Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 مارچ 2021 (12:05) 2021-03-08

8 مارچ 1907ء کو امریکی نیو یارک سٹی میں گارمنٹس فیکٹری کی خواتین نے کم اجرت، کام کے زیادہ اوقات اور مشکل حالات کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس پر پولیس نے تشدد کیا۔ پھر 1908ء میں سینکڑوں عورتیں دوبارہ مختصر اوقاتِ کار، بہتر معاوضے اور خواتین کے ووٹ ڈالنے کے حق میں نیو یارک کی سڑکوںپر مارچ کے لئے نکلیں۔ ان خواتین کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلی بار 28 فروری 1909ء کو خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔1910 ء میں ایک روسی سماجی کارکن کلارازیکٹین نے 8 مارچ کے اس واقعہ کے دن پر عورتوں کے حقوق پر ایک کانفرنس کی اور 8 مارچ کو دنیا بھر میں محنت کش خواتین کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔ پہلے یہ دن صرف سوشلسٹ ممالک میں منایا جاتا تھا مگر برطانیہ کے انڈسٹریل انقلاب کے بعد یہ دن عورتوں کے اقوامِ متحدہ پر زور ڈالنے پر دنیا بھر کی خواتین کی جد و جہد کی علامت کے طور پر منایا جانے لگا۔ اب ساری دنیا کی عورتیں 8مارچ کو عورتوں سے یکجہتی ، برابری اور حقوق کے حصول کی جد و جہد کے دن کے طور پر مناتی ہیں۔  اس دن کے منانے کا مقصد خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی دینا اور ان کی معاشرتی اہمیت کو جاگر کرناہے۔  

1968ء میں کارل مارکس نے کہا تھا کہ جو کوئی تاریخ کے بارے میں ذرہ سا بھی علم رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ عورتوں کی پرجوش شراکت کے بغیر کوئی بڑا سماجی انقلاب نہیں آ سکتا۔ مارکس کا کہنا تھا کہ سماجی ترقی کا اندازہ عورتوں کے سماجی مقام سے لگایا جا سکتا ہے۔ عورتوں کو اپنے حقوق کی لڑائی کو محنت کش طبقے کی بڑی جد و جہد کے ساتھ جوڑنا چاہئے۔ ہم شہروں میں بستے ہیں جہاں عورت عام طور پر تعلیم و شعور کی روشنی سے منور ہے، اسے اپنے حقوق اور مقام کا علم ہے اس لئے وہ اپنے احترام کی حفاظت کرنا اور کروانا جانتی ہے جب آپ سرداری، جاگیر داری، قبائلی اثر رسوخ والے علاقوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس ترقی یافتہ دور میں بھی جاہلانہ رسم و رواج کا راج ہے، جہاں سہمی ہوئی، خوفزدہ اور اپنے آپ کو کم تر سمجھنے والی عورتیں طاقتوروں کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرتی ہیں۔  معاشرتی زندگی میں عورت کی شرکت کی یہ فلاسفی رکھی کہ اس کے تعاون اور اشتراک سے سماجی زندگی میں آسانی پیدا ہو گی۔معاشرتی زندگی میں عورت مرد کی شرکت کا محرک وہ نکتہ ہے جو اسے بہت سارے میدانوں میں کام کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس کو مختلف و متنوع تجربات سے ہم کنار کرتا ہے اور اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔

نصف انسانیت کی ترجمانی اگر مرد کرتا ہے تو نصف انسانیت کی ترجمان عورت ہے، عورت اور مرد کبھی ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے، کوئی سوسائٹی تنہا کسی ایک جنس سے وجود میں نہیں آ سکتی۔ معاشرہ ترقی ہی اس وقت کرتا ہے جب دونوں کے درمیان توازن اور اعتدال سے معاشرتی رشتے قائم ہوں۔ اسی لئے اسلام نے عورت کو خاندان کی بنیاد قرار دیا ہے اس کو وہ تمام حقوق پہلے دن سے فراہم کئے گئے ہیںجو معاشرے کا ایک کامیاب فرد بننے کے لئے ضروری ہیں۔ یہی نہیں وہ معاشرے کو بھی پابند کرتا ہے کہ وہ عورت کے کامیاب فرد بننے میں اس کی مدد کرے اور ہر طرح کی رکاوٹ دور کرے۔ 

   ہیومن رائٹ کمیشن آف پاکستان ایک ایسا ادارہ ہے جو سماج میں محروم طبقے کے لئے انصاف کی بات کرتا ہے جو مذہب، رنگ و نسل، 

