مقامی حکومتوں کا نیا نظام اور تبدیلی
08 May 2019 2019-05-08

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز سینئر اینکرز، صحافیوں اور کالم نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مقامی حکومتوں کے نئے نظام کو انقلابی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس سے پنجاب میں انقلابی تبدیلی برپا ہو گی۔ اپنے گزشتہ کالم میں راقم نے مقامی حکومتوں کے نئے قانون کے چند پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر چند پہلو نظر انداز ہو گئے تھے۔ آج کے کالم کا بنیادی مقصد ان پہلوئوں کا جائزہ لینا ہے۔

سب سے پہلے تو اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا نیا نظام واقعی انقلابی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گا؟ کیا نیا نظام پنجاب کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی کایا پلٹ کر سکے گا؟ نئے نظام کا بغور جائزہ اس سوال کا جواب نفی میں دے گا۔ ہمارے حکمرانوں اور چند سیاسی راہنمائوں نے انقلاب اور انقلابی تبدیلی کے لفظ اور تصور کی جس قدر مٹی پلید کی ہے شاید ہی کسی اور لفظ اور اصطلاح کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔ ہر حکمران اپنے اقدامات اور پالیسیوں کو انقلابی قرار دیتا ہے مگر 71 برس گزر جانے کے با وجود برطانوی سامراج کا تشکیل دیا گیا۔ نو آباد یاتی نظام اور ڈھانچہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوا ہے اور سٹیٹس کو کی قوتیں مکمل طور پر غالب ہیں۔ مگر اس کے با وجود ہر حکمران انقلاب سے کم کی بات پر آمادہ ہی نہیں ہوتا۔ انقلاب کے ان داعیوں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے حکمران طبقات کی گرفت کو ریاست اور سیاسی و معاشی نظام پر مزید مضبوط کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان صاحب انقلابی تبدیلی اس وقت بر پا ہو گی جب جاگیرداروں، سرمایہ داروں، اشرافیہ اور افسر شاہی کا غلبہ ٹوٹے گا اور پاکستان کے عام شہری نظام کو چلانے اور پالیسیوں کو بنانے کے عمل میں براہ راست شریک ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے نئے نظام کے تحت بھی بڑے شہروں کے میئر، تحصیل، میونسپل کونسلوں اور کارپوریشنوں میں وہی افراد منتخب ہوں گے جو کہ دولت مند ہیں اور کثیر سرمایہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحصیل اور دیگر کونسلوں میں حکمران طبقات کے افراد ہی منتخب ہوں گے اور زیادہ تر ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے قریبی رشتے دار ہوں گے۔

ہمارے وزیر اعظم صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ انتخابات میں سرمائے اور برادری، خاندانی اور ذاتی اثرو رسوخ کی کس قدر اہمیت ہے۔ لاہور کے میئر نے اگر براہ راست منتخب ہونا ہے تو اسے کس قدر سرمائے کی ضرورت ہو گی۔ جو کہ کوئی بڑا صنعت کار یا سرمایہ دار ہی خرچ کر سکتا ہے۔

ہمارے وزیر اعظم کو نہ جانے کس نے یہ بتا دیا ہے کہ نیبر ہڈ اور پنچایتوں کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہو گی، سیاسی کلچر پروان چڑھے گا اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی۔ جنرل ضیاء کی طرف سے پہلے غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی اور بعد میں پارلیمانی انتخابات نے برادری ازم، فرقے اور دیگر غیر سیاسی رجحانات کو فروغ دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں اگر اس روٹ لیول پر سیاسی جماعتیں کمزور ہوئیں اور غیر سیاسی رجحانات کو فروغ ملا۔ فوجی آمروں کی طر ف سے ایسے اقدامات کی تو اس لیے سمجھ آتی ہے کیونکہ ان کا تو مقصد ہی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا اور سیاسی عمل کو روکنا ہوتا ہے مگر ایک سیاسی جماعت کی حکومت کی طرف سے ایسا اقدام نا قابل فہم ہے۔ اسی طرح مقامی حکومتوں کی نگرانی کے لیے افسر شاہی پر مشتمل انسپکٹریٹ آف لوکل گورنمنٹ بنایا جائے گا جس کا سربراہ انسپکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ ہو گا۔ اسی طرح لوکل گورنمنٹ کمیشن بھی قائم ہو گا جس میں افسر شاہی اور ماہرین کی اکثریت ہو گی۔ ماہرین کے لیے 20 سال کے انتظامی تجربے اور بلدیات کے متعلق وسیع علم رکھنے کی شرائط رکھی گئی ہیں جس کے تحت زیادہ تر ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہی مقرر ہوں گے۔

