Sumaira Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
08 مارچ 2021 (11:52) 2021-03-08

یہ حقیقت اب سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار چاہتے ہیں کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں جنوبی پنجاب کے لوگوں کو تخت لاہور کے چکر نہ کاٹنے پڑیں جس کے لیے  ابتدائی طور پر پندرہ محکموں کے سیکرٹری جنوبی پنجاب میں تعینات کیے گئے اور باقی سات محکموں کی قانونی پیچیدگی کو ختم کر کے منتقل کیا جائے گا۔

بدقسمتی اب یہ واویلا مچایا گیا کہ حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے .جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے 7 اہم محکمے ختم کر دیئے گئے۔سات محکموں کے سیکرٹریز کے عہدے بھی ختم کرنے کی منظوری دیدی گئی، جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں کام بہتر انداز میں نہ چلنے اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث محکمے ختم کئے گئے ،صرف 15محکموں کے سیکرٹریز جنوبی پنجاب میں بیٹھیں گے  اور باقی سات محکمے ختم کیے گئے جن میں محکمہ داخلہ، محکمہ خزانہ، محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،محکمہ ریگولیشن، محکمہ قانون اینڈ پارلیمانی ا فیئرز، پراسیکیوشن شامل ہے۔ جو 15محکمے جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں کام کریں گے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کے پاس جنوبی پنجاب سے متعلق اختیارات ہوں گے۔ وہ کسی بھی سیکرٹری کو عہدے سے ہٹا یا تعینات کرنے کی سفارش سے ہو گا۔

یہاں پر ایک بات بتاتی جاؤں کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی پہلی تنخواہ بہاولپور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے دفتر سے ایشو ہوئی جو بڑی خوش آئند بات ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اپنے  جوش سے کام کر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب کے عوام کو مکمل بااختیار سیکرٹریٹ دے دیا ہے۔ آج سے اڑھائی سال قبل اسی ماہ اگست میں سردارعثمان نے جب وزیر اعلی پنجاب کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔اس دوران انہوں نے اپنے وسیب کے لوگوں سے وعدہ کیا تھا۔وہ ان کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔عثمان بزدار ایک محب وطن سچے پاکستانی ہیں۔وہ شاعر کے اس کلام کو برملا اپنا عزم کہتے ہیں۔ تو بھی پاکستان ہے۔میں بھی پاکستان ہوں۔ یہ تیر اپاکستان ہے۔ یہ میرا پاکستان ہے۔اور اپنے اسی وڑن کے مطابق پنجاب کے ہرشہری کو برابر کے حقوق فراہم کرنے میں کوشاں ہیں۔اس تناظر میں کچھ سیاسی مخالفین کا خیال تھا کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ لولی پاپ ہے۔صرف کاغذی کاروائی ہوگی۔اس سے بات آگے نہیں بڑھے گی۔ جوایڈیشنل چیف سکریٹری ،ایڈیشنل آئی جی اور سکریٹریز تعینات کئے جائیں گے۔ ان کے 

پاس کچھ اختیارات نہیں ہوں گے۔مگر مخالفین کی قیاس آرائیاں و چہ میگوئیاں اور ان کی بنیاد پر کی گئی تمام سازشیں خاک میں مل گئی ہیں۔الحمداللہ پسماندہ علاقہ ڈیر ہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار نے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کر دکھایا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے عزائم کو پورا کیا ہے بلکہ جنوبی پنجاب خطہ کے مکینوں کو  پسماندگی ،بیروزگاری اور محرومیوں جیسے دیرینہ المیوں سے نجات دلاکر دم لیا ہے۔

سردار عثمان بزدار خود کو نمایاں کرنے کا شوق نہیں رکھتے بلکہ ٹھوس کارکردگی دکھانے پر یقین رکھتے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے صوبے کے عوام کی بھلائی کے لیئے وہ اقدامات اٹھائے ہیںجو ماضی کی حکومتیں نہیں کرسکیں۔جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کا قیام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جو وزیراعلیٰ نے نہایت قلیل مدت میں مکمل کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔پنجاب کابینہ کے 34ویں اجلاس میں جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کے لیئے پنجاب رولز آف بزنس میں ترامیم کرلی گئی ہیں۔جس کے مطابق 15صوبائی محکموں کے سکریٹریز جنوبی پنجاب سکریٹریٹ میں کام کریں گے۔جن میں تعلیم ،صحت ، آب پاشی،لائیواسٹاک ، جنگلات ،محکمہ داخلہ ، ہائوسنگ ، بورڈ آف ریونیواور ایس اینڈ جی اے ڈی کے محکمہ جات شامل ہوں گے۔جنوبی پنجاب میں پیپر فری ورکنگ کرے گا۔یاد رہے کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ ملتان اور بہاول پور میں بنایا گیا ہے۔ایڈیشنل چیف سکریٹری بہاول پور میں بیٹھ رہے ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی ملتان میں کام کررہے ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی پنجاب سکریٹریٹ کا خواب پورا کرنے کی جدوجہد میں مقامی قیادت کی کاوشیں قابل ستائش رہی ہیں۔جن میںشاہ محمود قریشی ، خسرو بختیار ، ملک فاروق اعظم اور سمیع اللہ چوہدری شامل ہیں۔یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ وزیر اعلی نے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور ایڈیشنل آئی جی کو جنوبی پنجاب کے بڑے افسران مقرر کرتے ہوئے آئین کے مطابق انہیں اختیارات بھی سونپ دیئے ہیں۔ 

