Sajid Hussain Malik, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 May 2021 (11:20) 2021-05-08

آٹھ عشروں کے لگ بھگ حیاتِ مستعار کو بلاشبہ طویل العمری میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یقینا یہ رب کریم کا احسان عظیم ہے کہ مجھ جیسا حقیر، احسان ناشناس اور بے عمل بندہ زندگی کی راہوں پر رواں دواں ہی نہیں ہے بلکہ اپنے معمولاتِ زندگی بھی پوری تن دہی سے سرانجام دے رہا ہے، اگر کمی ہے تو دین کی تعلیمات اوہر رب کریم کے احکامات کی تعمیل اور ان پر عمل کرنے کی پھر بھی اس کریم ذات کا کرم اور اس کے پیارے حبیبؐ کا صدقہ ہے کہ ایک شکرگزار اور فرماں بردار بندے کا بھرم بنا ہوا ہے۔ سچی بات ہے ، ذاتی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز کا جائزہ لوں تو محض رسمی طور پر ہی نہیں، دل کی گہرائیوں سے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ندامت، شرمندگی، پشیمانی، حکم عدولی اور کچھ کچھ سرکشی کے احساس کے ساتھ جواب دہی کا احساس جہاں ہر گام فکرمند اور پریشان رکھتا ہے۔ وہاں اس یقین سے کچھ ڈھارس بندھتی ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ کی ذات بے حد مہربان، کریم اور غفور الرحیم ہے اور اس کا اپنا فرمان ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بلاشبہ بندے کو اپنے مالک اور خالق کی بے پایاں نوازشات اور رحمتوں سے مایوس نہیں ہونا چاہئے لیکن میری طرح کے کمزور ایمان کے مالک بندے جن کے اعمال کے پلڑے انتہائی ہلکے ہیں وہ جب اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کا سوچتے ہیں تو پھر کف افسوس مَلے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔

تھوڑا سا بیتی زندگی جو طویل العمری کا روپ دھارے اپنے فطری اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے کا جائزہ لوں تو یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ رب کریم کی مہربان ذات نے اس دوران جہاں بہت کچھ دیکھنے، سننے، برتنے، جاننے اور کچھ کچھ سمجھنے کے مواقع عطا کئے ہیں وہاں اپنی رحمت خاص سے ایسا کچھ شعور اور آگہی بھی عطا کی جو دوسروں کے حصے میںشاید کم ہی آئی۔ یہ کہنا کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا کہ ساری زندگی طویل اور صبر آزما جدوجہد اور محنت و مشقت کا سامنا رہا۔ مشکلات میں گھری تنگ دستی اور کسی حد تک غربت سے عبارت ابتدائی اور ادھیڑ عمر زندگی، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ، پیشہ ورانہ اور منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے فکرمندی اور کچھ کچھ ڈر کا احساس، مطالعے کا شوق، ملکی و قومی معاملات سے گہری دلچسپی کے ساتھ اپنے کنبے، گھرانے اور اہل خانہ کی خبرگیری، خانگی اور خاندانی معاملات میں ذاتی دلچسپی اور چند ایک قریبی 

