Nai Baat Magazine Report
08 مارچ 2021 (22:22) 2021-03-08

ظفر اقبال نگینہ ...

 تاریخ بڑی بے رحم ہے۔۔۔ وہ نہ تو کسی کو معاف کرتی ہے نہ ہی مسخ کی جا سکتی ہے اور یہی وہ بھیانک تاریخ سے جو جاپان کے شہر ہیر وشیما اور ناگا ساکی کی تباہی و بربادی اور لاکھوں انسانوں کو لمحوں میں موت کی وادی میں چلے جانے کا باب لیئے ہے اور یہ 75سال گزر جانے کے بعد مستقبل میں کئی نسلوں تک اَزبر ہوتا چلا جائے گا۔ 

 فسٹ اٹامک وار۔۔۔ پہلا ایٹمی بم دھاکہ ۔۔۔جس نے تاریخ کو بھیانک بنا دیا ۔ یہ تاریخ کا بد ترین موت کا کھیل تھا جس کے کھیلنے کو برسوں تیاری پر لگ چُکے تھے اور اس کا آغاز ہوا ۔ 1939ء میں جب ایک انسان نے جس کا نام ہٹلر تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کا آغاز تھا اور ہٹلر نے پوری دنیا کو فتح کرنے کیلئے ایٹم بم بنانے کا سوچا۔۔ اور اس نے جرمن کے سائنس دانوں کو بلا لیا ۔ وہ نیو کلیئر بنانا چاہتا تھا کہ وہ ایک ہی وار سے جنگ کو ختم کر سکے ۔ امریکہ کو ڈر تھا کہ جرمن پہلے ایٹم بم نہ بنا لیں۔ اس نے 1933ئء سے اس کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ سائنٹیسٹ لیز لارڈ نے سب سے پہلے ایٹم بم بنانے کا پرپوزل دیا ۔ کوشش یہ تھی کہ جرمن سے پہلے ایٹم بم تیار کیا جائے اور اس پر کام بھی شروع ہو چکا تھا ۔ 7دسمبر 1941ء کو جاپان نے امریکہ کے پرل ہار بر پر اٹیک کر دیا ۔ کچھ ہی دنوں بعد یعنی 9جنوری 1942ء میں پریذیڈنٹ روزل ویلٹ نے بم بنانے کے پراجیکٹ کو تیز تر کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک ہزار دنوں میں اسے مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دیں اور اس پراجیکٹ کے لیے لفٹیننٹ جنرل یزی گوروز کو منتخب کیا گیا ۔ گوروز نے تیاریاں شروع کر دیں ۔ اس نے نیلسن کو لیٹر لکھ دیا وہ اپنے نام کے حوالے سے کہ گوروز کو جن چیز کی ضرورت ہو اس کی منظوری دی جاتی ہے ۔ نیلسن نے پہلے تو لیت و لعل سے کام لیا لیکن گو روز نے پریذیڈنٹ روز کو اس کی شکایت کرنے کی بات کی ۔ اس نے لیٹر پر دستخط کر دئیے ۔ گو روز نے جرمن جوفن ہمیر کو سائنٹیفک ڈائریکٹر مقرر کر دیا اور پھر اس جگہ کے انتخاب کے لیے ریسرچ شروع کر دی کہ جہاں ایم بم تیار کیا جاسکے اور ’’ لاس الاموس ‘‘  کا انتخاب کر لیا گیا ۔ آرمی نے چند مہینوں ہی میں وہاں بلڈنگ کھڑی کر دیں۔ اب اس منصوبے کی تکمیل کیلئے سائنسٹسٹ کا انتخاب کرنا تھا ۔ وہ بھی کم از کم 30اور ان کی سپورٹ کے لیے 100افراد ۔۔ یہ انتخاب بھی کر لیا گیا ۔۔۔ کام کرنے والوں کی تعداد 7000تک جا پہنچی ۔ جبکہ 6نوبل پرائز سائنسٹیسٹ کام کر رہے تھے اس دوران گوروز نے جرمن سائنس دانوں کو قتل کرانے کا بھی منصوبہ تشکیل دیا ۔ڈاکٹر ورنر ہائسبرگ کو قتل کرنے کے لئے جن لوگوں کو مامور کیا گیا انھیں زہریلی گولیاں بھی دی گئیں کہ اگر وہ پہلے پکڑے جائیں تو انھیں کھا کر خود کشی کر لیں ۔ لیکن جو ٹیم ڈاکٹر ورنر کو قتل کرنے  کے لیے گئی تھی اس کو تحقیق سے معلوم ہوا کہ ورنر ایٹم بم بنانے کے کسی منصوبے پر کام نہیں کر رہا ۔ تو ٹیم نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ۔ ان کی کوشش تھی کہ جہاں یہ ایٹم بم بنانے کو لگے ہیں ان کی نشاندہی جرمن کو نہ ہو جائے ۔ ’’ لاس الاموس ‘‘ کو مختلف اداروں کے سائن سے کیمو فلاج کر دیاگیا ۔ سائنسٹیسٹ کے فیک نام سے ایک ہی پوسٹ بکس نمبر پر ڈاک آنا شرو ع ہو گئی ۔ پہلا ایٹم بم تیار کرنے میں  جب امریکہ کامیاب ہو گیا تو نیو میکسیکو کے ریگستانی علاقہ میں ایٹم بم کا ٹیسٹ کرنے کے لئے جگہ کا انتخاب کیا ۔ تیاریاں مکمل ہو گئیں اور پھر اس کا تجربہ کر لیا گیا ۔۔۔ ایٹم بم چل گیا ۔۔۔ 16کلو میٹر تک اس کے چلنے کی دھمک سنائی دی ۔ محسوس کی گئی۔ 

 اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ کیا ایٹم بم کا استعمال جاپان پر کرنا ہے کیونکہ ہٹلر 30اپریل 1945کو مارا جا چکا تھا اور جرمن سرینڈر کر چکا تھا ۔ صرف سات دن بعد ہی یعنی 7مئی 1945ء کو ۔۔۔ امریکہ نے 6اگست 1945ء کو اپنے B29جہاز پر ایٹم بم لوڈ کر دیا ۔۔۔ اور اس کا ٹارگٹ تھا جاپان کا شہر ’’ ہیروشیما‘‘۔

 16اگست صبح سات بجے ۔۔۔ جاپانی راڈاروں نے ایک جہاز کو آتے دیکھ لیا ۔ خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے ۔ ۔۔ پورے جاپان میں لمحوں میں ریڈیوپروگرام روک دئیے گئے ۔۔ لیکن یہ جہاز ایک خاص سروے کرنے کو آیا تھا ۔۔۔ اس جہاز سے پیچھے والے جہاز کے پائلٹ کو میسج دیا ۔۔۔’’ آل ویل‘‘

 8بجے تک ’’ ہیروشیما‘‘ میں بجنے والے سائرن خاموش ہو چکے تھے ۔۔۔ 8بجکر 9منٹ پر B29’’ ہیروشیما‘‘ کے سنٹر میں محو پرواز تھا۔۔۔ 8بجکر 15منٹ پر B29سے ایٹم بم گرا دیا گیا ۔ اس ایٹم بم کو زمین تک پہنچنے میں صرف 43سکینڈ لگے ۔۔۔ بم پھٹ گیا ۔۔۔ ایٹم بم پھٹتے ہی ہیروشیما پر کیا بیتی ۔۔ لاشوں کاایک جہاں آباد ہو گیا ۔۔۔ عمارتیں کھنڈر میں بدل گئیں۔۔ آگ ، خون اور دھواں نے پورے ہیروشیما کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر شے ملیامیٹ ہوچکی تھی ۔ ہیروشیما کی آبادی اس وقت 2لاکھ 35ہزار کے لگ بھگ تھی ۔ لمحوں ہی میں 80ہزار سے زائد لوگ لُقمہ اَجل بن چکے تھے ۔ دھواں کے بادل اور آگ نے پورے ہیروشیما کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ 

