راستہ نکلے گا
08 May 2019 2019-05-08

کالم لکھ لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ لکھ کر ممکنہ حد تک پروف ریڈنگ کرکے ، نوک پلک سنوارنا کے ، سب سے ضروری مرحلہ ہوتا ہے ، ڈیڈ لائن سے بہت پہلے متعلقہ صفحے کے انچارج تک پہنچانا۔ سو اس ڈیڈ لائن کا تقاضا تھا کہ اپنی اس شکستہ تحریر کو بروقت مکمل کر کے براستہ ای میل کے محفوظ ہاتھوں میں منتقل کر دیا جائے۔ ڈیڈ لائن کی قید نہ ہوتی نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل منتقلی کے بعد لکھا جاتا۔ اس کے باوجود ہر ممکن تاخیر کی۔ ایک لمحہ تو ایسا بھی آیا کہ لکھنے کا ارادہ ہی ترک کردیا۔جب یہ سطور مکمل ہوئیں تو نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم صفدر کے ہمراہ جاتی امرا سے نکل کر جیل کی جانب رواں دواں تھے۔ خیال تھا کہ ایک عشرہ پہلے اعلان آزادی کر دینے والا میڈیا اس تاریخی ریلی کو براہ راست نشر کر رہا ہوگا۔ لیکن درجنوں ٹی وی سکرینوں پر دھوکہ دہی سے پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں کرنے والے چینی باشندوں کی خبر ترجیحی بنیاد پر دکھائی جا رہی تھی۔پھر یاد آیا کہ آزادی کی زمانے گئے۔ گزشتہ چند ماہ میں نام نہاد آزاد میڈیا کی کو درگت بنی ہے۔ اس کے بعد اتنا بھی کافی ہے کہ ٹکروں کی شکل میں اپڈیٹ تو مل رہی تھی۔ ورنہ اگر کسی حکم نادر شاہی کے تحت انیس سو بانوے کے ورلڈ کپ کئی ریکارڈنگ دیکھنی پڑ جاتی تو ہم مجبوروں پر کیا گزرتی۔ ویسے قلمکار کو تو ورلڈ کپ کے اس فائنل کی از سر نو دید ہمیشہ محصور کر دیتی ہے۔ کیوں ؟ لمبی کہانی ہے۔ یوں سمجھئے کہ تب بھی مجبوری نگر نگر آبلہ مقدر تھی۔ اس محرومی کا قلق ہمیشہ رہے گا ۔تب کون جانتا تھا کہ اک روز اس جیت کا خراج ایک سو بیالیس روپے کے ڈالر کی شکل میں ادا کرنا ہوگا۔ اور پٹرول خریدنے کی سکت نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڑھ عشرے بعد ایک نمبر روٹ کی وین پر سفر کرنے کی پلاننگ کرنی ہوگی۔ حالانکہ اب تو نیم کبڑیٰ ہو ویگن سفر کی مشق بھی نہیں رہی۔ دس بجے رات تک تو آزاد ٹی وی چینل نواز شریف کی بندی خانے کی جانب ہیش قدمی کو ایسے ہی نشر کر رہے تھے جیسے تین عشرے پہلے پی ٹی وی سے اولمپکس مقابلوں کی جھلکیاں اگلے روز ایڈیٹنگ کر کے نشر کی جاتیں۔ خبروں اور ایونٹس کا گلا گھونٹنے والوں کو کیا معلوم کہ وقت اپنی متعین رفتار سے چلتا ہوا کہاں پہنچ گیا۔ نجی چینل نہ سہی ، ہزاروں

