نائب صدارت سے معذرت کرلیجئے
08 May 2019 2019-05-08

میں نے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کو سوشل میڈیا پر مشورہ دیا کہ جب سیاسی تحریک چلانے کے لئے ایک سعد رفیق ہو، پارٹی کی تنظیم سازی کے لئے ایک سعد رفیق ہو، جیل جانے کے لئے ایک سعد رفیق ہو،ماریں کھانے کے لئے ایک سعد رفیق ہو، کارکردگی دکھانے کے لئے ایک سعد رفیق ہو مگر جب عہدے بانٹنے کا وقت آئے تو تیس، بتیس نائب صدور میں سے ایک سعد رفیق ہو، تو سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل حیران کن بھی تھا اور دلچسپ بھی،بہت ساروں نے اس مشورے کی حمایت کی، میرا مشورہ اس سعد رفیق کو تھا جس کی جدوجہد اور جذباتیت بارے عشروں سے جانتا ہوں۔

بات ا س وقت سے شروع ہوتی ہے جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا اور نواز شریف نے جلاوطنی کے دوران ہی اعلان کر دیا کہ اب میرٹ، جمہوریت کے لئے جدوجہد ہو گی۔ یہی وہ دور تھا جب عمران خان نے خواجہ سعد رفیق سے رابطہ کیا اور ایک تعلق کی بنیاد پر تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی مگر سعدرفیق نے نواز شریف کے نظرئیے کے مشکل راستے کو چنا حالانکہ اس وقت بھی پارٹی میں بہت ساری’ فاختائیں‘ اڑتی پھر رہی تھیں مگر جب پہلے پنجاب اور پھرمرکز میں حکومت ملی تو مشرف دور کی جدوجہد والا میرٹ غائب ہو گیا، بہت سارے ایسے منزل پر پہنچے جو شریک سفر ہی نہیں بلکہ راہ میں رکاوٹ بھی تھے۔ اگلا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب وزارتوں کی تقسیم ہوئی اور سب سے مشکل وزارت یعنی ریلوے خواجہ سعد رفیق کو ملی، اس امر سے انکار نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے سے بجلی کی پیداوار اور موٹرویز کی تعمیر کے لئے دیگر وزارتوں نے بھی کام کیا مگرمردہ ریلوے زندہ ہوئی، اس کی آمدن اٹھارہ ارب سے پچا س ارب پر پہنچی حالانکہ یہ وزارت بھی خواجہ سعد رفیق کے اپنے انتخاب سے زیادہ قیادت کا حکم تھا ۔ یہ ایک اہم موقع تھا جب عمران خان دھرنوں کے بعد ”منصوبہ بندی“ کے اگلے مرحلے میں تھے، نواز شریف پاناما کیس میں نااہل ہونے جا رہے تھے اور تمام حکومتی اکابرین خاموشی کے ساتھ تماشا دیکھ رہے تھے یہ خواجہ سعد رفیق ہی تھا جس نے دبنگ طریقے سے میاں نواز شریف کا دفاع کیا، ہری پور میں امیر مقام، سیالکوٹ میں خواجہ آصف، لاہور میں حمزہ شہباز کے ساتھ اجتماعات کے علاوہ گوجرانوالہ میں بھی وہ یاد گار کنونشن کیا جس میں لوہے کے چنے کے الفاظ استعمال ہوئے، لوہے کے چنے سے یاد آیا کہ مسلم لیگ نے میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعدووٹ کو عزت دو کا نعرہ دیا، اس جذباتی رہنما نے ا س سے پہلے ہی ’ وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے ، جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے‘ کا سیاسی نعرہ لگا دیا۔ سعد رفیق وہ اکیلا سپاہی تھا جب پورا لشکر دم بخود تھا تو یہ میدان میں تھا اور لاہور شہر میں صرف اس کی طرف سے لگائے گئے بینزر قومی اوربین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکزبن رہے تھے جن میںنواز شریف کی حمایت تھی۔

پھر میاں نواز شریف وزار ت عظمیٰ اور اس کے بعد پارٹی صدارت سے بھی نااہل ہو گئے۔ یہ سعد رفیق ہی تھا جس نے جی ٹی روڈ سے آنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ اس پر اصرار بھی کیا جو اس وقت مسلم لیگ نون کی بحالی ہی نہیں بلکہ حکومت کی باقی ماندہ مدت پوری کرنے کی بھی بنیاد بنا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاسی تحریک کی ساری ذمہ داری خواجہ سعد رفیق پر تھی ، وہ نواز شریف کی گاڑی کو جی ٹی روڈ پر ڈرائیور کررہے تھے مگر جب نئی کابینہ بن رہی تھی توخواجہ سعد رفیق کے سوا خواجہ آصف، احسن اقبال اور خرم دستگیر سمیت تمام وزراءاپ گریڈ ہو رہے تھے، سعد رفیق کیوں نہیں ہوئے اس کی وجہ بعد میں سمجھ آ ئی، پارٹی حلقوں کی طرف سے خبریں شائع ہور ہی تھیں کہ سعد رفیق پارٹی کے اگلے جنرل سیکرٹری ہوں گے مگر وہ خبریں بھی محض خبریں ہی رہیں۔