زبان اور علاقے کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت میں مگن ہے۔ یہ ادارہ 80ء کی دہائی میں قائم ہوا اور 1990ء میں اس ادارے نے پاکستان میں اپنی سالانہ رپورٹوں کا دائرہ کار شروع کیا۔ اس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق خصوصاً خواتین پر تشدد کے واقعات میں ہر آنے والے سال اضافہ ہوتا گیا۔ ان رپورٹوں میں عمر بھر کے لئے معذور کئے جانے، جنسی تشدد، اغواء، زنا، خود کشی، چولہا پھٹنے اور تیزاب سے جلائے جانے کی دلخراش داستانیں شامل ہیں۔جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونے والی اکثر خواتین اپنے اوپر بیتے ہوئے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے تذبذب کا شکار رہتی ہیں ایسا کہہ دینے والی اپنے یا اپنے خاندانی وقار کو کھو دینے والے سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں زیادتی کے متاثرین افراد معاشرے کی نظروں میں گر جانے کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ کئی سماجی بہبود کے ادارے خواتین کو با اختیار بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن تمام خواتین ان ذرائع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی ہیں یا تو وہ ایسی مدد کی دستیابی سے لاعلم ہیں یا اپنے خاندان کے لئے بدنامی کا سبب بننے سے خوفزدہ ہیں۔ 

جب عورت اور مرد کے حوالے سے برابری کی بات کی جاتی ہے تو یہ مکمل طور پر انسانی شعور کے ارتقاء کا نتیجہ ہے، کلچر اور تہذیب کی ترقی ہے، انسانوں نے صدیوں کی تعلیم، تجربے اور تہذیب و تمدن کے بعد یہ سیکھا ہے کہ تمام انسان مرد و عورت برابر ہیں۔ یوں برابری کا یہ تصور انسانی تصور ہے جو فطرت کے کسی اور مظہر یا مخلوق میں نظر نہیں آتا۔ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اگر ہم نے ایک انسانی معاشرے کو تشکیل دینا ہے تو پھر ہمیں انسانی تصور کے مطابق زندگی گزارنی ہو گی اور اگر جنگل کا معاشرہ ہمارا مقصد ہے تو پھر طاقتور اور کمزور، برتر اور کمتر کی تقسیم کو برقرار رکھنا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے بعض معاملات میں مرد جسمانی طور پر عورت سے زیادہ طاقتور ہو خصوصاً جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو وہ سخت کام نہیں کر سکتی، تیز حرکت نہیں کر سکتی، اس وقت مرد اسے جنگل کی آفات سے محفوظ رکھتا ہے، لیکن یہ بھی دیکھیے کہ اس دور میں عورت کا کام کتنا طاقتور ہے، وہ بچے کو جنم دیتی ہے، زندگی کو محفوظ کرتی ہے۔ جدید معاشرے میں جسم کی طاقت سے زیادہ علم و فنون میںمہارت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب تمام کام ذہن سے سر انجام دیا جاتا ہے حتیٰ جنگیں بھی میدانوں کی بجائے ذہنوں سے لڑی جاتی ہے جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوسکتی ہیں۔ اگر آج عورت کے مطالبات پر غور کریں تو وہ ایک فرد ایک انسان کے طور پر زندہ رہنے کی خواہاں ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے کمزور، لاچار اور بوجھ بنا کر ترس نہ کھایا جائے، بلکہ سر اٹھا کر جینے اور صلاحیتیں آزمانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بہر حال اتنے سالوں کی جد و جہد اور شعور نے آج کی عورت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب غلامی کی زنجیریں پہن کر جینا اس کے بس میں نہیں رہا۔ وہ بطور انسان جینا چاہتی ہے۔ عورت نے کسی ایسے عمل کی نفی نہیں کی جو اس کے وجود کا وظیفہ ہے۔ اس نے بچے پیدا کرنے ترک نہیں کئے، صرف اولادِ نرینہ کی خواہش میں درجن بھر بچے اور دوسری شادی کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔اس نے ونی ہونے، کم عمری میں شادی، تعلیم ترک کرنے، غیرت کے نام پر قتل ہونے اور مالِ غنیمت بننے سے انکار کیا ہے۔ آج 8 مارچ ہے اس کو احساس دلائیے کہ وہ کتنی اہم ہے۔ اس کے ذہن کی سلیٹ سے ڈر، خوف اور خدشات زائل کرنے کے لیے پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔    


ای پیپر