Asif Anayat, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 May 2021 (11:31) 2021-05-08

ویسے تو موجودہ حکومت کا پورا دور ہی انہونیوں پر محیط ہے لیکن پچھلے ہفتے پے در پے ایسے واقعات ہوئے کہ انداز حکمرانی ہر لحاظ سے شعبدہ بازی ہی دکھائی دیا۔ ’’وزیراعظم‘‘ نے بغیر پروٹوکول کے اسلام آباد کا کامیاب دورہ کیا۔طرح طرح کی باتیں لطیفے بن کر باہر آئیں۔ ایسی حرکات حکمران آسان شہروں میں کیاکرتے ہیں۔ نواز شریف وزیراعظم تھے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں تھا۔ جبکہ شہباز شریف ڈیفکٹو وزیراعلیٰ تھے۔ مری میں میاں شہباز شریف واک کرنے نکلے راستے میں جوگر کا تسمہ باندھنے کے لیے جھکے۔ بظاہر کوئی سکیورٹی کوئی پروٹوکول نہ تھا تسمہ باندھتے ہوئے جناب خواجہ ٍجاوید سے سلام دعا ہو گئی۔ شہباز شریف چل دیئے اور خواجہ صاحب اپنی راہ لینے لگے اتنے میں ایک خفیہ والے نے ان کا نام پوچھا جو خواجہ صاحب نے بتا دیا اور یہ بھی کہ گوجرانوالہ بار میں وکیل ہیں۔ خواجہ صاحب نے اس سے مخاطب ہونے، کوائف دریافت کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس وقت کم از کم 400 آدمی ان کے پروٹوکول اور سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔اندازہ کریں کہ ڈیفکیٹو وزیراعلیٰ کا یہ پروٹوکول ہے ۔ وطن عزیز کے لوگوں کو ضیاء الحق کی سائیکل چلانا بھی یاد ہے جس نے سکیورٹی کے اخراجات کو کئی گنا ضربیں دے دیں۔ عمران خان جہاز میں نماز ادا کرنے کی پکچر بھی وائرل کرا چکے ہیں۔ وزیراعظم بننے سے پہلے ان کی تقریریں سن لیں کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس شخص کا انداز حکمرانی ایسا ہو گا۔ دراصل ہم بنیادی طور پر شخصیت پرست لوگ ہیں اگر سسٹم پر چلنے والے ہوتے تو ان ڈراموں کی ضرورت نہ پڑتی البتہ اگر کوئی طبع کے اعتبار سے ایسا ہو تو اس کو اداکاری نہیں کرنا پڑتی۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو ملتان میں مصطفی کھر اور نواب صادق حسین قریشی کی آپس کی مخالفت کی وجہ سے جلسہ میں ایک دوسرے کے خلاف ہلڑ بازی پر بھٹو صاحب ناراض ہوئے موڈ خراب ہو گیا جلسہ ختم ہوا واپس آ رہے تھے کہ راستے میں سڑک کنارے ایک تندور دیکھا فوراً رک گئے گاڑی سے اتر کر تندور کے اندر چلے گئے وہاں پر7/8 بوڑھی دیہاتی عورتیں تھیں انہوں نے بھٹو صاحب کو اچانک اپنے درمیان پا کر جس خوشی کا اظہار کیا وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ 

بھٹو صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اسلام علیکم کہا۔ کیا پکا ہے پوچھا؟ دال روٹی تھی۔ تب آنے کی روٹی اور دال مفت ہوا کرتی تھی۔ بھٹو صاحب نے چند نوالے دال کے ساتھ کھائے آٹے والے ہاتھوں سے عورتوں نے بھٹو صاحب کو بے اختیار پیار سے تھپکی اور دعائیں دیں۔ بھٹو صاحب نے جیب سے 100/100 روپے کے نوٹ نکال کر ان عورتوں کو دئیے۔ بھٹو صاحب کو پیار ملا عورتوں نے دعائیں دیں نعرے لگائے ، بھٹو صاحب خوشی سے پر نم آنکھوں کے ساتھ باہر آئے اور موڈ اچھا ہوگیا۔ فاروق ایک ہمارا جاننے والا پولیس انسپکٹر ان کے ساتھ سکیورٹی کے فرائض انجام دیتا تھا۔ وہ کہتا تھا 

