نہیں ۔ ہر طرف اہلیت کا فقدان نظر آ رہاہے۔ پاکستان کی یہ پہلی حکومت ہے جو خود اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ اس کے اناڑی وزیر ہیں کہ وہ شہہ پر میدان میں اترے ہیں۔ جن دو وزیروں نے بدھ کے وز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریروں میں پارلیمانی زبان استعمال کی۔ ڈپٹی سپیکر خاموش تماشائی بنے رہے جب ایسا معاملہ ہوتا ہے تو سپیکر صاحب چیئر مین لیتے۔ 
غریبوں کے آنگن میں نئے پاکستان کے جو جگنو اپنی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کا نشانہ غریب عوام بنی ہیں۔ آٹا، گھی، تیل ، چائے کی پتی، مصالحہ جات، چینی، ویگنوں اور لوکل کے کرائے، دودھ ، یہ نعمتیں نہیں ضرورت ہے۔ زندگی غذاب ہو چکی مگر راوی چین لکھ رہا ہے استاد دامن یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے شاہد ایوب اور بھٹو کے بارے میں یہ اشعار کیے تھے۔
اُتوں شور مچائی جاؤ
وچوں وچوں کھائی جاؤ
والا معاملہ ہے۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخاب ہوئے ٹرمپ اور ہمارے حکمرانوں کا رونا ایک جیسا ہے۔ ایوان نمائندگان ہیں 435 نشستوں میں حکمران جماعت ری پبلیکن پارٹی منہ کے بل گری ہے اور اپوزیشن جماعت ڈیمو کریٹس 222 ووٹ لے کر سنگل لارجسٹ پارٹی بنی ہے جب کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔ کافی گہرا گھاؤ لگا ہے۔ جبکہ سینیٹ میں سو کے ایوان میں 51 نشستیں ملی ہیں۔ اب ٹرمپ اپنی من مانی نہیں کر سکے گا اس انتخاب نے امریکی سیاست کو تقسیم کر دیا ہے۔ رمپ کے خلاف اگر حوا خزہ کی ضرورت پڑی تو اس کا آغاز ایوان نمائند گان سے ہی ہو گا۔ ہمارے حکمران بھی ٹرمپ کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ 2018ء کے انتخاب پر کافی سوالیہ نشان ہیں پری پول رگنگ میں جو ہوا وہ کافی اہم ہے پھر رات کے اندھیرے میں فارم 45 کا جو کھیل ہوا۔ اس کی کہانیاں عالمی میڈیا پر آچکی ہیں۔ قومی اسمبلی نے وزیر دفاع پر ویز خٹک کی سربراہی الزامات کا آؤٹ کرنے کے لیے کمیٹی تو قائم کر دی ہے کہ وہ دھاندلی کی تحقیق کرے۔ مگر یہ معاملہ اس سے آگے بڑھتا نظر نہیں آتا۔ آنے والے سال 2019 ء کا سورج ایک ایسے پس منظر میں طلوع ہو گا جب نواز شریف اور ان کی صاحبزادی جیل میں ہوں یا باہر سیاست کا لیور ان کے ہاتھ میں ہو گا۔ خان عبد القیوم کے بعد نواز شریف ایسے سیاست دان ہیں جو جب چاہیں عوام کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں۔مگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ حکومت ان کے احتجاج سے قبل ہی اپنی نا اہلی کے بوجھ تلے دب جائے۔ پہلے کارکردگی دکھانے کے لیے وزیر اعظم نے سو دن کا وقت لیا تھا اب بہتری کے لیے چھ ماہ کا وقت دے دیا ہے۔ یہ بھی تو ہو ر ہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو خود مختاری ملی ہے اس سے صوبائیت کا ڈنگ بڑی حد تک نکل چکا ہے۔ اب کوئی صوبہ یہ نہیں کہتا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ۔ خاص طور پر بلوچستان کو یوسف رضا گیلانی پھر نواز شریف نے بڑے پیکج دیئے۔ پہلے فواد چوہدری نے سندھ کے حوالے سے صوبائیت کی پھلجڑی پھینکی ۔ اب قومی اسمبلی کے اجلاس میں فیصل واڈا نے بغیر دلیل کے الزام لگا دیا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کا نواز شریف نے پانی چوری کیا ہے۔ واڈا صاحب کو علم نہیں قومی مفادات کونسل بھی موجود ہے۔ یہ سو دن کی کارکردگی چھپانے کی حکمت عملی ہے۔ فواد چوہدری کا یہ دعویٰ تاریخی طور پر غلط ہے کہ صوبائیت پھیلانے میں بھٹو کا نام صف اوّل نہیں ہے۔ جبکہ لیاقت علی خان کے زمانے میں صوبائیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی مگر تاریخ اس دعوے سے مختلف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کے انتقال کے بعد صوبائیت کا جن اَسی زمانے میں نمو دار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان کے عوام اس وقت سخت رنجیدہ ہوئے جب حسین شہید سہر وردی کی دستور ساز اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی گئی۔ لیاقت علی خان کو یہ بھی اعتراض تھا کہ سہروردی ان کی حکومت پر تنقید کیوں کرتے ہیں۔ قائد اعظم کی دوسری برسی پر جو تنقید کی تھی اس میں حکومت کے مخالفین کو غدار تک کہہ ڈالا گیا تھا ۔ صوبہ سرحد میں صوبائیت کی وباء اپنے عروج پر تھی۔ ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت ایک عوامی حکومت تھی۔ پاکستان بن جانے کے با وجود یہ اکثریت قائم رہی۔ پہلے ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کا خاتمہ کیا پھر انہیں چھ سال تک ہزارہ کے دور دراز گاؤں میں نظر بند کر دیا۔ عبدالغفار خان پختونوں کے لیڈر تھے۔ وہ بھی غداری کے الزام میں بدن ہو گئے۔ صوبائیت کے زہر نے مشرقی پاکستان میں اردو اور بنگالی زبان کے ایشو کو لے کر ایسا ادھم مچایا کہ خدا کی پناہ 1954ء میں مسلم لیگ کا مشرقی پاکستان میں اس لیے صفایا ہو گیا کہ مرکز کا رویہ صوبے کے ساتھ ایسا نہیں تھا پھر ایوب خان نے یہ صرف بنگالیوں کے بارے میں اپنی پالیسی دکھائی بلکہ اس ڈکٹیٹر نے بلوچی سرداروں کو پھانسی دی، اکبر بگٹی تو ایوب کی پھانسی سے بال بال بچے تھے۔ لیاقت علی خان کے زمانے میں ہی سندھ میں صوبائیت اور لسانیت نے سر اٹھا لیا تھا ایوب کھوڑو سندھ کے پہلے سیاست دان تھے جنہوں نے صوبائیت کے حربے کو استعمال کیا۔ بھٹو کے دور میں سندھ کی سرکاری زبان سندھی قرار دی گئی تو قتل و غارت تک نوبت پہنچ گئی۔ ضیاء الحق کے دور میں اکبر بگٹی نے قومی زبان کا استعمال ترک کر دیا ، مشرف کے آپریشن نے تو ایسی صورت پیدا کر دی کہ ان کا بویا ہوا قوم اب تک کاٹ رہی ہے۔ اس لیے ماضی سے سبق سیکھیں۔ فیصل واڈا صاحب اور فواد صاحب کو صوبائیت پر اتنا ہی بولنا چاہیے جنتا انہیں علم ہے۔ بڑی مشکل سے صوبے کنٹرول ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ بالا دست ادارہ ہے۔ یہاں پارلیمنٹرین کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کو کم از کم قومی اسمبلی کی تاریخ ہی پڑھ لینی چاہیے کچھ خود بھی بولیں جیسا پیچھے سے حکم ہوا اس طرف چل دیے۔ صوبوں میں صدارتی نظام نہیں لگا سکتے۔ صدر کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں گورنر تو ان کے نمائندے ہیں۔ جس طرح سے حکومت اور اپوزیشن کا کام چل رہاہے یہ کھیل زیادہ چلنے والا نہیں ہے۔ جمہوریت خطرے میں ہے کا طعنہ دینے والے وزیر اعظم کا جمہوریت پر اتنا ہی یقین ہے جب انہوں نے کسی کے کہنے پر ’’ پریشر گروپ ‘‘ بنا کر اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کے پس پردہ اور بھی کردار تھے۔ مگر اصل بندوق عبدالستار ایدھی کے کندھے پر رکھی گئی تھی۔ اس منصوبے کو روبہ عمل لانے کے لیے جب دباؤ کا حربہ استعمال ہوا وہ خاموشی سے اٹھے ٹکٹ کٹائی اور لندن پہنچ گئے۔ الزام لگایا کہ میری زندگی کو خطرہ ہے۔ بے نظیر کی حکومت کو ہٹانے اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی ایک ایک تفصیل غیر ملکی میڈیا کے سامنے کھولی گئی ۔ منصوبہ ناکام ہو گیا ، منصوبہ ساز اور کھلاڑی ایک ایک کر کے وضاحتیں دینے لگے کوئی چاہتا ہے نہ اپوزیشن ہو نہ مخالف جمہوریت کی گلیاں سونجی نہیں ہو سکتی۔ مرزا یار کو برداشت کرنا پڑے گا۔ یہی جمہوریت ہے۔ اصل معاملہ گڈ گورننس کا ہے۔ اس پر تنقید کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ابھی احتجاجی ریلے آئیں گے ۔ جو آپ نے کیا ویسا ہی حکمرانوں کے ساتھ ہو کر رہے گا۔


ای پیپر