Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 مارچ 2021 (12:30) 2021-03-08

شیخ صاحب کئی دنوں سے پورے یقین سے کہہ رہے تھے کہ سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست حفیظ شیخ ہی جیتیں گے۔ لگتا تھا جیسے انہوں نے رزلٹ والاپرچہ دیکھ لیا ہے۔ پرچہ آئوٹ ہوتے کیا دیر لگتی ہے۔ 3 مارچ کو ایوان میں پہنچے تو بھی اپنے اسی فیصلے پر قائم تھے کہ کچھ دیر کی بات ہے الیکشن کمیشن حفیظ شیخ کی کامیابی کا اعلان کردے گا۔ اسی ادھیڑ بن میں آنکھ لگ گئی۔ میر صاحب بھی اس عمر میں اسی کیفیت سے گزرے تھے کہا کرتے تھے ’’عہد جوانی رو رو کر کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند، یعنی رات بہت تھے جاگے صبح ہوئی آرام کیا‘‘ شیخ صاحب عالم خواب میں بھی حفیظ شیخ کی کامیابی کے شادیانے بجانے میں مصروف رہے۔ شیخ سے شیخ ملے کر کے لمبے ہاتھ، ویسے بھی ما شاء اللہ دونوں کے ہاتھ لمبے ہیں، عالم خواب میں مسلسل بڑبڑاتے رہے ’’شیخ صاحب جیت رہے ہیں شیخ صاحب جیت گئے ہیں‘‘ اچانک ایک نامانوس آواز نے انہیں نیند سے بوجھل آنکھیں کھولنے پر مجبور کردیا۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا اعلان کر رہے تھے دن میں دیکھے خوابوں کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے۔ شیخ صاحب کے حواس خمسہ پوری طرح بیدار ہوگئے سوچا یہ کیسے ممکن ہے عالم خواب میں تو حفیظ شیخ کی کامیابی کی نوید سنائی گئی تھی، صدمے سے دوچار شیخ صاحب کا اس دن سے موڈ آف اور منہ کا ذائقہ خراب ہے۔ سینیٹ الیکشن کے غیر متوقع نتائج نے شیخ صاحب ہی نہیں سب کے خواب چکنا چور کردیے ہیں چہرے دھواں دھواں لیکن ٹی وی چینلز پر آکر گرجنا برسنا فرض منصبی، آپا فردوس عاشق نے راجکماری کو لتاڑا کہ ان کی خوشیاں عارضی ہیں حالانکہ کسی بھائی بہن کو عارضی خوشی بھی ملے تو خوش ہونا چاہیے مگر سیاست کے رنگ ڈھنگ نیارے یہاں عارضی خوشی بھی جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کے ہنستے مسکراتے چہرے اشتعال کا باعث بن جاتے ہیں۔ جشن، مٹھائیاں تقسیم، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ سوچنا چاہیے جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں‘‘ کمال ہے وزیر اعظم بھی گھبرا گئے چہرہ بجھا بجھا لگا لہجے میں غیظ و غضب جھلکتا محسوس ہوا الیکشن کمیشن پر برس پڑے ادھر سے ترکی بہ ترکی جواب آیا کام کرنے دیں کیچڑ نہ اچھالیں۔ اشتعال جھنجلاہٹ گھبراہٹ، بے سبب نہیں غالب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘‘ اسلام آباد کی ایک نشست نے شیرازہ بکھیر دیا ہے سیاسی پنڈت بر ملا کہنے لگے ہیں کہ ’’دریچے اب کھلے ملنے لگے ہیں فضا ہموار ہوتی جا رہی ہے‘‘ لوگوں نے کیا کیا باتیں بنانی شروع کردی ہیں ایک محترم نے پوری کہانی سنا دی کہ حفیظ شیخ اوپر نیچے کے حضرات کو پسند نہیں کیوں؟ کہنے لگے معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے نمائندے ہیں آئی ایم ایف کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں کل کلاں کو کوئی خطرناک مطالبہ بھی آسکتا ہے۔ اس لیے حفیظ شیخ کو سیاسی سیٹ اپ کا حصہ بنانے سے گریز ضروری ہے۔ ’’ہوئی شکست تو کچھ باعث شکست بھی تھا‘‘ ایوان بالا کے موجودہ سیٹ اپ میں بڑا اپ سیٹ معمولی بات نہیں وفاقی 

