دعوے اور ناکام رمضان بازار
08 May 2019 2019-05-08

ماہ مقدس رمضان المبارک کا آغاز ہو چکا ہے جس کے ساتھ ہی حسبِ روایت مہنگائی کا طوفان آگیا ہے پھلوں سمیت تمام کھانے پینے کی اشیاکے دام آسمان کو چھونے لگے ہیں جن کا کام نرخ کنٹرول کرنا ہے وہ جانے کِن مصروفیات میں ہیں دعوے تو مہنگائی ختم کرنے کے کیے جاتے ہیں مگر حقائق یہ ہیں کہ قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں چلیں پھل تو عیاشی کے زمرے میں شمار کر لیں آٹا،گھی،چینی اور دالیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں روزے دار سارا دن مشقت کے بعد دستر خوان پر افطاری کے لیے بیٹھتا ہے تو خالی دستر خوان اُس کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے بہتری کِس نے لانی ہے ظاہرہے عام آدمی اپنے نمائندوں کی طرف دیکھتا ہے یا پھر انتظامیہ سے مہنگائی پر قابو پانے کی توقع رکھتا ہے انتظامیہ فرائض کی بجائے کونسی مصروفیات میں گم ہے؟ اور بھیجی سب اچھاہے کی رپورٹس پر کیونکر یقین کر لیا جاتاہے کچھ سمجھ نہیں آتا۔

کہنے کو سستی اشیا کی فراہمی کے لیے رمضان بازار لگائے گئے ہیں دعوئوں کی حد تک آٹا ،گھی،دالیں ،گوشت اور پھل سستے داموں فراہم کیے جارہے ہیں رپورٹس کی حد تک اِن رمضان بازاروں سے روزانہ سینکڑوں لوگ خریداری بھی کرتے ہیں انتظامیہ کی ارسال کردہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق ہر چیز معیاری ہوتی ہے جس کی وجہ سے سب لوگ خوش ہیں اور سستی اشیا فراہم کرنے پر حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں کارکردگی میں یہ واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ عوام کی یہ دعائیں انتظامیہ کی وجہ سے حکومت کوملتی ہیں عین ممکن ہے یہ بھی رپورٹس میں درج ہو کہ ہر آفیسر صبح صبح اُٹھتے ہی رمضان بازاروں کا رُخ کرتا ہے اور ہر چیز کا معیار چیک کرنے کے ساتھ رمضان بازاروں میں وافر فراہمی اپنی موجودگی میں یقینی بناتا ہو لیکن ایسا کچھ نہیں ہورہا کہنے کی حد تک تورمضان بازار لگے ہیں لیکن یہ بازار صرف

شامیانے اور چند میزکرسیوں کی حد تک محدود ہیں اگر کوئی اندر جاکر دیکھے توایک دو قسم کی کھجوروں کے اسٹالوں کے سوا کچھ نہیں اگر کہیں آٹے کی چند بوریاں ہیں تووہ بھی غیر معیاری ہیں اور خریداروں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ایک آدھ بوری دی جاتی ہے لیکن سارادن لائن میں کھڑا رکھ کر رسوا بھی کیا جاتا ہے۔

حکومت خواہ کسی جماعت کی ہو کچھ آفیسر حکمرانوں کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں چاہے وہ اناڑی ہی کیوں نہ ہوں چاپلوسی کا فن تمام خامیوں اورکوتاہیوں کو چھپا لیتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ حکومت بدلتے یہی آفیسر جب نظریں پھیرلیتے ہیں تب اُنھیں بُرا بھلا بھی کہا جاتا ہے حالانکہ سچ یہ ہے کہ یہ اپنی ذات کے سوا کسی سے مخلص نہیں ہوتے اِن کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی سیاسی کو شیشے میں اُتار کر پسند کی آسامی پر تبادلہ کرایا جائے اور پھر جائز وناجائز طریقے سے جو بھی ہاتھ لگے سمیٹ لیا جائے حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب سب کو پتہ ہوتا ہے یہ اپنی ذات کے سوا کسی کے نہیں پھر بھی کارکنوں سے زیادہ آفیسر ہی معتبر ٹھہرتے ہیں ناکام رمضان بازاروں کا انتظامیہ کے ذریعے ڈرامہ کرنے کی بجائے حکمران جماعت اگراپنے کارکنوں کو متحرک کرتی تو زیادہ بہتر نتائج برآمد ہو سکتے تھے جعلی کاروائیوں کی بجائے کچھ صیح معنوں میں کام بھی ہوتا اب تو شک نہیں یقین ہے کہ رمضان بازاروں کی آڑمیں سرکاری خزانے کی خردبرد ہو گی چاہے عوام کے ہاتھ کچھ آئے یا نہ آئے۔