کہ ہم (یعنی سکیورٹی والے) پریشان رہتے تھے ۔ بھٹو صاحب جہاں دل چاہے رک جاتے ہیں۔ بہت سے واقعات ہیں کیا کیا بیان کریں ایک دفعہ محترمہ بے نظیر بھٹو گجرات میں کسی ریڑھی والے سے مکی کا سٹہ بھنا ہوا خریدنے کھڑی ہوئیں چند منٹ میں 30 ہزار کے قریب لوگ اکٹھے ہو گئے جو چودھری برادران تیس دنوں میں بھی اکٹھے نہ کر پاتے تھے۔ دراصل وہ اصل تھے یہ نقل ہیں۔ دوسری جانب فردوس عاشق اعوان جو انتخابات میں مسترد شدہ ہیں۔ ان کی Nuisance Value کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی مشیر رکھا ہوا ہے۔ وہ سیالکوٹ اسسٹنٹ کمشنر سے الجھ پڑیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کو ضرور آشیر باد حاصل تھی ورنہ وہ فردوس عاشق کو بولتا ہوا چھوڑ کر کبھی نہ جاتی۔ فردوس عاشق اعوان کے الفاظ اور انداز پر تنقید ہو سکتی ہے مگر اس کا مؤقف درست تھا۔گوجرانوالہ سے ہمارے دانشور دوست جناب حافظ انجم سعید ایڈووکیٹ بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ" میں اے سی سیالکوٹ کو غلط سمجھتا اور قصور وار گردانتا ہوں کیونکہ بیورو کریسی کو ہمیشہ یہ زعم رہا ہے کہ وہ inteligencia ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اے سی سیالکوٹ نے اپنے مخاطب کو سمجھنے میں کیوں غلطی کی۔ اس کو سمجھنا چاہیے تھا کہ اس کا واسطہ ایک عورت سے نہیں ہے۔ ایک شریف /عام عورت سے بھی نہیں ہے۔ میں اے سی سیالکوٹ کو ہی قصور وار گردانتا ہوں"۔بیورو کریسی دراصل اس ملک کا سب سے بڑا روگ ہے ۔ یہ اپنے آپ کو رائیڈر آف دی نیشن کہتے ہیں ہاں! یہ رائیڈرز ضرور ہیں مگر بیمار نیشن کے جو ان کی سیاہ کاریوں کے سبب بیمار ہوئی۔ اس بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کے لیے ان سے زیادہ قانون، معاشرت، بین الاقوامی سطح کا علم و شعور ہونا ضروری ہے ۔

فردوس عاشق اعوان کو چاہیے تھا آرام سے آ کر اپنے دفتر میں وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کر کے ایک رپورٹ Complaint تیار کرتیں، کاپی چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجتیں مگر ایک پیراگراف کون لکھتا ؟اور پھر بزدار پڑھاتا کس سے؟ بہرحال سیکرٹری وغیر تو ملے ہوں گے سرکاری افسر 22 گریڈ کا ہو یا 222 گریڈ کا جب اس کے ہاتھ میں اس کے خلاف شکایت اور بے ضابطی کا خط تھما دیا جائے تو وہ خط فائل بن جاتا ہے۔ پھر وہ فائل کو زخمی طوطی کی طرح لیے پھرتا ہے چونکہ سسٹم موجود نہیں اگر ہے بھی تو سسٹم کا علم نہیں قانون کی عمل داری نہیں کون اس مشقت میں پڑے۔ آج بھی "وزیراعظم "کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ گراس روٹ سے کرپشن اور زیادتی ختم کرنے کی کوشش کریں مگر جو انداز انہوں نے اپنایا ہے وہ صریحاً انتقام ہے ۔جب وہ زندگی میں کسی کی مدد کے لیے کسی سرکاری دفتر نہیں گئے انہیں کیا پتہ کہ فرعون کا سفر کتنی زندگیوں اور لوگوں کی صورت جاری ہے۔ انہیں صرف ن لیگ فوبیا ہے زرداری فوبیا ہے۔ کبھی کسی سے بھٹو صاحب کا فائل پڑھنے اور کلین ٹیبل ہونے کی باتیں سنیں۔میں ان کو ریاست مدینہ ، ملائیشیا، انڈونیشیا، چائنہ، امریکہ ، لندن نہیں بلکہ وطن عزیز کی باتیں سناتا ہوں مگر  اداکاری سے پرتھوی راج اکبر اعظم ہو سکتا ہے نہ ہی ریاست مدینہ کا نام استعمال کرنے سے کوئی نور الدین زنگی بن سکتا ہے۔ ٹاک شوز کو خیر باد کہیں دفتروں میں بیٹھ کر اپوزیشن کو ذہن سے اتار یں ڈرامہ بند کریں اور حکمرانی کے فرائض منصبی سیکھنے کے بعد ادا کریں۔

ابھی چند دن پہلے لاہور میں ایک مقبول سماجی شخصیت (گوگی بَٹ)کے گھر خواہ مخواہ پولیس گردی کا مظاہرہ کیا گیا جو ایف آئی آر دی گئی پورے برصغیر میں کوئی جج، وکیل ، پولیس والا حتیٰ کہ منشی وہ ایف آئی آر پڑھ لے تو پرچہ خارج اور پولیس پارٹی پر مقدمہ درج کر دے۔ چہ جائے کہ مساجد میں اعلان کرائے گئے کہ کسی نے اس کے خلاف مقدمہ درج کرانا ہے تو آئے۔ گویا گرفتاری پہلے جبکہ اور مدعی اور مقدمے بعد میں ڈھونڈھے جائیں ۔ ذرا ہمت کریں ! اپنی ماتحت عدلیہ، بیورو کریسی۔ پولیس، نیب، ایف آئی ، وزراء میں سے کسی بھی ادارے اور محکمے کے آدمی کو گرفتار کرا کر اس کے متعلق ایسے اعلانات کرائیں پھر دیکھیں کیا بہار آتی ہے۔ حکمران عوام کے خلاف پرسنل نہیں ہوا کرتے، یہ کیا عذر ہے کہ ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے (جو ان کو اقتدار میں لائی)، 30سال حکومت کرنے والے حساب دینے کو تیار نہیں ( مشرف کے 9 سال بھی ڈالے ہیں؟) سابقہ حکومتوں کے تمام سرخیل موجودہ حکومت کا حصہ ہیں ایسے عذرات ہونے تو نہیں چاہیے، انداز حکمرانی بدلیں۔


ای پیپر