جنوبی پنجاب سرائیکی خطہ پر مشتمل ہے۔ یہ خطہ اپنی ایک ہی تہذیب ، ایک ہی ثقافت اور ایک ہی جغرافیہ رکھتا ہے۔ جس کے وارث سردار عثمان بزدار ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سرائیکی وسیب کے ہونہار سپوت کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر دیکھ کرخطہ کے عوام کے دل خوشی سے جھوم اٹھے ہیں۔ مگر مٹھی بھر مخالفین اور اپوزیشن کے لوگ ذاتی پسند ناپسند اور حسد رکھتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کو ہٹاکر کسی اورکو صوبے کا سربراہ بنایا جائے صوبائی اسمبلی بھی توڑ دی جائے۔اس مخالفت برائے مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ عثمان بزدار جو کہتے ہیں وہ پورا کرکے دکھاتے ہیں۔سیاسی حریفوں کے دلوں میں خوف ہے کہ سردار عثمان بزدار اسی یک سوئی اور دل جمعی سے دن رات کام کرتے رہے تو اگلے الیکشن میں ن لیگ ووٹ مانگنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی۔ اس طرح مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک کو شدید دھچکا لگے گا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی اور ن لیگ کی سیاست اور خدمت واضح ہوچکی ہے۔

عوام کی خدمت کے ہر چھوٹے بڑے کام کی وزیراعلیٰ خود نگرانی کرتے ہیں۔چاہے عیدقرباں کے تینوں ایام میں پورے پنجاب بھر میں صفائی کے جو انتظامات کئے گئے تھے۔ وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔عیدوالے دن عثمان بزدار نے بذات خود لاہور میں صوبائی مانیٹرنگ سیل کا وزٹ کیا۔ اور صوبہ بھر کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دیں کہ صفائی ستھرائی کے کاموں میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔حکومتی رٹ بھرپور نظر آئی۔ایسے اقدامات کا تسلسل جاری ہے جن کی بدولت سردار عثمان بزدار نے عوام کے دلوں میں گھر کرلیا۔

تحریک انصاف کی حکومت اپنے منشور میں جنوبی پنجاب کی خوشحالی کا بڑا منصوبہ رکھتی ہے۔ اب نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت رینالہ خورد ، لودھراں اور چشتیاں کے لیئے منظور شدہ پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ فاٹا کو پنجاب میں کسی بھی ہائوسنگ اسکیم لائونچ کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ جس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔سابقہ دور حکومت میں شوباز شریف نے اپنی اور اپنے بھائی کی شوگر ملز لگائیں۔ جس کے باعث پنجاب شوگر فیکٹریز سرکل ایکٹ میں ترمیم ہی نہیں کی گئی۔ من پسند کاشتکاروں سے گنا لیا جاتا تھا۔مگر اب عثمان بزدار نے اس ایکٹ میں ترمیم کی۔ جو شوگر مل گنے کی خریداری کرے گی۔ وہ کاشتکار کو پکی رسید دے گی۔ مل جاری کردہ رسید پر گنے کا وزن ، قیمت اور تاریخ درج کرنے کی پابند ہوگی۔کاشتکار کو بنک کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔ جبکہ کاشت کار کو نوٹیفائیڈ ریٹ ملے گا۔

حالات جیسے بھی ہوں سیاسی مخالفین چاہے کچھ کرلیں۔وزیر اعظم عمران خان آج بھی کوہ سلیمان کے باسی، عوام کے مسیحا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے صوبہ پنجاب کے عوام کی خدمت کی باگ ڈور ان ہی کے ہاتھ میں تھمادی ہے۔عوام کابھی اپنے صوبے کے اس سربراہ سے بے لوث پیار اور خلوص کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ اور وہ ہم آواز ہیں۔


ای پیپر