اب اگلا چیلنج درپیش تھا یعنی عام انتخابات، سعد رفیق نے خودکو اور اپنے بھائی کو مضبوط ترین حریفوں یعنی عمران خان اور عبدالعلیم خان کے سامنے کھڑا کیا مگر اس موقعے پر بھی پارٹی مدد کو نہیں آئی جب ان کے قومی اسمبلی کے حلقے کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا رہا تھا اور پھر وہی ہوا جو بدترین ہوسکتا تھا۔ سعد رفیق کو صرف پنجاب اسمبلی کی نشست دی گئی اور اگر کارکردگی ہی میرٹ ہوتا تو وہ وہاں پر اپوزیشن لیڈر ہوتے ،نہیں تو پارلیمانی لیڈر کا بے رنگ اور بے بو عہدہ ہی دے دیا جاتا ، مجھے لگتاہے کہ سعد رفیق مجبور ہو گئے کہ ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں اور اپنا عوامی مینڈیٹ واپس لیں حالانکہ وہ اس سے قبل سردار یاز صادق والا حلقہ بھی لے سکتے تھے بہرحال اس کے بعد خواجہ سعد رفیق گرفتار ہو گئے اور سب جانتے ہیں کہ کیوں ہوئے۔ پارٹی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے ایسے لیڈر کا خیال رکھتی اور اس موقعے پر بھی دلچسپ کام یہ ہوا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام پبلک اکاونٹس کمیٹی میں شہباز شریف نے خود ہی ڈالا اور خود ہی نکال دیا۔ سعد رفیق سے بہتر ریلوے کی سٹینڈنگ کمیٹی کا چئیرمین کون ہوسکتا تھا، پارٹی سطح پر وعدہ بھی ہوا مگر ایسے ایم این اے کو چئیرمین بنا دیا گیا جو اب تک شیخ رشید کو ٹف ٹائم دینے کے لئے ایک اجلاس نہیں بلا سکا ۔ یہ خواجہ سعد رفیق ہی تھا جس نے مسلسل نظر انداز ہونے کے باوجود پارٹی کے اندر نواز شریف کے بیانیے کی بات کی تو اس کے بعد احسن اقبال پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور رانا ثناءاللہ خان پنجا ب کے صدر بنے ۔

یار دوستوں نے سوشل میڈیا پر گرہیں لگائیں کہ جیل میں تو شریف خاندان بھی رہا مگر وہ بھول گئے کہ شریف خاندان میں سے نواز شریف واحد شخصیت ہیں جو دوبارہ جیل جا رہے ہیں ورنہ مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز جیل سے باہر ہیں مگرخواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق جیل کے اندر ہیں اوراس طرح مسلسل اندر ہیں کہ کاروبار بھی تباہ ہو چکا ہے،یہ واحد خاندان ہیں جو شریف خاندان کی طرح نشانے پر ہے۔ اس کی وجہ صرف وہی ہے کہ مسلم لیگ نون کے مخالفین جانتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کی سیاست میں اہمیت کیا ہے مگرجب دوست بھی دشمنوں والا ہی کام کرنے لگیں تو کیا غلط مشورہ ہے کہ آپ ایک نظریاتی ، جمہوری اور محب وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، خواجہ رفیق شہید کے بیٹے کو پارٹی کی نائب صدارت کوئی سرخاب کا پر نہیں لگا دے گی ، جی ہاں، اگر آپ پارٹی کے نائب صدر نہیں بھی ہو ں گے توآپ کی جدوجہد اور کردار سے انکار نہیں کیا جا سکے گا،کیا ہی بہترہو کہ آپ اس شرمندہ کرتے ہوئے عہدے سے معذرت کر لیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے یقین رکھیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب عزت، مقا م اور عہدے میرٹ پر ہوںگے۔ میاں نواز شریف خود کو جو نظریہ کہتے ہیں وہ نظریہ سر چڑھ کے بولے گا ۔ یہ وقت حقیقی کارکنوںکی جدوجہد اور قربانیوںسے ہی آسکتا ہے جب سیاسی جماعتوں میںمقام اور عہدے خیرات نہیں بلکہ حق کے طور پر ملیں گے اور ہم ملک کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں میں بھی آئین، جمہوریت اورمیرٹ کی سربلندی دیکھیں گے۔


ای پیپر