Dr. Ibrahim Mughal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 مارچ 2021 (12:22) 2021-03-08

سینیٹ انتخابات میں ایک بڑے سیٹ اَپ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ۔اور پھر اپو زیشن کی غیر مو جو دگی میں ایک سو اٹھہتر ووٹ لے کر گذ شتہ ہفتے کے روز ا عتما د کا ووٹ حا صل کر لیا۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو پاکستان تحریک انصاف پارلیمان کے ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے؛ تاہم اسلام آباد کی سیٹ پر حکومتی امیدوار وزیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی شکست بلاشبہ حکومت کے لیے ایسا بڑا دھچکا ہے جس سے سطح کے نیچے موجزن طوفانوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں کی یہ داخلی بے چینی منظر عام سے بالکل اوجھل رہی ہو مگر وفاقی دارالحکومت کی سینیٹ کی سیٹ کا نتیجہ اس بے چینی کی شدت کے اندازے کے لیے کافی ہے۔ یہ سیٹ حکومت کے لیے بہت معنی رکھتی تھی؛ چنانچہ اپوزیشن کے لیے یہ برتری معمولی نہیں۔ اگرچہ یہ شکست بادی النظر میں وزیراعظم پر عدم اعتماد نہیں اور نہ ہی سینیٹ کی ایک مخصوص نشست ہارنے سے وزیراعظم کے لیے اعتماد کے ووٹ کے حصول کی ضرورت لازم آتی ہے۔ تاہم یہ شکست حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی نقصان ضرورت ہے اور قدرتی طور پر حکومت اس سے اخلاقی دبائو میں بھی آچکی ہے۔کا ش عمر ان خان غو ر کر سکیں کہ آ خر ایسا کیو ں ہوا۔وہ الزا م دے ر ہے ہیں کہ ان کے کچھ ممبرا ن بِکے ہیں۔ مگر بغیر ثبو ت کے یہ الز ام ان کے حق میں کچھ معنی نہیں رکھتا۔ اس سے تو یہی پتا چلتا ہے ان کی اپنی پا رٹی پہ بھی گر فت انتہا ئی کمز ور ہے۔ سیاسی دبائو تو متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کی کامیابی سے پیدا ہوا جبکہ اخلاقی دبائو کسی حد تک حکومت کے اپنے عہدیداروں کے بیانیے کا نتیجہ ہے جس کا اظہار وہ سینیٹ انتخاب سے پہلے کرتے رہے ہیں۔ اعتما د کا ووٹ حا صل کر نے کا فیصلہ ایک محفوظ چال کی طرح تھا۔ جس کے نتیجے میں اسلام آباد کی سیٹ پر سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی شکست اور ہزیمت سے پید اہونے والی بحث کی یک رنگی ٹوٹنے کے بعد ایک نئے مو ضو ع نے جنم لینا تھا اور اس نے لیا۔اب اس دوران حکومت ممکن ہے آگے کی حکمت عملی طے کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کرسکے۔ حکومت اس موقع سے کیا حاصل کرسکتی ہے، اس کا تعین کرنے سے پہلے حکومت کو سینیٹ انتخابات میں اس اپ سیٹ کے اسباب کا تعین کرنا ہوگا۔ وزیراعظم سینیٹ الیکشن کھلی رائے شماری سے کروانے پر جس شدت سے زور دیتے آئے ہیں، اس سے یہ باو رکرنا مشکل نہ تھا کہ حکومت کو اپنی صفوں میں دراڑوں کا احساس ہوچکا تھا مگر انتخاب کے آئینی طریقہ کار کی اہمیت کو سمجھے بغیر حکومت کے تقاضوں سے لگتا تھا کہ وہ اس خوش گمانی کا شکار ہے کہ اس کے تجویز کردہ طریقہ کار کو قانونی کور حاصل ہوجائے گا۔ حالانکہ انتخابی قوانین کو سمجھنے والا کوئی بھی 

