جسے خودخدا بلائے اُسے آپ کیا کہیں گے؟ 
08 مارچ 2021 2021-03-08

 میرے ماں باپ، حضور پہ قربان ایک رمضان المبارک کے گزرتے ہی وہ دوسرے ماہ رمضان کا شدت سے انتظار فرمانے لگتے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو رمضان شریف سے والہانہ پیارتھا، پیار کیوں نہ ہوتا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا تو فرمان ہے، کہ رمضان میرا مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب نے ہرنیکی کا اجروثواب مقرر فرمارکھا ہے مگررمضان المبارک کے روزوں کے اجروثواب کا کسی کو پتہ نہیں، کیونکہ اس کا اجراللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، اور اس بے پایاں اور ناقابل یقین معاوضے کے اعدادوشمار کو اس دنیا میں مخفی رکھا گیا ہے، اس کی صرف ایک جھلک یہ ہے کہ رمضان المبارک میں جاں بحق ہونے والا ہرشخص سیدھا جنت الفردوس میں جاتا ہے اور جنت الفردوس کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، بخاری شریف، اور کتاب الصیام، مسلم، رسول پاک نے فرمایا ہے ماہ رمضان کے آتے ہی آسمان یعنی جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیریں پہنا دی جاتی ہیں۔ 

قارئین چونکہ یہ مہینہ رجب کا ہے، اس حوالے سے ہمارے حضور کے احکامات مبارکہ جو ہمیں بزرگان دین کے حوالے سے ملے ہیں، اس میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیائؒ کے فرمودات جو مجھے یادہیں آپ کی معلومات میں اضافے کیلئے تحریر کررہا ہوں، ہوسکتا ہے، کہ آپ کو بھی اس حوالے سے معلومات پہلے سے موجود ہوں، تو پھر اعادہ سبق ہو جائے گا۔ ہمارے اسلاف ماہ رجب کی پچیسویں کو روزہ ضروررکھتے تھے، اسی حوالے سے حدیث قدسی میں آیا ہے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر میں اپنے کرم سے اس روزہ دار کی بخشش نہ کروں، تو میں اس کا پروردگار ہی نہیں۔ تاریخ جن وانس گواہ ہے، کہ ازل تا ابد اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے بالمشافہ ملاقات کا سوائے جناب حضور کے کسی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے نہ ہوگا، آپ کو معراج کی سعادت بھی ماہ رجب کی ستائیسویں کو نصیب ہوئی۔ میں جب لکھتے ہوئے ان سطور پر پہنچا تو میرے ذہن میں رچی بسی یہ نعت شریف ، آنسوﺅں کی رم جھم میں بالیدگی مراتب ودرجات کا باعث بن جاتی ہے، حضور سرورکائنات ، فخر موجودات کا احاطہ سیرت ومراتب کا کوئی پیمانہ کوئی کسوٹی نہیں، کیونکہ قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ جس پیار، جس اپنائیت وانسیت کا والہانہ پن سے اظہار محبت وعشق فرماتا ہے، اور اسی بے اختیار پیار کا احاطہ تو ناممکن ہے، کیونکہ اہلیت رسول آخرزمان ولامکان کا اندازہ اس درود پاک سے لگائیے، کہ رسول پاک کے خود فرمان کے مطابق صرف ایک دفعہ درود پاک پڑھنے کا ثواب مسلسل رات دن ساٹھ فرشتے، ساڑھے تین سال لکھتے جاتے ہیں، جب سے فرشتے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں، جو فرشتے رکوع میں ہیں، جوسجود میں ہیں قیامت تک اسی حالت میں رہیں گے، نہ تو انہیں اکتاہٹ ہوتی ہے، اور نہ ہی انہیں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس درود پاک پڑھنے سے اور اس کا ثواب لکھتے لکھتے فرشتے تھک جاتے ہیں، وہ درودپاک یاد کرلیں وہ یہ ہے ، جزاللہ عنا محمدصل اللہ علیہ وسلم ماھوواھلہ، اس کا لفظی مطلب ہے، اللہ تعالیٰ جزادے محمد رسول اللہ ﷺ کو ان کی اہلیت کے مطابق اور ان کی اہلیت کا کوئی تعین ہی نہیں کرسکتا، تاہم بزرگان دین کے مطابق اس کا ثواب مذکورہ بالا سطور میں کردیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ، سب کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، درود پاک کا ذکرتو ہوگیا ، جس نعت شریف کا ذکر میں کررہا تھا، وہ پاکستان کے صف اول کے نعت خواں جناب قاری وحید ظفرقاسمی نے گزشتہ معراج مبارک والی رات کو سنائی تھی اس میں بھی حضورپاک کے مراتب ودرجات کا ذکر خوش الحانی اور خوش اسلوبی سے کیا گیا ہے، ویسے تو حضرت عبدالمطلب حضرت حسانؓسے لے کر مجددنعت جناب حفیظ تائب ؒ، مظفروارثی صاحب، خالداحمد، احمد ندیم قاسمی، مظفر علی شاہ نیر، رانا بھگوان داس، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی غرضیکہ سکھوں، ہندوﺅں، اور مذاہب غیر کے شعراءکرام، اور نثرنگاروں نے اپنی استعداد علم کے مطابق حضور کریم کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے، اور نعت گوئی کا مقام کا اندازہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، کے اس عمل انمول سے لگائیے، کہ وصال محمد کے بعد حضرت حسان ؓ جنہوں نے آپ کی شان مبارک پہ اشعار لکھے تھے، حضرت حسانؓ کو منبررسول پہ بٹھا دیا تھا، اور فرمایا تھا کہ میرے سرکے ہی نہیں” جگ کے تاج“ کی عظمت بے مثال پہ اشعار انہوں نے کہے تھے، قارئین دورموجود کے شاعر کی نعت سنئے،