دوستوں اور احباب کے ساتھ قلبی تعلق خاطر یہ سب کچھ ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اب بھی بڑی حد تک چل رہا ہے۔ اب جب ماہ و سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد کئی قریبی، اور ہرگام جھولیاں پھیلا پھیلا کر دعائیں کرنے والی پیاری، مہربان اور شفیق ہستیوں کی ہڈیاں بھی خاک ہو چکی ہیں، اپنا محاسبہ کرنے بیٹھوں تو اپنی بہت ساری کوتاہیوں، لغزشوں اور کسی حد زیادتیوں کا احساس مزید بے چین اور بے قرار کر دیتا ہے۔ انتہائی محبت کرنے والے پیارے، شفیق، متوکل ، ایمان و یقین کے مالک سادہ لوح والدین (اللہ کریم ان کی قبروں کو نور سے منور رکھے) محبت و شفیقت، ہر گام پر خلوص دعائوں، ہم اولاد کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے برداشت کی جانے والی بے پناہ تکلیفوں اور اذیتوں کے ساتھ غربت و مفلسی کی حالت میں سخت محنت و مشقت میں بسر کئے۔ ماہ سال کا خیال آتا ہے تو آنکھیں ہی پُرنم نہیں ہو جاتی ہیں بلکہ دل کی بے قراری اور بے چینی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ والدِ گرامی محترم لالہ جی مرحوم و مغفور اور والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ کیا پیارے، نیک، صاحب ایمان، یقین اور اللہ کریم کی مذات پر مکمل بھروسہ رکھنے اور اسی کریم ذات سے جھولیاں پھیلا پھیلا کر مانگنے والے لوگ تھے۔ میں اسے اللہ کریم کا خصوصی کرم سمجھتا ہوں کہ اس نے انتہائی محبت کرنے والے بھائی بہنیں عطا فرمائے ہیں۔ اللہ کریم میری عزیز بہنوں جو دو مجھ سے بڑی اور دو مجھ سے چھوٹی ہیں اور دو بھائیوں جو ایک بڑے اور ایک چھوٹے ہیں کو تادیر سلامت رکھے کہ ان کی دعائیں اور محبت و شفقت آج بھی میرا بڑا سہارا اور سرمایہ ہے۔ محبت کرنے والی اطاعت اور وفاشعار اہلیہ جن کی رقابت میں کم و بیش ساڑھے تین عشروں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے اور بفضل تعالیٰ دو بیٹوں اور ایک بیٹی پر مشتمل نیک طینت، اطاعت گزار اور رشتوں کی پہچان رکھنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور برسرروزگار اولاد۔ میں اپنے رب کی کن کن نعمتوں، عنایات، نوازشات اور کرم فرمائیوں کا شکر ادا کروں۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ اس پاک ذات نے دو پوتوں، ایک پوتی اور ایک نواسے اور نواسی کی صورت میں جو ہنستے مسکراتے، سرسبزو شاداب پھول عطا کر رکھے ہیں کے لئے اس پاک ذات کا شکر ادا کر سکوں۔ یہ سب میرے مولا کا کرم اور اس کے پیارے حبیبؐ کا صدقہ ہے۔ حمزہ عثمان، موحد بلال، محمد ابوبکر، عائشہ جیلانی اور جویریہ بتول گڈورانی، اس کریم ذات کے چمن کے لہلہاتے، خوشبوئیںبکھیرتے پھول ہیں۔ اللہ کریم انہیں سدا سلامت رکھے اور خیروبرکت اور خوشیاں نصیب فرمائے۔ والدہ محترمہ مرحومہ بے جی ہم اپنے بچوں کے لئے دعا مانگا کرتی تھیںکہ اللہ کریم کُل کے بچوں کی خیر اور میرے بچوں کی بھی خیر۔ میں بھی ہر گام یہی دعا مانگا کرتا ہوں۔ بلاشبہ یہ سب کچھ میرے مولا کا کرم اور اس کے حبیب پاکؐ کا صدقہ ہے۔ 

تحدیث نعمت کاذکر چلا ہے تو حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی ایک فارسی رباعی کا رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ کاش کچھ ایسا معاملہ ہو جائے رب کریم کا خاص کرم ہو جائے، اس کے پیارے حبیبؐ کی نظرکرم نصیب ہو جائے اور کچھ ایسا معاملہ بن جائے جس کا اقبالؒ نے اپنی رباعی میں اظہار کیا ہے۔ اقبالؒ کی یہ فارسی رباعی ان کے کلام میں موجود نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے ایک گہرے عقیدت مند ماسٹر محمد رمضان جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا اور جو پیشے کے لحاظ سے معلم تھے کو یہ رباعی مرحمت کر دی تھی۔ اس رباعی کے لئے میں اپنے ہم دم دیرینہ محب مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی (سینیٹر) کی اپنے نام پوسٹ سے استفادہ کر رہا ہوں۔ زہے نصیب اور محبت و عقیدت کا اظہار کہ عرفان صاحب نے اقبالؒ کی اس رباعی کو قیمتی فریم میں انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب کروا کے اپنے ڈرائنگ روم میں آویزاں کر رکھا ہے۔ رباعی اور اس کا اردو میں ترجمہ کچھ اس طرح ہے ۔

تو غنی ازسرِ دو عالم من فقیر

روز محشر عذر ہائے من پذیر

گر تو می بینم حسابم ناگزیر

از نگاہ مصطفیؐ پنہاں بگیر!

اے مولائے کریم تو دونوں عالموں سے مستغنی، بے پرواہ غنی ہے، میں ایک لاچار، عاجز انسان اور فقیر بے نوا ہوں۔ میری عاجزانہ درخواست ہے کہ روز قیامت میری تقصیروں کا عذر سننا، انہیں پذیرائی بخشنا اور اپنے عفو و کرم اور رحم سے نوازنا۔ رب العزت اگر تو فیصلہ کرے کہ روز قیامت میرا حساب کتاب لینا ناگزیر، اور ضروری ہے اور ٹل نہیں سکتا تو اے مالک میری صرف ایک عاجزانہ درخواست قبول فرما اور وہ درخواست یہ ہے کہ میرا حساب کتاب جناب حضرت محمد مصطفیؐ کے سامنے نہ لینا۔ ان کی پاک نگاہوں سے اوجھل میرا محاسبہ کرنا، میں پُرتقصیر اُمتی اُن کا سامنا نہ کر سکوں گا۔


ای پیپر