ہر ضلع میں کم از کم 15 افراد پر مشتمل ایک پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیشن قائم ہو گا جس کا سربراہ مقامی حکومت کا چیف آفیسر ہو گا۔ جبکہ ایک ماہر سول انجنئیر بھی اس کا ممبر ہو گا جبکہ باقی ارکان کے بارے میں نیا قانون خاموش ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مقامی سطح پر تمام تعمیراتی کام کی منصوبہ بندی اور نگرانی اس کمیشن کے پاس ہو گی۔ جس کی سر براہی ایک بیورو کریٹ کے پاس ہو گی۔ اس نئے نظام میں نگرانی، پلاننگ اور دیگر اہم امور میں افسر شاہی اور ٹیکنو کریٹس کا کردار بڑھایا گیا ہے۔

اسی طرح مقامی منتخب نمائندوں کے جمہوری حقوق کو محدود کیا گیا ہے اور چیف آفیسر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ممبر کو غیر مناسب خیال کرتے ہوئے اس کی شکایت صوبائی حکومت سے کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ فیصلہ چیف آفیسر نے کرنا ہے۔کہ کیا مناسب ہے اور کیاغیر مناسب ہے۔ مقامی حکومتوں کو معطل کرنے اور انہیں برخاست کرنے کے حوالے سے پنجاب کی صوبائی حکومت کو فیصلہ کن اختیارات سونپے گئے ہیں۔ جس کے بعد یہ آسان ہو جائے گا کہ حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی کونسلوں سے بہتر طریقے سے نبٹا جا سکے۔

نئے نظام میں منتخب میئرز کے پاس اتنے اختیارات نہیں ہوں گے جتنے کہ جنرل (ر) مشرف کی طرف سے متعارف کروائے ضلیع حکومتوں کے نظام میں ضلعی ناظم کے پاس تھے۔نئے نظام کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انتظامی بنیادوں پر تو ضلعی نظام موجود رہے گا۔ مگر ضلعی حکومت موجود نہیں ہو گی یعنی ضلع کونسل کے تمام اختیارات اب ضلعی افسر شاہی استعمال کرے گی۔ ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسر مقامی حکومتوں کے اثر سے مکمل طور پر آزاد ہوں گے اور ضلعی سطح پر مکمل حکمرانی افسر شاہی کی ہو گی۔ اس نظام کے تحت DMG گروپ ( ڈسٹرکٹ منیجمنٹ گروپ) کی اجارہ داری میں اضافہ ہو گا۔ افسر شاہی نے کمال خوبصورتی سے ضلعی انتظامیہ کو مقامی حکومتوں کے نظام سے الگ کر دیا ہے۔ اگر اس اقدام کا بنیادی مقصد تحصیلوں کو مضبوط کرنا ہے تو پھر ضلعی ڈھانچے کو ختم کر کے تحصیل کو بنیادی انتظامی یونٹ بنایا جائے۔

اسی طرح یہی علاقوں میں پنچایت کے نظام کو تحصیل کونسل سے مکمل طور پر الگ کر دیا گیا ہے جس سے انتظامی معاملات میں ابہام پیدا ہو گا۔ بھارت کی نقل کرتے ہوئے پنچایت کا نظام تو متعارف کروایا گیا ہے مگر بھارت میں تو پنچایت کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ مگر یہاں پر غیر جماعتی انتخابات کی داغ بیل ڈال کر مقامی حکومتوں کے نظام میں فوجی آمروں کی غیر سیاسی روح کو بر قرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ درست ہے کہ مقامی حکومتوں کے نئے نظام میں نچلی سطح پر پہلے سے زائد مالیاتی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔ مقامی حکومتوں کے پاس پہلے سے زیادہ مالی وسائل موجود ہوں گے جس سے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ مگر نئے نظام میں اب بھی بہت سارے ابہام اور خامیاں موجود ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔

ہمارے پالیسی سازوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ موجودہ نظام اور ڈھانچے کو ہی حتمی سچائی سمجھتے ہیں اس لیے وہ اس فریم ورک سے باہر جا کر سوچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ نیا نظام آئین کے آرٹیکل 140 کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ اس میں افسر شاہی اور صوبائی حکومت کی مداخلت بہت زیادہ ہے۔


ای پیپر