” اپنی خواتین کے نام ۔۔“
08 مارچ 2020 2020-03-08

میں اپنی خواتین سے’ میرا ’جسم میری مرضی ‘پر اس لئے زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ اگر ہمارے جسموں پر ہماری ہی مرضی ہوتی توہم کبھی بیمار نہ ہوتے، کبھی کوئی معذور جسم اپنے لئے نہ رکھتے، کبھی اسے فنا نہ ہونے دیتے، جی ہاں،یہ مرضی کسی اورکی ہے جو ہمارے جسموں کے لئے رنگ، نسل، علاقے ، خاندان اورمدت کا انتخاب کرتا ہے۔ میرے آج کے کالم کی مخاطب صرف مسلمان خواتین ہیں، جو کلمہ پڑھتی ور اللہ عزوجل پر یقین رکھتی ہیں کہ اگر میں ان سے بات کروں جو ایمان سے خالی ہیں تو پھر بات بہت پھیل جائے گی۔ جب آپ کو خود کشی کی اجازت نہیں ہے تو یہ کھلی ڈلی دلیل ہے کہ آپ کا آپ کے جسم پر کوئی حق نہیں ہے۔آپ کی روح آپ کے جسم میں ایک کرائے دار کی طرح ہے جسے اس مکان کے نقشے کو تبدیل کرنے، گرانے یا تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اسی کی بنیاد پر بہت سارے عالم دین ایک انتہائی مثبت اور مفید سرگرمی یعنی اعضا عطیہ کرنے کو بھی غیر اسلامی اور غیر شرعی قرار دیتے ہیں۔ آپ کے پاس تو یہ حق بھی نہیں کہ اگر آپ کا بدن گندا اور ناپاک ہوجائے تو آپ اسے ایسے ہی چھوڑ دیں۔

آپ کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان عورتوں کے حقوق کے حوالے سے دنیا کے دس بدترین ممالک میں شامل ہے مگر یہاں پیمانہ مغربی استعمال ہوتا ہے،یعنی وہ ہمیں اپنی عینک سے دیکھنا چاہتے ہیں اور پھر ہمیں بدرنگ کہتے ہیں۔ اگر’ میرا جسم میری مرضی‘ کا مطلب یہ ہے کہ جبری شادیاں نہیں ہونی چاہئیں تو اسلا م اس کی کب مخالفت کرتا ہے۔کیا آپ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کا واقعہ پڑھا ہے کہ وہ کس قدر بولڈ پروپوزل تھا لیکن آپ عورت مارچ کے مطالبات میں صحت کے شعبے میں چاروں مطالبات دیکھیںتو حیران رہ جائیں کہ یہ سب کے سب اسقاط حمل، مانع حمل ادویات اور جنسی تعلیم کے گرد گھومتے ہیں تو کیا یہ واضح نہیںہوجاتا کہ یہ زنا کو عام کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان میں اسقاط حمل پر قانونی پابند ی ہے اور یہ عمل کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹر کی سفارش کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ یہ درست ہے کہ تولیدی مسائل صرف عورت کے ہیں مگر دوسری طرف یہاں چاروں سفارشات ( اکتیس تا چونتیس)بغیر کسی سوال کے ابارشن کی قانونی اجازت اورمعاشرتی قبولیت کے گرد گھومتی ہیں۔

یہ دور پروپیگنڈے کا ہے، ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا ہے،ایک سینئر صحافی نے ٹوئیٹ کی، کہا، ’ عورت کے ساتھ امتیازی سلوک پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے، اسے زندگی کی دوڑ میں جان بوجھ کے پیچھے رکھاجاتا ہے، ، تعلیم سے محروم کر کے، ملازمت سے روک کے، معاشی طور پر محتاج رکھ کے۔ اسے بے نام رکھا جاتا ہے یعنی فلاں کی بیوی فلاں کی ماں۔ اورکوئی گالی عورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ظاہری طو ر پر یہ باتیں درست لگتی ہیں مگر میں شرط لگا کر کہہ سکتاہوں کہ میرے معاشرے میں باپ اپنی بیٹیوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ میں نے ابھی کل بے نظیر انکم سپورٹ کے لئے بارش میں کھڑی ایک عورت سے حالات پوچھے، اس نے بتایا کہ دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، نئے پاکستان میں وہ سب کو نہیں پڑھا سکتی لہٰذا اس نے دونوں بیٹوں کو سکول سے اٹھا لیا ہے صرف بیٹیاں جا رہی ہیں۔ صرف لاہور میں ہی لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد کا موازنہ کر لیجئے، لڑکیوں کے سرکاری سکول زیادہ ہیں۔ آگے بڑھتے ہیں پنجاب یونیورسٹی سمیت اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں چلے جائیے، لڑکیوں کی تعداد آپ کو دوگنی ملے گی۔ جب ’ اے لائیٹ ‘ ٹی وی نئی بات میڈیا گروپ کے پاس آیا تو میں نے ایک پروگرام کیا کہ حکومت پنجاب نے میڈیکل کالجز میں لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعدا د کے پیش نظر لڑکوں کے لئے پچاس فیصد نشستیں مختص کر دی تھیں جس کی میں نے مخالفت کی ۔سوچئے کہ اگر لڑکیوں کو پڑھنے کے مواقع نہیں مل رہے تو پھر یہ سب کیا مریخ سے اتر رہی ہیں، اور رہ گئی گالی، یہ ان الفاظ کو کہتے ہیں جن سے کسی کی عزت کو خراب کیا جاتا ہے۔ عورت کی گالی اس لئے ہے کہ ہماری عورتیں ہی ہماراعزت او ر وقار ہیں ۔ اس کے ساتھ دوسری گالی باپ کی بھی ہے کیونکہ اس سے بھی شان جڑی ہے۔

