Ch Farrukh Shahzad, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 May 2021 (11:24) 2021-05-08

مائیکرو سوفٹ کارپوریشن کے بانی بل گیٹس ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں مگر گزشتہ کچھ عرصے سے وہ متنازع وجوہات کی بنا پر خبروں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے 27 سال اپنی رفیقہ حیات مالینڈا کے ساتھ گزارنے کے بعد باہمی رضا مندی سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے گویا دنیا کا امیر ترین آدمی بھی اپنے 160 بلین ڈالر کے اثاثے رکھنے کے باوجود اپنی فیملی کو خوش نہیں رکھ سکا اس کی وجوہات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں گی۔ البتہ بل گیٹس کے اندر پائی جانے والی خوبیاں اس کی خامیوں سے زیادہ ہیں۔ 

کہتے ہیں کہ اس کا بیٹا ایک دفعہ کسی ریسٹورنٹ میں کافی پینے گیا اس نے 5 ڈالر بل ادا کیا اور 50 ڈالر ویٹر کو بخشش دے دی ویٹر بہت خوش ہوا کچھ عرصے کے بعد اسی ریسٹورنٹ پر بل گیٹس کافی پینے چلا گیا ویٹر کو یقین تھا کہ یہ دنیا کا امیر ترین آدمی ہے آج کی بخشش کے بعد اسے اس نوکری کی ضرورت نہیں رہے گی مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب بل گیٹس نے اسے 2 ڈالر ٹپ دی۔ ویٹر نے اسے اس کے بیٹے کا برتاؤ یاد دلایا تو بل گیٹس نے کہا کہ اس کا والد دنیا کا امیر ترین آدمی ہے جبکہ میرا والد تو نہایت معمولی آدمی تھا۔ 

امیر ترین شخص کا ریکارڈ قائم کرنے سے بہت پہلے بل گیٹس کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایتھرو ایئر پورٹ پر اترا جب وہ باہر آیا تو ایک اخبار فروش سے اخبار خریدا اسے 50 پاؤنڈ کا نوٹ دیا اس نے کہا کہ میرے پاس چینج نہیں ہے کھلے پیسے دو بل گیٹس نے کہا کہ میں جلدی میں ہوں میرے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں جبکہ اخبار مجھے ہر صورت لینا ہے۔ اخبار فروش نے مسکرا کر کہا کہ کوئی بات نہیں یہ آپ میری طرف سے مفت لے جائیں یہ واقعہ سناتے ہوئے بل گیٹس نے سننے والوں کو بتایا کہ اتفاق کی بات ہے کہ اگلے سال وہ پھر اسی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسی ایئر پورٹ پر اترے اور عادت کے مطابق اخبار ڈھونڈنے لگے وہی لڑکا جس نے گزشتہ سال انہیں مفت اخبار دیا تھا وہاں موجود تھا بل گیٹس نے اس سے اخبار لیا اور اس دفعہ بھی ان کے پاس ریزگاری نہیں تھی اس بار بھی وہی ہوا لڑکے نے انہیں پھر مفت اخبار دے دیا اور کہا کہ یہ میری طرف سے آپ کے لیے فری ہے بل گیٹس نے شکریہ ادا کیا اور اخبار لے کر روانہ ہو گیا۔ بہت سے سال گزر گئے اور وہ دنیا کے امیر ترین آدمی بن گئے ایک دن وہ پھر ایتھرو ایئر پورٹ پر اترے اور اس اخبار والے کے ساتھ سامنا ہو گیا دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ بل گیٹس نے اسے پوچھا کہ آپ مجھے جانتے ہو تو اخبار فروش نے کہا کہ ہاں مجھے پتہ ہے آپ بل گیٹس ہیں اور مجھے یاد ہے کہ میں نے آپ کو 2 دفعہ فری اخبار دیا ہے۔ بل گیٹس نے کہا کہ بتاؤ اس کے بدلے میں، میں آپ کو کیا دوں۔ اخبار والے نے کہا کہ جب میں نے آپ کے ساتھ بھلائی کی تھی تو اس وقت آپ کو کوئی نہیں جانتا تھا آج آپ مجھے جو کچھ مرضی دے دیں وہ میری اس فیور کے برابر نہیں ہو سکتا جو میں نے آپ کے لیے کی تھی بل گیٹس کی آنکھوں سے آنسو آ گئے کیونکہ وہ اخبار والا بل گیٹس سے زیادہ بڑا آدمی ثابت ہوا۔ امارت کا تعلق دولت سے نہیں دل سے ہوتا ہے۔ 