 یہ تھی وہ تباہ کاری ۔۔۔ بھیانک تباہ کاری کہ جس کے اثرات نے لاکھوں زندگیوں کو نگل لیا۔ پھر 9اگست کو ناگا ساکی پر 11بجکر 2منٹ پر دوسرا ایٹم بم پھینک دیا گیا۔ جاپان کے شہر ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ہونے والی اس بھیانک تباہی نے پوری دنیا کو لرزا کے رکھ دیا ۔ 

 یہ ہے سپر پاور امریکہ کا پہلا اور دوسرا ایٹمی دھماکہ جو تاریخ کے بھیانک باب بن گئے ۔۔۔ سپر پاور امریکہ کے مقابلے کے لئے کئی دوسرے ممالک نے بھی ایٹمی قوت بننے کودوڑ دھوپ شروع کر دی ۔ آج دنیا کے نقشے پر کئی ایٹمی قوتیں اپنا وجود بنا چکی ہیں۔ 

 دنیا کے دو سو کے قریب آزاد ممالک میں سے ایٹمی قوت رکھنے والوںمیں ایران کا شمار بھی کیا جا رہا ہے ۔ لیکن اس کے پاس کتنی نیو کلیئر پاور ہے اس کا بھید ابھی تک نہیں کھل سکا ۔ سپر پاور امریکہ کی کھوج بھی ابھی تک یہ راز نہیں جان پائی ۔ ایران نے نیو کلیئر کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی کیا ہوا ہے اور اِسی معاہدے کی بنیاد پر ان پر پابندیاں بھی لگائی جا رہی ہیں۔ یہ واحد ملک ہے جو آج تک امریکہ جیسے سپر پاور کے سامنے ڈٹا ہوا ہے ۔ ۔۔ اور اسکی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آ رہا اور اگر ہم نارتھ کوریا کی جانب رُخ کریں تو وہ بھی 10کے قریب نیو کلیئر ہتھیار کا حامل ہے ۔ کم درجے کی نیو کلیئر پاور رکھنے کے باوجود نارتھ کوریا آئے روز کسی نہ کسی ملک کو دھمکاتے ہوئے سنا دیکھا جا تا ہے ۔ اب تک یہ درجن بھر ٹیسٹ بھی کر چکا ہے۔ اس پر بھی سپر پاور امریکہ کی نظر ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اسرائیل کے پاس 80کے قریب نیو کلیئر پاور ہے لیکن اس کے لیے دوہرا معیار رکھا گیا ہے ۔ حالانکہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی اسلامی ممالک اسرائیل کوعلیحدہ ریاست تسلیم نہیں کرتے ۔ اسرائیل بھی بلیک میلنگ میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ 

 اگر ہم بھارت کا جائزہ لیںتو اس کے پاس بھی نیو کلیئر پاورہے او روہ برسوں سے اس کوشش میں ہے کہ خطے میں پاورفُل ہو جائے ۔اپنی نیو کلیئر پاور بڑھانے کو بھارت نے روس سے کئی معاہدے بھی کیے ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کے پاس 110کے قریب نیو کلیئر ہتھیار ہیں۔ وہ اب تک کئی ٹیسٹ کرچکا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس 130سے زائد نیو کلیئر ہتھیار ہیںاور اس کے پاس خطرناک ویپن موجود ہیں۔ کئی سپر پاور کو پاکستان اس لئے بھی کھٹکتا ہَے کہ دنیا کے اسلامی ممالک میں یہ واحد ملک ہے جو ایٹمی قوت رکھتا ہے ۔ بھارت نے جب پانچ ٹیسٹ ایٹمی دھماکے کرکے اپنی طاقت دکھائی تو پاکستانے جواباً 6دھماکے کرکے اِسے باور کرایا کہ وہ اس کے مقابل ایٹمی پاور رکھتا ہے اور وہ بھارت کی ایٹمی قوت سے مرعوب نہیں ۔ پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ دنیا کی نمبر 1آرمی ہے جسکی صلاحیتوں کو دنیا کے تمام ممالک جانتے ہیں۔ 