دار الحکومت کی ایک سیٹ دور رس سیاسی نتائج کا پیش خیمہ، تبدیلی کی خشت اول، کامیابی کا مکمل یقین تھا لیکن ’’ناتجربہ کاری‘‘ نے کام خراب کردیا۔  کتنے ووٹ مسترد ہوئے رات دن تقریروں کی بجائے پولنگ کی ریہرسل کرلی جاتی تو یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔ سیاست تجربہ کاروں کا کھیل، لوگوں نے کہنا شروع کردیا جس کے ساتھ زرداری اس کا پلڑا بھاری، سوچنا ہوگا کہ یوسف رضا گیلانی کے ووٹ 169 کیسے ہوگئے حفیظ شیخ کے 164 کیوں رہ گئے۔ شنید ہے کہ ایک سرکاری رکن نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا نہ کرتا تو حفیظ شیخ کی کامیابی کا اعلان ہوجاتا۔ اعلان کے فورا بعد اس رکن کے والد ٹی وی پر حسب روایت چوروں، ڈاکوئوں کو برا بھلا کہتے پائے گئے۔ چھوٹے بڑے دانشور حیران حفیظ شیخ کے ووٹ کہاں گئے۔ جیتا ہوا گھوڑا وکٹری لائن سے 5 قدم پہلے لڑکھڑا گیا۔ ’’قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند، دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا‘‘ وزیر اعظم کے لیے سرپرائز اپوزیشن کے بجائے وہ گھبرا رہے ہیں اعتراف کیا کہ ہمارے 16 ارکان نے پیسے لے کر خود کو بیچا ،کون تھے ؟’’اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ بابر لے کر‘‘ ویڈیو اسکینڈل کے بعد 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا گیا تھا۔ 16 اب جائیں گے باقی کتنے رہ گئے؟ اہم سوال جن 20 ارکان کو بقول وزیر اعظم پارٹی سے نکالا تھا وہ اسمبلی کے رکن رہے یا نہیں، نہیں رہے تو ضمنی انتخابات کیوں نہ ہوئے۔ نہیں ہوئے تو سب ڈرامہ بازی، اپوزیشن کا ایک رکن بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوا۔ پیسے (معاف کیجیے 70 کروڑ) لینے والے پی ٹی آئی کے ارکان تھے ’’لینے والے کی خیر ہو یا رب دینے والا نظر نہیں آتا‘‘ جو ہوا سو ہوا مگر حساب کتاب غلط ہوگیا۔ وزیر اعظم کے ساتھ ان کے اپنے بندوں نے دھوکہ کیا۔ قومی اسمبلی پر حکومتی گرفت ڈھیلی پڑ گئی، سینیٹ میں 26 سیٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی سب سے بڑی پارٹی بن گئی لیکن مجموعی اکثریت اپوزیشن کے پاس رہی۔  100 ارکان کے ایوان میں حکومتی اتحاد کی 47 جبکہ پی ڈی ایم کی 53 نشستیں ہوگئیں۔ قانون سازی کا حکومتی خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ پورس کے ہاتھیوں نے اپنی ہی فوج کو پائوں تلے روند ڈالا، وزیر اعظم کا اعتراف تلخ ترش سچ کڑوا گھونٹ لیکن حقیقت پسندی کا اظہار سچ بولنے کے لیے بڑا حوصلہ چاہیے ترجمانوں اور وزیروں مشیروں کے بیانات مضحکہ خیز سچی سیدھی بات اپنا گھر سنبھالیں جس پارٹی کے 20 پلس 16 یعنی 36 ارکان قابل فروخت ہوں اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ’’بکل کے چوروں‘‘ کی نشاندہی ضروری ہے۔‘‘ گھر کے چراغ ہی گھر پھونک رہے ہیں۔ اپوزیشن تو تماشا دیکھے گی، رفت گزشت آگے کیا ہوگا۔ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا ، سینیٹ انتخابات میںبک جانے والے 16اراکین سمیت  178 نے ووٹ دئے،۔ اپنوں نے اعتمادبخشا۔ 340  ارکان میں سے 160 لابی میں نعرے لگاتے رہے مولانا فضل الرحمان کے بقول اپوزیشن کے بغیر اس اجلاس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں۔ ’’دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ 10 مارچ کو چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا پانچ سو ووٹوں سے رکن اسمبلی بننے والے صادق سنجرانی ’’زرداری گیم‘‘ کے نتیجے میں چیئرمین بن گئے تھے حالات کی ستم ظریفی وہ زرداری کے نہ رہے اب پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں، پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کو امیدوار بنایا ہے اوپر نیچے سے مداخلت نہ ہوئی غیر جانبداری کی کھڑکی کھلی رہی اور 47 اور 53 کے تناسب سے یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے تو یہ حکومت کے لیے دوسرا دھچکا ہوگا پی ڈی ایم کے اہداف واضح ہوجائیں گے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بڑی حد تک دھند صاف ہوئی تھی۔ وزیر اعظم کی تقریر پر الیکشن کمیشن کے سخت رد عمل سے اپوزیشن کا کام بتدریج آسان ہوتا نظر آرہا ہے وزیر اعظم کو رات دن ’’چوروں ڈاکوئوں‘‘ کو برا بھلا کہنے سے فرصت نہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ حکومتی پارٹی کے ارکان پیسوں پر بکے ہیں یا مایوسی کے عالم میں بقول ان کے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالے ہیں نوید قمر کا تو کہنا ہے کہ خود وزیر اعظم عمران خان، شہر یار آفریدی اور زرتاج گل کے ووٹ مسترد ہوئے، کے پی کے میں 13 ارکان کے ووٹ مسترد کیے گئے 16 ہوگئے باقی 16 کون ہیں۔ سینیٹ الیکشن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ عاقبت کی خبر خدا جانے لیکن سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ بازی پلٹے نہ پلٹے سفر کٹھن اور منزل دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ مستقبل کا منظر نامہ لانگ مارچ کے بعد مزید واضح ہوجائے گا۔ 


ای پیپر