بل گیٹس کی اچھی بات یہ ہے کہ جب وہ دنیا کا دولت مند ترین انسان بن گیا تو اس کے دل میں خیال آیا اب آگے کہاں جانا ہے دولت کی دوڑ تو وہ جیت چکا تھا اس کو لگا کہ یہ سچی اور حقیقی کامیابی نہیں ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کے پاس جتنی دولت آ گئی ہے وہ 100 سال بھی زندہ رہا اور جتنی مرضی پر تعیش زندگی گزار لے اور پیسہ پانی کی طرح بہائے تو پھر بھی یہ دولت اتنی زیادہ ہے کہ ختم نہیں ہو گی پھر اسے دولت ایک حقیر اور ادنیٰ سی چیز لگنے لگی باوجود اس کے کہ اس کی ذاتی دولت کا انبار دنیا کے کئی ممالک کے سرکاری خزانوں سے بھی زیادہ تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب اس دوڑ سے باہر نکلنا چاہیے۔ کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ وہ چیریٹی تو پہلے بھی دیتا تھا مگر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آدھی دولت غریبوں میں تقسیم کر دے گا اس نے بھوک ، بیماری اور عدم مساوات جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ 2008ء میں وہ مائیکرو سوفٹ کمپنی سے ریٹائر ہو گیا اپنی آخری تقریر کے دوران اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس نے مائیکرو سوفٹ کمپنی اپنے ملازمین کو وقف کر دی جو لوگ کمپنی کے ملازم تھے وہ مشترکہ طور پر اس کمپنی کے مالک بن گئے اور بل گیٹس کو علامتی طور پر کمپنی کا ایڈوائزر رکھ لیا گیا مگر فیصلہ سازی میں اس کا کوئی کردار نہ تھا اس نے اپنی اہلیہ مالینڈا کے ساتھ مل کر مالینڈا اینڈ گیٹس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ۔ یہ 2010ء کی بات ہے یہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی چیریٹی آرگنائزیشن ہے پھر وہ وقت آیا کہ وہ اپنی دولت خرچ کرتے کرتے دولت مند ترین لوگوں کی فہرست میں پہلے سے چوتھے نمبر پر آ گیا آپ کو شاید پتہ ہو کہ پاکستان کا پولیو پروگرام کا سارا بجٹ بل گیٹس کی فاؤنڈیشن نے اٹھایا ہوا ہے۔ جن کی ایک پولیو ویکسین پر 50 ڈالر خرچہ آتا ہے یہ پروگرام دنیا بھر میں جاری ہے۔ پھر اس نے دنیا کے ٹاپ ٹین دولت مندوں کو اس بات پر قائل کیا کہ Giving Pledge کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا جائے اور امیر ترین افراد اپنی آدھی دولت اس فنڈ میں عطیہ کریں جس سے پوری دنیا میں غریب اور مستحق افراد کو اوپر لایا جائے۔ اس کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ 

اس مقام پر پہنچ کر ہمیں اشفاق احمد اور بل گیٹس اکٹھے کھڑے نظر آتے ہیں اشفاق احمد نے کہا تھا کہ اللہ کے دیئے ہوئے میں سے ہی دینا ہے کون سا اپنی جیب سے دیتے ہو۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ مغرب میں جس طرح مال دار طبقہ اعلیٰ سطح پر اپنی دولت خیرات کرتا ہے ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے دولت مند طبقے کی دولت زیادہ تر ناجائز ذرائع سے اکٹھی کی گئی ہوتی ہے لہٰذا اسے چھپایا جاتا ہے وہ لوگ محنت سے یہاں پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے انہیں خوف نہیں ہوتا۔ دولت کی فراوانی اور قلت دونوں ہی باعث آزمائش ہیں اس کا مشہور قول ہے کہ "Life is not fair, get used to it"یعنی زندگی منصفانہ نہیں ہوتی خود کو اس حقیقت کا عادی بنائیں۔ بل گیٹس نے اپنی عمر کا آخری حصہ ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے جدوجہد پر صرف کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ 


ای پیپر