سوشل میڈیا رضا کار اس مختصر سفر کی متحرک روداد لمحہ بہ لمحہ اپنے سمارٹ ہینڈ سیٹ کے ذریعے نشر کررہے تھے۔ بغیر کسی قطع و برید کے۔ ٹی وی چینلوں کی نشریات دیکھ کر وہ دیوانہ یاد آگیا جو اپنے ہاتھوں سے اس شاخ کو کاٹ رہا تھا۔ جس پر وہ خود براجمان تھا۔ میڈیا ابلاغ چھوڑ کر ڈکٹیشن اور ایڈوائزری پر چلے گا تو اپنے ناظرین کھو بیٹھے گا ۔ سوشل میڈیا وہ سب کچھ دکھا رہا ہوگا جو جاتی عمرا سے رنگ روڈ اور انسانی ہاتھ کی لکیروں کی مانند بکھری پھیلی لاہور کی سڑکوں ہر برپا تھا۔ تو کسی کو کیا پڑی سکرینوں کی جانب دیکھنا بھی گوارہ کرے۔ حالانکہ اس ریلی کے نتیجہ میں نہ کوئی حکومت گرنی تھی نہ ہی کوئی انقلاب آجاتا۔ کون نہیں جانتا کہ نواز شریف نے جیل ہی جانا ہے۔ جلد یا بدیر۔ ہاں بس اس ریلی میں کئی پیغام تھے۔ سخت جاں ، دھن کا پکا نواز شریف کسی ترغیب میں نہیں آیا۔،قانون کے راستے سے علاج معالجہ ریلیف ہر فرد کا آئینی حق ہے۔ اگرچہ نوا ز شریف کے ترازو برداروں نے کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ لیکن بے انصافی کے خلاف حصول انصاف کیلے بھی اسی کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ سو یہ حصول انصاف کی جہد مسلسل جاری رہنی چایئے۔ نواز شریف کا یہ مختصر سفر بھی کئی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا ۔ پہلے بھی لکھا ہے ایک مرتبہ پھر سہی۔ ڈیل اور ڈھیل نواز شریف کی خواہش نہیں بلکہ انوکھے لاڈلے کے مربیوں کی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا عالمی راہنما ملتا ہے اور سیاسی انتشار کو ختم کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔لیکن نواز شریف کو جیل میں بیٹھے اپنی اہمیت کا پتہ ہے۔ وہ پاؤں میں پیوست کانٹے کی مانند ہے۔ جو نکالے بغیر چین نہیں لینے دیتا۔ جس کو ناچنا نہیں آتا وہ شکوہ کنا ں ہے کہ آنگن ہی ٹیڑھا ہے۔ لہٰذا نوازشریف ہر پیش کش کو سن کر خاموش رہتا ہے۔ابھی چند روز پہلے ایک مرتبہ پھر ڈیل ڈیل کی نعرہ زنی ہوئی۔ آسمان تک افواہوں کی اڑتی گرد ساتویں آسمان تک گئی۔ واٹس ایپ پر کمپوز کیئے ہوئے پیغامات تیزی سے پھیل گئے۔ اربوں کی ادائیگی کی باتیں۔ کسی اور ملک منتقل ہونے کی سرگوشیاں۔ لیکن آخر میں ہوا کیا۔ نوازشریف نے ایک مرتبہ پھر سب کو چونکا دیا۔ جہاں سے انصاف مل سکتا تھا۔ اس در پر دستک دی۔ فیصلہ آیا تو چپ چاپ تسلیم کیا۔ اپنی صفیں سیدھی کیں اور سوے مقتل روانہ ہوا۔ کو ٹ لکھپت کی جانب۔

رات گئے لاہور کی سڑکیں جاگتی تھیں۔ اور اہل لاہور اپنے ووٹ کی عزت کی اس جہد مسلسل میں نواز شریف سے ہم قدم تھے۔ شاید کوئی تعداد کی لا یعنی بحث میں الجھنا چاہے۔ ایسے تاریخی اجتماعات میں یہ ثانوی باتیں ہیں۔ مریم نواز اور حمزہ نے باپ اور تایا کے شانہ بہ شانہ سفر کر کے فیملی میں اتحاد کا پیغام دیا ہے۔ مریم نوازکو اگلی نششت پر بٹھا کر نواز شریف نے خاموشی کی زبان میں پیغام دیدیا ہے کہ قیادت کس کے پاس جائے گی۔ لیکن ایک پیغام نواذ شریف نے دیا ہے۔ اس نے جیل جا کرایک مرتبہ پھر ڈیل کی تحریر پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔جیسے تیرہ جولائی کو لندن سے لاہور آکر گرفتاری پیش کر کے ڈیل کو دفنایا تھا۔ نواز شریف کا قافلہ رواں دواں تھا لیکن ڈیڈ لائن ختم ہوگئی۔ کوئی تبدیلی تو فوری طور پر نہیں آئے گی لیکن جیل جانے کے اس فیصلے سے ہی راستہ نکلے گا ۔


ای پیپر