ووٹ کی عزت کا نعرہ
08 May 2019 2019-05-08

نواز شریف نے اپنے سیاسی قومی مؤقف یا جسے آج کل کی زبان میں بیانیہ کہا جاتا ہے کو نئی زندگی دے دی ہے… ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ جیل جانے سے قبل انہوں نے تنظیمی لحاظ سے چند فیصلے کیے اور پرسوں 7 فروری کو جاتی اُمراء سے کوٹ لکھپت لاہور جیل تک پہنچنے کے دوران اُن کی جماعت کی سینئر قیادت نے جس پرجوش اور زبردست عوامی مظاہرے کا اہتمام کیا، یہ دونوں باتیں پیغام دے رہی تھیں کہ سابق اور ووٹ کی طاقت پر تین مرتبہ منتخب ہونے والا اور تین دفعہ ہی غیر آئینی قوتوں کے ہاتھوں برطرف شدہ وزیراعظم اپنے بیانیہ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے ساتھ پوری قوت یقین کا اظہار کرتے ہوئے اس پر ڈٹا ہواہے… سابق وزیراعظم کوغالباً یہ بھی احساس تھا کہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز کے انتقال پر جو خاموشی اختیار کی گئی اس نے ضرورت سے زیادہ لمبا عرصہ کھینچ لیا… ایک بڑے سیاسی خلا کو جنم دیا اور اس کے پیچھے جو بھی حکمت عملی کارفرما تھی، وہ فی الواقعہ سود مند ثابت نہیں ہوئی… اس دوران میں مخالفین کو ایک جانب بار بار یہ کہنے کا موقع ملا کہ کسی ڈیل یا ڈھیل پر مبنی سمجھوتہ کیا جا رہا ہے… دوسری جانب یہ تاثر بھی ابھر کر سامنے آیا کہ اپنے بڑے بھائی کے مقابلے میں شہباز شریف جو نقطۂ نظر رکھتے ہیں، بالآخر اس پر انہوں نے اپنی جماعت کے قائد اور دوسرے سینئر لوگوں کو قائل کر لیا ہے… اگرچہ دونوں باتیں بالآخر غلط ثابت ہوئی ہیں، نواز شریف کی گزشتہ چالیس سالہ اور کامیابیوں اور ناکامیوں کی مظہر طویل جدوجہد پر ایک نگاہ ڈال لینے سے اس یقین کا پیدا ہونا فطری امر ہے کہ وہ کسی قسم کی ڈیل یا ڈھیل کے نزدیک نہیں پھٹکتے … اپنے مؤقف پر ڈٹ جانا اور کسی قسم کے نتائج کی پرواہ کیے بغیر اس سے وابستگی کا اظہار ان کی شخصیت کا خاصہ رہا ہے… خواہ وزارت عظمیٰ کے تین ادوار ہوں یا تین ہی مرتبہ برطرفی کی صورت میں نازل ہونے والی آزمائشوں کا سامنا کرنے کا مرحلہ ہر طرح کے حالات میں اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے… تاہم حالیہ خاموشی نے ان کے بارے میں قائم شدہ تاثر کو متزلزل کرنے کی کوشش کی اور خاص طور پر اس پروپیگنڈہ کو بہت ہوا ملی کہ ان کے مقابلے میں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی حد تک سمجھوتہ کرنے والے مؤقف کو منوانے میں کامیاب ہوگئے ہیں… مگر نواز شریف نے دوبارہ جیل جانے سے قبل اپنی جماعت کے تمام اہم عہدوں پر ان ساتھیوں کا تقرر کر کے جنہوں نے ان کے بیانیے کے ساتھ قول و عمل کی وابستگی دکھائی ہے اور دوبارہ جیل جاتے وقت جی ٹی روڈ والے مظاہرے کی یادیں ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیں، یہی وہ مظاہرہ تھا جس میں انہوں نے اپنے ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ والے بیانیے کو جمہوری سیاست کا عنوان بنایا … 7 مئی کو جیل داخل ہونے سے قبل زبردست عوامی مظاہرے اور جلوس کی شکل میں اس بیانیے کو اس طرح نئی زندگی دی کہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ جاتی اُمراء سے کوٹ لکھپت تک نہیں ، پورے ملک کے اندر گونج اُٹھا ہے… تقریر اس دوران بھی انہوں نے نہیں کی سوشل میڈیا پر ایک بیان دیا لیکن ’خامشی بن گئی زباں میری‘ کی صورت حال کچھ اس طرح طاری تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سابق وزیراعظم کچھ نہ کہنے کے باوجود اپنے زبردست بیانیے کا لفظ لفظ پاکستانی عوام کے دل و دماغ تک پہنچا رہا ہے…