 ایٹمی قوت کے حامل ملکوں میں یوکے کا شمار بھی ہوتا ہے ۔ جسے برطانیہ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس ملک کاکیپٹل لندن ہے ۔ عددی حساب سے دیکھا جائے تو بعض ملکوں کے مقابلے میں اس کے پاس نیو کلیئر رکھنے والا یہ ملک ۔۔۔ جس کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہ ہو تا تھا ۔ اب سمٹ کر رہ گیا ہے ۔ یہ ملک بھی اپنی برتری اور آنکھیں دکھانے میں دوسرے ملکوں جیسا ہی ہے۔ 

 سپر پاورز میں شمار ہونے والے ممالک میں چائنا خاصی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ ان کے پاس تین سو کے لگ بھگ نیو کلیئر ہتھیار ہیںاور وہ بھی جدید ترین۔۔ پاکستان کی طرح دنیا کی بہترین فوج چائنا کی شمار ہوتی ہے اور وہ اپنے ملک کی حفاطت کے درجہ کمال پر ہیں۔ 

 فرانس دنیا کا وہ ایٹمی ملک ہے جس ک پاس تین سو بیس نیو کلیئر ہتھیار ہیں۔ جبکہ یونائیٹڈ سٹیٹ امریکہ کے پاس تقریبا 8ہزار کے قریب نیو کلیئر میزائل موجود ہیں۔ اور اس کے کئی ممالک کے ساتھ معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کی آرمی کئی ممالک میں مہم جوئی میں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں روس ایک واحد پاور فل ملک ہے۔ اس کے پاس آٹھ ہزار پانچ سو کے قریب نیو کلیئر ہتھیار ہیں۔ اس کی ایڈوانس ٹیکنالوجی کئی سپرپاورز کے لئے پریشانی کا باعث بھی ہے۔ 

 دُنیا بھر میں نیو کلیئر پاورز کی حامل قوتیںحاصل شدہ قوت پر ہی اکتفا نہیں کر رہی بلکہ وہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ڈور میں جدید ترین اور مہلک ترین ہتھیار بنانے میں جُتے دکھائی دیتے ہیں اور یہی دوڑ ہے جس نے طاقت کے توازن کوبگاڑ دیا ہے۔ دنیا بھر میں وہ ممالک جو ایٹمی طاقت نہیں رکھتے وہ ایٹمی قوتوںکے مرہون منت ہو گئے ہیں۔ یہی وہ طاقت کا زعم ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں دکھائی دیتاہے۔ فلسطین ، افغانستان اور مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے ؟ قوموں کی آزادی سلب ہوچکی ہے ۔ برسوں سے طاقت کے گھمنڈ میں ظلم ، جبر اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔ معصوم بچوں تک کو گولی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ خواتین اور جوان بچیوں کی عصمت دری ہو رہی ہے ۔ جبکہ عالمی ادارہ انصاف بھی ایٹمی قوتوں کے آگے بے بسی کا شاہکار بن گیا ہے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ عالمی ادارہ انصاف بھی انصاف کا طالب ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسا ادارہ کہ جس کے پاس حصول انصاف کے لئے 16لاکھ سے زائد قراردادیں پڑی ہیں۔ کسی ایک پر بھی عالمی ادارہ انصاف کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔ 

 پاکستان اور بھارت ۔۔ دو روایتی حریف ، دو خونی جنگیں ہو چکیں ، دونوں ایٹمی طاقت ۔۔ تقابلی جائزہ کے خدوخال کچھ یوں ہیں۔ 

 14اگست 1947ء تقسیم ہند ۔۔ ’’ پاکستان ‘‘ کا نام دُنیا کے نقشے پر اُبھر کر سامنے آ گیا ۔۔۔ جسے دنیا کے کئی ممالک نے تسلیم کیا لیکن نہیں تسلیم کیا تو بھارت نے آج تلک اس کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ۔ 