کیا عورت کو ملازمت سے روکنا اسے معاشی طور پر محتاج رکھنا ہے تو اس بارے ان عورتوں سے پوچھئے جنہیں نہ صرف نوکری کرنا پڑتی ہے بلکہ آٹھ گھنٹے دفتر میں کام کرنے کے بعد جب وہ گھر میں کھانا پکانابھی کرتی ہیں تویہاں کچھ چالاک مرد اپنی گاڑی کے اس پہئے کو دوگنا چلاتے ہیں جسے نازک کہا جاتا ہے۔ یہ فلسفہ کمرشلائزیشن کا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں جبکہ سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ ذمہ داریاں تقسیم کرو، مردباہر جا کے کمائے اور عورت گھر کا انتظام چلائے۔ یہ مرداس بیل کی طرح بہت چالاک ہیں جو گائے کادودھ بھی دوہتے ہیں اور پھر اسے متوازی حیثیت کے نام پر ہل کے آگے بھی جوت دیتے ہیں۔ یہ اتنے بدنیت ہیں کہ یہ عورت کو کم سے کم کپڑوں میں رہنے کو آزادی بتاتے اور سمجھاتے ہیں تاکہ ان سے آنکھیں سینکتے رہیں۔ اسقاط حمل کو عورت کا حق قرار دیتے ہیں تاکہ وہ زنا کے لئے دستیاب رہے۔ رہ گئی بات باپ اور شوہر کے نام کی تو سوچئے کہ یہ ہمارا مسئلہ کب ہے۔ یہ مسئلہ تو ان بدبختوں کا ہے جن کے باپ کا نام ہی کسی کو علم نہیں اور جن کے ہاں ایک شوہر رکھنے کا رواج ہی ختم ہوچلا ہے۔

اب عورت کے آدھے ہونے کے پروپیگنڈے پر بات کر لیتے ہیں۔ وراثت ،علم معاشیات کا باب ہے جوا قتصادی حقوق و مراعات کی بحث کرناہے۔ اسلام، عورت پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ڈالتا یعنی اس کاخرچ باپ، بھائی، شوہر اور بیٹوں کے ذمے ہے اور اگر وہ خودکچھ کماتی ہے تو اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں۔ کیا یہ ایک زبردست انعام نہیں کہ آپ کے ذمے کچھ بھی نہیں مگر آپ آدھے معاوضے اور مال کی حقدار ہیں۔ یہ تو وہ دلچسپ صورتحال ہے جس پر مردوں کو احتجاج کرنا چاہئے کہ ذمہ داریاں سب ہم پر اور جب مال ملنے لگے توپہلے باپ سے بھی مل جائے اور پھر شوہر سے بھی۔ اسی قسم کی بدگمانی گواہی کے بارے پھیلائی جاتی ہے جیسے گواہی کوئی بہت بڑا انعام و اکرام ہے جس کا نہ ہونا محرومی کا باعث ہے۔ میں نے آج کے جدید ترین دور میں بھی طاقت ور ترین مردوں کو بھی گواہی کی ذمے داری سے بھاگتے ہوئے دیکھا ہے۔ پولیس ڈھونڈتی پھرتی ہے اور گواہ چھپتے پھرتے ہیں کہ عدالتوں کا ماحول اور گواہی کا انجام ہی کچھ ایسا ہے۔ کیا آپ پسند کریں گی کہ آپ کو عدالتوں میں بلایا جائے؟

کتنی بری بات ہو کہ آپ کو برابری کے نام پرکمانے کے لئے سخت گرمی یا سخت سردی میں باہر دھکیل دیا جائے جبکہ آپ کے ساتھی عورتیں جو اسلام کے دئیے ہوئے مقام پر مطمئن ہیں اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوں اور اپنے وقت کو انجوائے کرتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جہاں تک عورتوں سے ہونے والے جرائم کی بات ہے کہ ان کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا جاتاہے، انہیں کہیں ونی کر دیا جاتا ہے اور کہیں قرآن سے بیاہ دیا جاتا ہے، انہیں بعض مقامات پر تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے،انہیں ہراساں کیا جاتا اور ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں جائیداد میںحصہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف احتجاج اور آواز اٹھانا ہم سب کا فرض ہے لیکن دوسری طرف تصور کیجئے کہ جس روز مردوں نے اپنی ذمہ داریوں اور پابندیوںکی آزادی مانگ لی، یہ سوچا کہ وہ جس خاندان پر زندگی بھر کی کمائی لٹا دیتے ہیں اور زندگی اگر ذمہ داریوں کے بجائے صرف انجوائے منٹ کا نام ہے اور وہ یہ انجوائے منٹ خاندان پر خرچ کئے ہوئے روپوں سے ایک چوتھائی سے بھی کم میں کہیں زیادہ حاصل کر سکتے ہیں تو پھر سب کچھ تباہ ہوجائے گا اور اس تباہی کا زیادہ بڑا شکار عورت ہو گی۔ وہ عورت جسے کچھ گمراہ مرداور عورتیں کچھ جرائم کو بنیاد بنا کے محض اپنے آرام اور چسکوں کے لئے ایک نئی رنگین مگر تلخ ترین دنیا میں دھکیلنا چاہتے ہیں، گھر کی جنت کو دوزخ میں بدلنا چاہتے ہیں۔


ای پیپر