مختصر سے جملے ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ میں کونسی طاقت پائی جاتی ہے کہ کئی ماہ کی خاموشی کے بعد اسے دوبارہ زندہ کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر محسوس نہیں ہوئی… اس کا داعیہ اس طرح جاگ اُٹھا ہے جیسے کبھی فراموش نہیں ہوا تھا… ووٹ کو عزت تو ہر حالت میں ملنی چاہیے… اگر اسے عزت کا مقام نہیں دیاجاتا تو ڈالنے کا فائدہ کوئی نہیں… دنیا میں جہاں بھی ووٹ کا اختیار استعمال کیا جاتا ہے، وہاں یہ امر طے شدہ ہوتا ہے کہ اس کے استعمال میں خواہ وہ کسی کے حق میں ہو یا مخالفت میں اگر برتری کا مقام نہیں دیاجائے گا اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا تو یہ ایک بے معنی عمل ہو گا، اس کی خاطر بیلٹ بکس میں ڈالی جانے والی پرچی کی حیثیت کاغذ کے

فرسودہ ٹکرے سے بھی کم تر ہو گی لیکن پاکستان میں ووٹ کے ساتھ جسے دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں ’مقدس پرچی‘ کا درجہ دیا جاتا ہے، عجیب معاملہ رہا ہے جس کے نتیجے میں ہر اہم موڑ پر ہمارا پورے کا پورا نظم مملکت دھرے کا دھرا نہیں تہہ و بالا ہوتا رہا… یہاں ووٹ کے حق یا طاقت کا بظاہر استعمال کر کے ایک حکومت یا وزیراعظم کو تو اٹھا کر مسند اقتدار پر لا بٹھایا جاتا ہے اور اسے منتخب ہونے کی سند بھی عطا کر دی جاتی ہے لیکن اس کے بعد مقتدر قوتوں کے ہاتھوں اس کی ایسی درگت بننا شروع ہوتی ہے کہ ہر ایک کو اس کا انجام نظر آ ناشروع ہو جاتا رہا… پیشین گوئیاں ہوتی ہیں ، صبح گیا شام گیا… اور اسے گھر روانہ کرنے کی طاقت ووٹ یا بیلٹ بکس کے ذریعے نہیں مقتدر قوتوں کی فرمانروائی کا نتیجہ ہوتی ہے… یوں ووٹ کی عزت پامال ہو کر رہ جاتی ہے… وہ ساری وقعت اور طاقت کھو دیتا ہے… اس کی جس عزت کا بہت چرچا ہوتا ہے، وہ کھائی میں جا گرتی ہے… نتیجے کے طور پر ہمارے ملک کا آئینی و سیاسی نظام ہر لمحے عدم استحکام کا شکار رہتا ہے… نام نہاد جمہوری حکومتیں برسر اقتدار آ نہیں پاتیں کہ لوگ ان کے دن گننے شروع کر دیتے ہیں… ہر دم بے یقینی کی کیفیت چھائی رہتی ہے… کوئی حکومت خواہ خود فیصلے کرے، اپنے طور پر پالیسیاں بنائے یا آئی ایم ایف کے قدم چھو لے، ہر دو صورتوں میں کوئی بھی اس کے بارے میںیقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پانچ سالہ مدت تو دور کی بات ہے دو سال کا عرصہ بھی نکال سکے گی یا نہیں… یہ امر صرف ایک حکومت کے ساتھ مخصوص نہیں رہا اگرچہ نواز شریف کو تین بار یعنی سب سے زیادہ وزیراعظم منتخب ہونے کی بنا پر دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر نتائج اس کے کسی ایک وزیراعظم یا اس کی جماعت نے اکیلے نہیں پوری قوم کو بھگتنا پڑے ہیں… نواز شریف ووٹ کی عزت خاک میں ملائے جانے کی وجہ سے تین مرتبہ غیر آئینی قوتوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوئے… بینظیر بھٹو کو دو مرتبہ اسی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا… اس کے والد جسے پاکستان کا سب سے زیادہ طاقتور جمہوری حکمران سمجھا جاتا ہے، پہلی مرتبہ ہی غیر آئینی فیصلوں کی نذر ہو کر رہ گئے… کچھ ان تینوں پرموقوف نہیں کہ خواجہ ناظم الدین، سہروردی ، ملک فیروز خان نون اور محمد خان جونیجو سمیت 13 ایسے تھے کہ جو ووٹ کی عزت خاک میں ملنے کی بنا پر گھروں کی راہ لینے پرمجبور ہوئے۔ لہٰذا پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ بلکہ اس کی حرماں نصیبی کو اگر ایک فقرے میں بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ ہے ووٹ کو عزت نہ دینا …صرف وزرائے اعظم کی برطرفی یا ان کی حکومتوں کی نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں خواری اس پلاٹ کی اصل کہانی نہیں بلکہ المیہ یہ ہے ہمارے ملک کا دو لخت ہو جانا بھی ووٹ کو عزت نہ دینے کی سوچ اور عمل کا شاخسانہ تھا…