سرِ طورکوئی جائے اُسے آپ کیا کہیں گے

جسے خود خدابلائے اُسے آپ کیا کہیں گے؟

جوکرے کلام رب سے، وہ لقب کلیم پائے!

جوکلام رب سنائے اُسے آپ کیا کہیں گے 

جوخطامعاف کردے، وہ خدا¿لم یزل ہے

جوخطائیں بخشوائے اُسے آپ کیا کہیں گے

کوئی اُس کی عظمتوں کی نہ مثال ہے نہ ہوگی

جوخداسے مل کے آئے اُسے آپ کیا کہیں گے 

جوقمر کو توڑتا ہو، جودلوں کو جوڑتا ہو!

جویہ معجزے دکھائے اُسے آپ کیا کہیں گے

قارئین ریاست مدینہ کے بانی کی باتیں سننے کی سعادت آپ نے حاصل کرلی، موجودہ دورپاکستان جسے حکمران ریاست مدینہ کا نام لے کر رعایا پہ مہنگائی برپا کرنے کی جرا¿ت کرتے ہیں، فرانس کے صدر کی طرف سے ناموس رسالت پر بیان بازی کے بعد ہفتہ میلاد منایا گیا تھا اس وقت حضور کی شان پہ مضمون نویسی، اور ڈاکو منٹری بنانے پر بیس لاکھ کا اول انعام، اور بالترتیب دوم، سوم کا اعلان کیا گیا تھا، اس حوالے سے کچھ لوگوں نے مجھ سے استفسار کیا ہے، کہ انعام کا کیا بنا؟ اسے مشتہر کیوں نہیں کیا گیا؟ جبکہ میں انہیں سمجھاتا ہوں، کہ حضور کی سیرت مبارکہ پہ لکھنا، کیا یہ کم سعادت ہے، کیونکہ کروڑوں، اربوں کی رقم بھی اس سعادت کا معاوضہ نہیں ہوسکتی۔ 


ای پیپر