شامیانے اور چند کرسیاں رمضان بازار کا نعم البدل نہیں جب تک کھانے پینے کی اشیا کے ا سٹال نہ ہوںچوہدری ظہو رالٰہی سٹیڈیم میں لگے رمضان بازار میں کوئی سرکاری اہلکار ڈیوٹی پر نہیں ہوتا لیکن شکایات بکس داخلی دروازے کے پاس میز پر رکھا ہے جس کی حالت ردی کی ٹوکری کی مانند ہے ظاہر ہے جو بند ہی نہیں اُس میں شکایت لکھ کر ڈالنے کا فائدہ کیا ہے؟ اگر کوئی ہمت کرکے ایسا کر ہی گزرے تو اُس کے جانے کے بعد باآسانی شکایت نکال کر ضائع کی جاسکتی ہے جو بھی رمضان بازاروں کا ذمہ دار ہے کیا اُسے یہ جعل سازی نظر نہیں آتی؟قابلیت پرتحسین ہونی چاہئے لیکن اب تو کوئی تعریف کرنے کی کوشش کرے تو لوگ کہتے ہیں اِس بندے کو انتظامی آفیسر سے کوئی کام ہے جو جھوٹی خوشامد کے ذریعے مطلب نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ظاہر ہے سورج نکلتا ہے تو سب کو نظر آتا ہے مگر کوئی رات کے اندھیرے کو سورج کی روشنی کہے گا تو کون عقل کا اندھا اعتبار کرے گا؟ رمضان بازاروں کی تعریف رات کے اندھیرے کو دن کی روشنی کہنے کے مترادف ہے۔

برسوں سے باتوں کی حد تک کارکردگی محدود ہو کر رہ گئی ہے جب ملکی خزانے اور عوامی حالت دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہمارے ملک میں جعلی کاروائیاں ہی رہ گئی ہیں گزشتہ حکومت کے دوران شادیوال میں لگے رمضان بازار میں رکھے دو پنکھوں کا کرایہ چھپن ہزار ادا کیا گیا حالانکہ نئے پیڈسٹل فین بارہ ہزار میں خریدے جا سکتے تھے جو رمضان بازار کے بعد بھی انتظامیہ کے پاس رہتے امسال تو کسی شے کا تکلف ہی نہیں کیا گیا بس شامیانے لگا کر اندر چند میز کرسیاںرکھ کر خانہ پُری کی گئی ہے لیکن تاجروں کوا سٹال لگانے کے لیے قائل ہی نہیں کیا گیا رواں ہفتے ایک میٹنگ میں ایک انتظامی آفیسر عوامی نمائندوں سے فرمائش کر رہتے تھے کہ مہنگائی نہیں ہوئی بلکہ جوپہلے قیمتیں تھیں یا تو وہی ہیں یا کم ہو گئی ہیں جس پر میرا جواب یہ تھا کہ آپ سے شکوہ کیا کرنا آپ تو دفتر سے نکلتے نہیں لیکن جس نے بھی قیمتیں لکھ کر دی ہیں لگتا ہے وہ ہوش و حواس میں نہیں تھا مناسب کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اپنی مرضی کے ریٹ لگا رہا ہے لیکن حکومت مفت میں گالیاں کھا رہی ہے اگر آفیسر دفاتر سے نکل کر نرخنامے چیک کریں تو عام لوگوں کو باآسانی سستی اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے اور حکومت کی نیک نامی بھی ہو سکتی ہے مگر جب اے سی کی ٹھنڈک ہی دل کو بھاتی ہوتو عام آدمی کی مشکلات کیسے کم ہوں گی امسال ناکام رمضان بازار تو لاوارث رمضان بازاروں کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔


ای پیپر