ماہر یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ حکومت جس طرح اوپن بیلٹ کے طریقہ انتخاب پر زور دے رہی ہے اعلیٰ عدالتیں اس طریقہ کار کے مطابق انتخاب کی اجازت دیں گی۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو بھی رام کرنے کی کوشش کی گئی مگر جس انداز سے حکومت نے اپوزیشن کو خفیہ ووٹنگ کے مروج طریقے سے نتائج سے خوفزہ کرنے کی کوشش کی وہ بھی مدلل نہ تھا اور اپوزیشن کی جماعتوں نے اسے ہنسی میں اُڑادیا۔ یہ واضح تھا کہ اوپن بیلٹ کی حاجت دراصل خود حکومت کو درپیش ہے مگر حکومت اس کی پردہ پوشی قائم نہ رکھ سکی اور متعدد اقدام اور بیانات سے حکومتی بے چینی صاف دکھائی دینے لگی۔ سینیٹ کے انتخاب کا گھی سیدھی انگلی سے بھی نکل سکتا تھا مگر حکومت نے اس کے لیے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ حکومت نے اپنے ارکان اور اتحادیوں پر اعتماد کرنے اور ان کا اعتماد جیتنے کے بجائے اوپن بیلٹ کی تلوار ان کے سر پر لٹکانے کی کوشش کی جس کا مطلب یہ تھا کہ پارٹی سے بغاوت کرنے والا چھپ او ربچ نہیں سکے گا۔ حکومت کے پاس موقع تھا کہ اپنے ارکان کے ساتھ تعلق، رابطہ اور اعتماد بڑھاتی اور ان کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جاتا مگر سینیٹ کی اس اہم نشست کے نتیجے نے واضح کردیا کہ حکومت اپنے ارکان کو مطمئن نہیں کرسکی تھی۔ عدم اطمینان کی کئی وجوہ بیان کی جاسکتی ہیں مگر سرفہرست یہ کہ سیاسی ارکان اور غیر سیاسی مشیران میں حائل خلیج کو وزیراعظم پاٹ نہیں سکے۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور دیگر ٹیکنو کریٹس اور تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کی کیمسٹری نہیں مل سکی تھی۔ اکثر انہی ٹیکنوکریٹس کو معاشی مسائل اور مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا تھا حالانکہ وزیراعظم کی اپنی رائے سے سبھی واقف ہی ہیں کہ وہ اپنی معاشی ٹیم کی کارکردگی سے خوش تھے او رکورونا وبا کے باوجود معاشی بحالی کے حوالے وزیراعظم کی تقریروں اور بیانات کا اہم حصہ رہے ہیں۔ وہ اپنے ٹویٹس میں بھی اکثر اسی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہیں اور اسے ایک بڑی کامیابی مانتے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جو بات وزیراعظم پوری قوم کو باور کرانے کی کوشش کرتے رہے، وہ اپنی جماعت کے ارکانِ پارلیمان اور اتحادیوں کو کیوں نہیں سمجھا پائے؟ کیا اس سے ابلاغ اور اعتماد کے بڑے بحران کی نشان دہی نہیں ہوتی؟ کیا واقعی ایسا نہیں لگتا کہ حکومتی حلقوں کے اندر بات نہیں کی گئی، نہیں سنی گئی؟ اگر ایسا نہ ہوتا تو سید یوسف رضا گیلانی کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے ووٹوں سے زیادہ نہ ہوتی اور سات ووٹ ضائع نہ جاتے۔ آدمی سے غلطی کا ارتکاب خارج از امکان نہیں مگر جہاں ایک ایک ووٹ کی غیرمعمولی اہمیت ہو وہاں بے احتیاطی کا مظاہرہ باعث حیرت ضرور بن جاتا ہے۔ سینیٹ کا اگلا معرکہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے جس کے لیے 12 مار چ کی تاریخ مقرر ہے۔ وزیراعظم نے یہاں بھی اپنے پتے شو کرتے ہوئے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب کو دوسری مدت کے لیے منتخب کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ شاید اپوزیشن حکومت کی جانب سے اسی چال کی خواہش مند تھی۔ ممکن ہے اپوزیشن بھی اب جلد ہی اپنے امیدوار کا اعلان کردے اور اگر یہ متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار ہوا، جس کا امکان زیادہ ہے تو حکومت کے لیے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی ترنوالہ ثابت نہیں ہوسکے گا کیونکہ تحریک انصاف کے ارکان کی شکایات کی نوعیت سنجرانی صاحب کے معاملے میں بھی ویسی ہی ہے جیسی حفیظ شیخ صاحب کے معاملے میں تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب کس حد تک حیران کن نتائج لے کر آتا ہے۔ بہرکیف سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے اپوزیشن جماعتوں کی رگوں میں توانائی کی جو لہر پیدا کی ہے اس کے سیاسی مضمرات ہوں گے او ریہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ یہ سیاسی اَپ سیٹ کے سیاسی فیصلوں کا مظہر ہے۔ حکومت چاہے تو اس نتیجے سے اصلاح کا سبق بھی حاصل کرسکتی ہے۔ اصولی طور پر ہونا بھی یہی چاہیے۔ عدم اعتمادی اور جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیا جائے تاکہ سیاسی عدم استحکام سے بچا جاسکے۔


ای پیپر