مگر اس سب کے باوجود ووٹ کی عزت میں ایسی قوت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت کا لوہا منوا کر رہتی ہے … نواز شریف خاموش رہے ، اس کے نتیجے میں جو خلا پیدا ہوا اسے عین موقع پر چھلانگ لگا کر بلاول بھٹونے پر کرنے کی کوشش کی … پیپلزپارٹی کو اس کے خلاف تمام تر مقدمات کے باوجود نئی جان اور نئی طاقت مل گئی… بلاول بھٹو نے برملا کہا کہ وہ 18 ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دے گا… صدارتی نظام کو کسی طور قبول نہیں کرے گا اور صوبائی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا… یہ تمام کا تمام بیانیہ ووٹ کی طاقت کو حرزجاں بنانے اور اس کی عزت کو مقدم رکھنے کا رہین منت ہے… 18 ویں ترمیم عوام کے ووٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے منظور کی تھی… صدارتی نظام کو بیک جنبش قلم مسترد کیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ اسے پاکستان میں ہمیشہ ووٹ کی طاقت کو پامال کرنے اور اس کی عزت کو پاؤں تلے روند دینے والے آمروں نے متعارف کروایا… اس کی جگہ پارلیمانی جمہوری نظام کو جو پوری قوم کے منتخب نمائندوں کے اتفاق رائے کا مظہر سمجھا جاتا ہے یعنی اس کے اندر سے پاکستانی ووٹ کی طاقت بول رہی ہوتی ہے اور جہاں تک صوبائی خود مختاری کا تعلق ہے قوم سے اس کا وعدہ بھی ووٹ کی طاقت کی بنیاد پر تشکیل پانے والے 1973ء کے آئین مملکت میں کیاگیا تھا… یہ تینوں نعرے اس بنا پر مقبول ہوئے ہیں کہ ان کے پیچھے ووٹ کا احترام پاکستانی قوم کی آواز بن کر بول رہا ہے… یہی وجہ ہے کہ بلاول نے ان کے حق میں آواز اٹھائی تو آج عمران خان کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ 18 ویں ترمیم کو ہرگز رول بیک نہیں کیا جائے گا اور صدارتی نظام لانے کی باتیں معلوم نہیں کہاں سے ہو رہی ہیں؟ ووٹ کی عزت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے… نواز شریف نے خاموشی اختیار کی … بلاول بھٹو نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اپنی سیاست میں وہ چمک پیدا کی جس نے ان کی قیادت کے اندر نئی جان ڈال دی… دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ اگرچہ موجودہ صورت میں نواز شریف نے بلند کیا مگر اس کے گر د پوری قوم کا اتفاق رائے گھومتا ہے… المیہ مگر یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان صرف بحران کے زمانے میں اس کو سینے کے ساتھ لگاتے ہیں… اگر وہ اسی بیانیے کو ہر عالم اور ہر طرح کے حالات میں مشعل راہ بنائے رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ملک کے سیاسی دلدّر دو رہو جائیں گے… آئین اور قانون کی حکمرانی پوری قوت کے ساتھ عمل میں آئے … ووٹ کی عزت کو خاک میں ملانے والی قوتیں خود اپنے اصل اور ماتحت مقام پر جا بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں اور استحکام کے سبب ملک حقیقی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے… کیا سیاستدان اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یہی وقت کا سب سے بڑا سوال ہے… ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کو لے کر جیل میں بیٹھا نواز شریف بھی جیل سے باہر نواز شریف کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت اور کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتا ہے… بشرطیکہ پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دے… اس کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایک مرتبہ ڈٹ جانے کی صورت میں وہ کم پیچھے ہٹا ہے… اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ جیل کے اندر کا نواز شریف باہر والے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو گا۔


ای پیپر