ہمارا نظام اور نظام الدین اولیائؒ
08 May 2019 2019-05-08

ہمایوں بادشاہ نے آج سے کم وبیش ہزار برس قبل نظام سقہ کو ایک دن کی بادشاہت عطا کرکے پورے ہندوستان کو اس کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا، اور قطعی یہ خیال نہ کیا، کہ نظام سقہ بے علم وعمل اس منصب کا اہل بھی ہے یا نہیں۔

چونکہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اب بادشاہ پاکستان نے بھی نااہلوں کو آئی ایم ایف کے کہنے پہ بلکہ امریکہ کے کہنے پہ ایک کو وزیر خزانہ اور ایک کو سٹیٹ بینک کا گورنر بنادیا ہے اس کے علاوہ اپنی کابینہ میں الیکشن لڑے بغیر یعنی غیرمنتخب افراد کو لگاکر اپنی کابینہ کو مکمل کرنے کی کوشش لاشعور میں مصروف ہیں، کیا ایسا کرکے یہ ثابت نہیں کردیا گیا، کہ دس صدیاں گزرنے کے بعد بھی ہماری ذہنیت، سوچ، فکر، اور عمل میں ذرہ برابر فرق نہیں آیاکیونکہ ساتھ ہی قوم کو یہ بھی بتایا جاتا ہے، کہ اہل آدمی لگاﺅں گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور ، اور سنا ہے ، کہ ان شخصیات کا تعلق اور سابقہ ملازمت بھی باہر کے اداروں میں رہی ہے، جہاں تک اسد عمر کا تعلق ہے، ان کے بارے میں بھی یہ فرمان ذی حشم اور بند چشم ہے کہ ان کو بھی دوبارہ کابینہ کا حصہ بنادیا جائے گا یعنی مزاج سلطانی جمہوردیکھیں کہ کبھی نکال دیں، اور کبھی شامل کر دیں، حیرت ہے، نام تو ریاست مدینہ کا لیا جائے، اور ان کی تقلید کرنا تو دور کی بات ہے، ان کے غلامان وعاشقان وفدائین کے فرمودات پر بھی توجہ نہیں دی جاتی، بلکہ ہروقت مثالیں، برطانیہ اور یورپ کی دی جاتی ہیں جبکہ اس ضمن میں اسلامی ریاستیں بھی موجود ہیں، جو اسلامی فلاحی ملک ہیں، اور کچھ فلاحی ریاستوں کے اصول وضوابط کے بالکل قریب قریب ہیں، مثلاً کویت، ابوظہبی ، سعودی عرب وغیرہ دودہائیاں تو یہ چیخ وپکار کی جائے، کہ سابقہ حکومتوں کی کابینہ میں وزیروں اور مشیروں کی بہت بڑی تعداد کو بھرتی کرلیا جاتا تھا، مگر جب بھی ہم یعنی تحریک انصاف اقتدار میں آئے گی، تو وہ بالکل مختصر کابینہ بنائے گی، بلکہ بوقت ضرورت ایک وزیر کو دومحکمے بھی الاٹ کردیئے جائیں گے۔ مگر اپنے ہی قول پہ جب عمل کا وقت آیا، تو پھر حضرت بایزید بسطامیؒکے ایک اور قول کے مطابق جیسا تم خدا کو کل کے لیے چاہتے ہو، تم آج ہی اس کے لیے ویسے بن جاﺅ غلط اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ عمل صالح وہ ہے، جس پر لوگوں کی ثنا کی امید نہ رکھی جائے۔ حضرت ابوسفیان ثوریؒاس میں مزید اضافہ فرماتے ہیں، کہ اگر بہت سے لوگ کسی ایک جگہ پر جمع ہوں، اور ان سے پوچھا جائے، کہ جس شخص کو بھی آج شام تک زندہ رہنے کی امید ہو، اوریقین ہو، تو وہ کھڑا ہو جائے تو کوئی شخص بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ بات حیران کن، اور باعث تعجب ہے کہ اگر سب کو پکارکر یہ کہا جائے، کہ جس کسی نے آئندہ سفر کا سامان تیار کیا ہوا ہے، وہ کھڑا ہوجائے، تب بھی بھرے مجمعے میں ایسا کوئی بھی نہیں نکلے گا، جوکھڑا ہوسکے۔ کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جو خود کہتے ہیں، وہ کرتے ہیں، اور جو نہیں کہا وہ نہیں کرتے ، مگر یہ بات نہایت افسوس ناک ہے، جو خدا نہ کرے کہ باعث عبرت ہوجائے کہ ریاست مدینہ کا نام لینے والے ، بانی ریاست مدینہ پر درود شریف بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، یقین نہ آئے، تو ان کی تقریریں دیکھ لی جائیں۔ ایک اور بات بھی، جو قارئین آپ کے لیے بھی باعث تعجب ہے، کہ حضور کا فرمان ہے کہ جب بھی آپ کا نام لیا جائے، تو مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ آپ پہ درود پاک پڑھے، ورنہ وہ بخیلوں میں شمار ہو جائے گا مگر آج کل کے عالم بے عمل ایسے ہیں کہ حضور پہ درود پڑھنا ، تو شاید اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی قسمت ومقدر میں نہیں لکھا، ان کا نام نامی بھی واجب احترام طریقے سے ادا نہیں کرتے، خالد احمد حق غلامی اور آداب چاکری اس طرح سے ادا کرگئے ۔

روح قرآں، جسم محمد

حسنِ ایمان، اسمِ محمد

ابراہیمؑ شرف ہیں مُولا

اسماعیلؑ حلف ہیں مُولا

حُسنِ کلام، کلیم اللہ بھی

آپ مسیح ذبیح اللہ بھی

اول، باطن، آخرظاہر

آپ رسول اول وآخر

آپ اکرم ہیں آپ افضل ہیں

آپ اکمل ہیں آپ اجمل ہیں

قارئین کرام، الحمدللہ، آج کل رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے، جس کا حضور شدت سے انتظار فرماتے، بلکہ کئی ماہ قبل ہی اس کی تیاری فرماتے، بلکہ اس کا استقبال کرتے۔ حضورکے وصال کے بعد جب ”مسند اقتدار“ پہ خلفاءکو بٹھانے کی باری آئی، تو ریاست مدینہ کی حکمرانی کی بھاری ذمہ داری اٹھانے سے سب خلفاءنے انکار کردیا، اور معذرت کے لیے ان کے الفاظ یہ تھے، کہ ہم اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھتے ، ”ناں“کرنے والوں میں حضرت ابوبکر صدیقؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سارے شامل تھے، اور آخر کار پیہم اصرار بلکہ التجاءکے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ریاست مدینہ کی مسند اقتدارپہ بٹھایا گیا، تو ان کے معمولات اور اعمال خلیفہ بننے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ کسر نفسی میں تبدیل ہوگئے۔

خلیفہ بننے کے بعد ان چاروں نے مسلمانوں کے لیے جو مراعات اور سہولیات عطا فرمائیں، وہ مثالی اور ناقابل فراموش ہیں، مگر مسلمانوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ ان کے بعد کسی بھی مسلمان ریاست میں کوئی بھی حکمران ایسانہیں آیا، کہ جو فرمودات اور اصلاحات خلفاءپہ عمل پیرا ہوتا، اور حضرت علامہ اقبالؒکو یہ نہ کہنا پڑتا کہ

گرچہ برہم ہے قیامت سے نظام ہست وبود

ہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسراروجود

(جاری)


ای پیپر