 برصغیر میں یہ دو ممالک ایسے ہیں کہ جن کے مابین 72ء سالوں میں دو جنگیں ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1965ء میں ہوئی جب 6ستمبر کی تاریک رات میں بز دلوں کی طرح بھارت نے وار کیا ۔ لیکن پاکستان کی عظیم فوج نے صرف 17روز کی جنگ میںبھارت کو تگنی کا ناچ نچا دیا ۔ یہی وہ 65ء کا ستمبر تھا جب پوری قوم نے پاک فوج کے شانہ بشانہ کردار ادا کیا ۔ یہی وہ سرخروئی تھی کہ جو کچھ قوتوں کو نہ بھائی ۔ اپنوں کی سازش، نالائقی ، ناعاقبت اندیشی اور مکار دشمن کی شاطرانہ چالوں نے 71کی جنگ میں مشرق پاکستان کو مغربی پاکستان سے جدا کر دیا ۔۔۔

 پاکستان کے اَزلی دشمن بھارت کا جنگی جنون بڑھتا گیا اور اس نے اپنی پوری توجہ عسکری قوت بڑھانے پر لگا دی ۔وہ ایک تواتر سے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش میں جُت گیا لیکن ربِ عظیم کی کرم نوازی سے پاک فوج نے اپنی صلاحیتوں سے مکار دشمن کی چالوں کو بھانپ لیا اور اپنی عسکری قوت کو بفضل تعالیٰ اس نہج تک لے گئی کہ بھارت ہمیشہ پاکستان سے خائف رہا ۔ حالانکہ پاکستان کے مقابلہ میں بھارت کی روایتی جنگی طاقت بہت اوپر جا چکی تھی۔ بھارت نے پرتھوری کا بھی تجربہ کر ڈالا تھا ۔ پھر اُگنی میزائل بھی آ گیا ۔ بھارت اس پر خوشیاں منا رہا تھا کہ پاکستان نے غوری میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے اس کی ساری خوشیاں غارت کر دیں ۔ کیونکہ غوری میزائل سب میزائلوں کا توڑ تھا ۔ غوری میزائل میں یہ صلاحیت ہَے کہ اُسے کوئی ایٹمی میزائل سسٹم روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ غوری میزائل میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ جس سے بھارت کے دارالحکومت دہلی ، ممبئی ، احمد آباد ، مدارس ، ٹرامبے ، ناگپور ، جالندھر اور جیسلمیر تباہ کیے جا سکیں۔ یہ ایک ایسی کامیابی تھی کہ طاقت کا توازن کسی حدتک بیلنس ہو چکا تھا۔ لیکن بھارت کے وزیر اعظم واجپائی نے طاقت کا توازن اپنے حق میں دکھانے کے لیے 11مئی 1998ء کو تین ایٹمی دھماکوں کے تجربے کرکے پاکستان کو نیا چیلنج دے دیا تھا ۔ اُس دَور میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے ڈاکٹر قدیر سے پوچھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دے سکتے ہیں۔جواباً ڈاکٹر قدیر نے کہا ’’ ہم تیار ہیں‘‘ پاکستان اس وقت بھی جواب دے سکتا تھا لیکن مصلحتاً خاموشی اختیار کی ۔۔۔ پاکستان بھارت کے ایٹمی دھماکوں پہ دنیا کا رد عمل دیکھنا چاہتا تھا۔ اس وقت امریکہ نے رد عمل میں بھارت پر پابندیوں کا اعلان کر دیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستان دھماکہ نہ کرے ورنہ زیادہ نقصان ہو گا۔ امریکہ نے جہاں بھارت کی 12کروڑ ڈالر کی امداد روکی ۔وہاں جاپان کے 20شہروں میں عوام نے شدید احتجاج کیا ۔ نیوزی لینڈ ، ڈنمارک اور آسٹریلیا نے احتجاجاً بھارت سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ۔ 

