کراچی ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
08 مارچ 2021 (19:09) 2021-03-08

لاہور: کراچی ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ٹریک کی خستہ حالی کے باعث کراچی ایکسپریس کی بوگیاں ڈی ریل ہوئیں تھیں اور حادثے کے بعد 490 کلومیٹر پر ٹریک کی فش پلیٹ تازہ ٹوٹی پائی گئی جبکہ یہ رپورٹ وزیر ریلوے کو بجھوا دی گئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 490 کلو میٹر پر ڈیڑھ فٹ ٹریک کا ٹکڑا ٹوٹا ہوا پایا گیا جبکہ  کوچ نمبر 12306 اور 12412 کے درمیان کپلنگ ٹوٹا ہوا تھا، ٹریک کمزور ہونے کے باعث انجینئرنگ رکاوٹ اور رفتار 65 کلو میٹر مقرر تھی، ڈرائیور نے کاشن انڈیکیٹر کا مشاہدہ کیا اور سپیڈ 65 کلو میٹر پر کنٹرول کیلئے بریک لگایا جس پر ٹرین 2402 فٹ گھسیٹی گئی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرین اوور سپیڈ تھی تاہم انجن ڈیٹا اور ٹریک فرانزک رپورٹ سے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے گا۔ 

واضح رہے کہ صوبہ سندھ کی تحصیل پنوں عاقل کے قریب مندو ڈیرو ریلوے سٹیشن پر گزشتہ روز کراچی ایکسپریس کی 10 بوگیاں ٹریک سے اترنے کے بعد الٹ گئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے۔اس حادثے نے ریلوے کے محکمہ جاتی نظام کی قلعی بھی کھول دی، حادثے کے بعد جدید مشینری کہیں نظر نہ آئی اور اپ ٹریک کی بحالی کا کام 17 سے زائد گھنٹے چلتا رہا، لیزر ٹیکنالوجی کے دور میں 2 مزدور آری لئے ٹوٹا ٹریک کاٹتے رہے، اور مینئول ٹرالی گھسیٹتے مزدور سیمنٹ کے پلرز ادھر ادھر کرتے رہے۔

حادثے کے بعد سی ای اور ریلویز اور ایف جی آئی آر نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کئے،  حکام کے بیانات میں واضح تضاد نظر آیا کہ یہ حادثہ تھا یا تخریب کاری، جائے حادثہ پر لوہے کے ٹریک کے ایک برابر کٹے ٹکڑے پائے گئے، جہاں ٹریک ثابت تھا وہاں سے پلرز کیوں غائب تھے۔

(بشکریہ: نیو نیوز)


ای پیپر