پاک بھارت ایٹمی جنگ سے متعلق امریکی اخبار کے ہوشربا انکشافات
کیپشن:   Image Source : Twitter
08 مارچ 2019 (22:05) 2019-03-08

نیویارک : معروف امریکی اخبار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات اس وقت تک موجود رہیں گے ب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرلیتے، مسئلے کے ساتھ مذہبی اور قومی پہلو جڑے ہوئے ہیں جس کا حل بھارت، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات سے ہونا چاہیے، پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوامن کی خاطر خیر سگالی کے طور پر گرفتاری کے دو روز بعد ہی رہا نہیں کیا جاتا تو تنازع قابو سے باہر ہوسکتا تھا،ونوں ممالک خطرناک سرحد پر ہیں جہاں بھارت، پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور دونوں ممالک فضائی طور پر بھی آمنے سامنے آتے ہیں، اگلی کشیدگی یا اس کے بعد مزید ناقابل تصور ہوسکتی ہے۔ جمعہ کو پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں پاکستانی حکومت کی امن پسندی اور دانشمندانہ حکمت عملی کی تعریف کی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلواما میں حملے کے بعد دونوں ایٹمی طاقت کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں تک ایک اور خطرناک کشیدگی کے خطرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مسئلے کے ساتھ مذہبی اور قومی پہلو جڑے ہوئے ہیں جس کا حل بھارت، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات سے ہونا چاہیے، یہ ایک طویل عمل ہے جس کے لیے مرکزی فریقین نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی لیکن یہ حقیقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پاک- بھارت حالیہ کشیدگی کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوامن کی خاطر خیر سگالی کے طور پر گرفتاری کے دو روز بعد ہی رہا نہیں کیا جاتا تو تنازع قابو سے باہر ہوسکتا تھا ۔نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ دونوں ممالک خطرناک سرحد پر ہیں جہاں بھارت، پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور دونوں ممالک فضائی طور پر بھی آمنے سامنے آتے ہیں، اگلی کشیدگی یا اس کے بعد مزید ناقابل تصور ہوسکتی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے، افواج سرحدوں پر تیار کھڑی ہیں اورروایتی حریفوں کے درمیان مذاکرات کا بھی کوئی امکان نہیں۔ امریکی اخبارکے اداریئے میں کہا گیا ہے کہ جنگ چھڑ جانے کی صورت میں دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرسکتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے سے ہونے والے نقصانات کاحجم سوچ سے زیادہ رہےگا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق مودی پاکستان کے خلاف ہندو انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور بھارتی میڈیا جلتی آگ پرتیل کاکام کررہا ہے جبکہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرکے خیرسگالی کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ امریکی اخبار نے بھی بھارت کے پاکستان پر حملے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے دعوے کومشکوک قراردیا ہے۔نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا، ایسی ہی کشیدہ صورتحال کا سامنا رہے گا، پلوامہ حملے کے بعد سے اب تک پاک بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن جنگ کےبادل چھٹیں نہیں ہے۔


ای پیپر