 بھارت پر شدید دبائو آیا لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور یوں بھارت نے دو اور نیو کلیئر ٹیسٹ کر دئیے ۔بھارت کے خلاف کوئی رد عمل آتا ۔۔۔ رو س نے بھارت کو مزید چار دھماکے کرنے کا کہا۔۔۔ دنیا کی تاریخ میں ایٹمی قوت بننے والوں میں بھارت واحد ایسا ملک تھا کہ جس نے پاکستان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا ۔ ایٹمی قوتوں کی ایسی بلیک میلنگ نے ترقی پذیر ممالک کو بھی ایٹمی قوت بننے پر مجبور کر دیا ۔ ۔۔ قوم کی نظر میں وزیر اعظم پاکستان پر لگی تھی ۔ کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ دوسری جانب صورت حال یہ تھی کہ امریکہ کے صدر کلنٹن بار بار وزیر اعظم پاکستان کو فون کرکے ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر قائل کر رہے تھے ۔۔۔ طرح طرح کے لالچ دئیے ۔۔۔ پھر دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔۔ جواباً وزیراعظم پاکستان نے غور کرنے کا کہا لیکن جب وہ پاکستان کے عوام کے جذبات و احساسات اور وابستہ توقعات پر نظر ڈالتے تو انھیں فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہ ہوتی اور پھر وہ وقت آ گیا ۔۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاںمحمد نواز شریف بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکے کے جواب میں 6ایٹمی دھماکے کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔۔۔ اس ایک جراتمندانہ فیصلے نے پاکستان اور پاکستان کی عوام کے وقار میں اضافہ کر دیا ۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر ایٹمی قوت بن کر اُبھرا ۔۔ دنیا کے تمام اسلامی ممالک نے پاکستان کے اس کامیاب تجربے پر سکھ کا سانس لیا اور بھارت جو کل تلک پاکستان کو  بلیک میل کر رہا تھا۔۔۔ اپنی اوقات میں آ گیا ۔

 پاکستان کی تینوںافواج بری بحری اور فضائیہ جودنیا کی نمبرون عسکری قوت شمار ہوتے ہیں۔ان کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ میں اَزلی دشمن بھارت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے ۔ پورا پاکستان پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھا اور یہ ایسی گونج تھی جو آج تک سنائی دے رہی ہے۔پاکستان کے عوام پاک فوج سے جتنا پیار کرتے ہیں۔ دنیا میں کسی فوج کو ایسا پیار نصیب نہیں ۔ پاکستان میں ایک سپاہی سے لے کر سپہ سالار تک سبھی دفاع وطن میں مورچہ زن ہیں۔ پوری قوم شہیدانِ وطن کوخراج تحسین پیش کر رہی ہے۔کہ جنھوں نے مادرِ وطن کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے ۔

 دنیا کی تمام ایٹمی قوتوں کی بلیک میلنگ بام عروج پر ہے۔ماسوائے پاکستان کے ۔۔۔ کیونکہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور پوری دنیا کو یہ میسج بار ہا پہنچ چکا ہے۔کلبوشن کا کیس ہو یا ابھی نندن مہم جوئی گرفتاری پھر واپسی ۔۔ پاک فوج نے ہر محاذ پر یہ ثابت کر کیا کہ وہ ایٹمی قوت رکھنے کے باوجود صرف امن کے خواہاںہے اور اس کا کریڈٹ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ،کور کمانڈرز کو جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل اگر ہم دنیا کی ایٹمی قوتوں کا جائزہ لیں تو وہ آنکھیں دکھاتی نظر آتی ہیں۔۔۔

 ایٹمی قوتوں کے ان رویوں اور بلیک میلنگ نے دنیا کو حقیقتاً تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کسی وقت بھی کسی ملک نے ذمہ داری ، ہوش مندی کا مظاہر نہ کیا تو یہ دنیا نیست و نابود ہو جائے گی ۔۔۔ دنیا کے نقشے پر موجود تمام ممالک ہیرو شیما اور ناگاساکی بن جائیں گے ۔

 صرف آگ خون اور دھواں کا منظر ہو گا۔۔ جہاں انسانی زندگی کے آثار باقی نہ رہیں گے ۔ ۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی طرح دیگر ایٹمی قوتیں بھی اپنے رویوں پر غور کریں اوربلیک میلنگ سے گریز کریں ۔۔۔۔نہیں تو اپنے ہاتھوں لائی گئی تباہی و بربادی میں وہ خود بھی تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر